Vinkmag ad

انٹرسٹیشل سسٹائٹس: مثانے کے درد اور بار بار پیشاب کی بیماری

A woman holding her lower abdomen due to pain and discomfort caused by interstitial cystitis (painful bladder syndrome)

انٹرسٹیشل سسٹائٹس (Interstitial Cystitis) کو مثانے کے درد والا سنڈروم (Painful Bladder Syndrome) بھی کہا جاتا ہے۔ یہ مثانے کی ایک طویل مدتی بیماری ہے، جس کی بنیادی علامات مثانے میں درد، دباؤ اور بار بار پیشاب کی حاجت ہیں۔ بعض مریضوں کے پیلوس میں بھی درد ہوتا ہے، جو ہلکی تکلیف سے لے کر شدید نوعیت تک ہو سکتا ہے۔

مثانہ ایک کھوکھلا اور عضلاتی عضو ہے، جو پیشاب کو ذخیرہ کرتا ہے۔ جب مثانہ بھر جاتا ہے تو پیلوک اعصاب کے ذریعے دماغ کو پیشاب کرنے کا اشارہ بھیجتا ہے۔ انٹرسٹیشل سسٹائٹس میں ان اعصابی اشاروں کا عمل متاثر ہو جاتا ہے۔ اس کے باعث مریض کو بار بار اور فوری پیشاب کی حاجت محسوس ہوتی ہے، حالانکہ مثانے میں پیشاب کی مقدار کم ہوتی ہے۔

یہ بیماری خواتین میں مردوں کی نسبت زیادہ پائی جاتی ہے اور طویل عرصے تک زندگی کے معیار کو متاثر کر سکتی ہے۔ اگرچہ اس کا مکمل علاج موجود نہیں، لیکن ادویات، جسمانی تھراپی، طرزِ زندگی میں تبدیلیوں اور دیگر علاج کے ذریعے علامات کو کافی حد تک قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔

علامات

انٹرسٹیشل سسٹائٹس کی علامات ہر مریض میں مختلف ہو سکتی ہیں۔ وقت کے ساتھ ان کی شدت میں بھی تبدیلی آ سکتی ہے۔ ماہواری، طویل وقت تک بیٹھنا، ذہنی دباؤ، ورزش اور جنسی تعلق بعض مریضوں میں علامات کو بڑھا سکتے ہیں۔ علامات یہ ہیں:

٭ خواتین میں پیلوس یا وجائنا اور مقعد کے درمیان درد

٭ مردوں میں خصیوں اور مقعد کے درمیان درد

٭ پیلوس میں مسلسل درد

٭ بار بار اور پیشاب کی فوری اور شدید حاجت

٭ دن اور رات میں بار بار کم مقدار میں پیشاب آنا (بعض اوقات روزانہ 60 مرتبہ تک)

٭ مثانہ بھرنے پر درد یا تکلیف محسوس ہونا، جبکہ پیشاب کرنے کے بعد آرام ملنا

٭ جنسی تعلق کے دوران درد ہونا

علامات کی شدت ہر شخص میں مختلف ہوتی ہے۔ بعض مریضوں میں کچھ عرصے تک کوئی علامت ظاہر نہیں ہوتی۔

اگرچہ اس بیماری کی علامات پیشاب کی نالی کے طویل مدتی انفیکشن سے ملتی جلتی ہیں، لیکن عموماً اس میں انفیکشن موجود نہیں ہوتا۔ تاہم اگر مریض کو پیشاب کی نالی کا انفیکشن ہو جائے تو علامات مزید شدید ہو سکتی ہیں۔

ڈاکٹر سے کب رجوع کریں

اگر آپ کو مثانے میں مسلسل درد، بار بار پیشاب کی شدید حاجت یا معمول سے زیادہ بار پیشاب آنے کی شکایت ہو تو جلد از جلد ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

وجوہات

انٹرسٹیشل سسٹائٹس کی اصل وجہ ابھی تک معلوم نہیں ہو سکی۔ ماہرین کے مطابق کئی عوامل مل کر اس بیماری کا سبب بن سکتے ہیں۔ ممکنہ وجوہات میں شامل ہیں:

٭ مثانے کی حفاظتی اندرونی تہہ میں خرابی

٭ پیشاب میں موجود نقصان دہ مادوں کا مثانے کی دیوار کو متاثر کرنا

٭ مدافعتی نظام کا غیر معمولی ردعمل

٭ موروثی عوامل

٭ بعض انفیکشن

٭ الرجی

خطرے کے عوامل

درج ذیل عوامل اس بیماری کا خطرہ بڑھا سکتے ہیں:

٭ خواتین میں اس بیماری کی تشخیص مردوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے

٭ زیادہ تر مریضوں میں تشخیص 30 سال یا اس سے زیادہ عمر میں ہوتی ہے

٭ اریٹیبل باؤل سنڈروم (آئی بی ایس) یا فائبرو مائلجیا جیسی دائمی درد کی بیماری کا ہونا

ممکنہ پیچیدگیاں

انٹرسٹیشل سسٹائٹس کے باعث درج ذیل پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں:

٭ مثانے کی گنجائش کم ہو جانا

٭ روزمرہ زندگی، ملازمت اور سماجی سرگرمیوں میں رکاوٹ پیدا ہونا

٭ ازدواجی تعلقات متاثر ہونا

٭ ذہنی دباؤ، بے خوابی اور ڈپریشن کا خطرہ بڑھ جانا

تشخیص

مرض کی تشخیص کے لیے ڈاکٹر مختلف معائنے اور ٹیسٹ تجویز کر سکتے ہیں، جن میں شامل ہیں:

٭ میڈیکل ہسٹری اور پیشاب کی ڈائری کا جائزہ

٭ پیلوس کا جسمانی معائنہ

٭ پیشاب کا ٹیسٹ، تاکہ پیشاب کی نالی کے انفیکشن کی تصدیق یا تردید کی جا سکے

٭ سسٹوسکوپی، جس میں باریک کیمرے سے مثانے کا اندرونی حصہ دیکھا جاتا ہے

٭ مثانے یا پیشاب کی نالی سے ٹشو کا نمونہ لے کر خردبین سے جانچ

٭ پیشاب کے خلیوں کا معائنہ، تاکہ مثانے کے کینسر کی تصدیق یا تردید کی جا سکے

٭ پوٹاشیم ٹیسٹ، جس سے بعض مریضوں میں انٹرسٹیشل سسٹائٹس کی تشخیص میں مدد مل سکتی ہے

علاج

انٹرسٹیشل سسٹائٹس کا کوئی ایک علاج تمام مریضوں کے لیے مؤثر نہیں ہوتا۔ علامات میں بہتری کے لیے مختلف علاج یا ان کے امتزاج کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

فزیو تھراپی

فزیوتھراپسٹ کی نگرانی میں کی جانے والی فزیو تھراپی پیلوس کے عضلات کے کھچاؤ اور درد کو کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔

منہ سے کھائی جانے والی ادویات

ڈاکٹر ضرورت کے مطابق درج ذیل ادویات تجویز کر سکتے ہیں:

٭ درد کم کرنے والی نان سٹرائیڈل اینٹی انفلیمیٹری ادویات

٭ بعض اینٹی ڈپریسنٹ ادویات، جو مثانے کو آرام دینے اور درد کم کرنے میں مدد دیتی ہیں

٭ اینٹی ہسٹامین ادویات، جو بار بار پیشاب کی حاجت کم کر سکتی ہیں

٭ خاص طور پر اس بیماری کے علاج کے لیے منظور شدہ دوائیں

اعصاب کی تحریک

اس طریقۂ علاج میں ہلکی برقی لہروں کے ذریعے اعصاب کو متحرک کیا جاتا ہے، جس سے درد اور بار بار پیشاب کی حاجت میں کمی آ سکتی ہے۔ بعض مریضوں میں سیکرل اعصاب کی تحریک بھی مؤثر ثابت ہوتی ہے۔

مثانے کو پھیلانا

اس طریقے میں پانی بھر کر مثانے کو آہستہ آہستہ پھیلایا جاتا ہے۔ بعض مریضوں میں اس سے علامات میں طویل عرصے تک بہتری رہتی ہے۔ اسی عمل کے دوران بعض اوقات بوٹوکس کا انجیکشن بھی لگایا جاتا ہے۔ تاہم اس کے بعد کچھ مریضوں کو عارضی طور پر کیتھیٹر کے ذریعے مثانہ خالی کرنا پڑ سکتا ہے۔

مثانے کے اندر دوا دینا

اس طریقے میں کیتھیٹر کے ذریعے ڈی ایم ایس او براہِ راست مثانے میں ڈالی جاتی ہے تاکہ علامات میں کمی آئے۔

سرجری

سرجری صرف ان مریضوں کے لیے تجویز کی جاتی ہے جن میں شدید درد ہو، مثانے کی گنجائش بہت کم ہو گئی ہو اور دیگر تمام علاج ناکام ثابت ہو چکے ہوں۔ اس کے ممکنہ طریقوں میں شامل ہیں:

٭ مثانے کے السر کو جلانا

٭ السر کو سرجری کے ذریعے نکالنا

٭ آنت کے ایک حصے کی مدد سے مثانے کی گنجائش بڑھانا

گھریلو نگہداشت

درج ذیل احتیاطی تدابیر علامات کو کم کرنے میں مدد دے سکتی ہیں:

غذائی تبدیلیاں

ایسی غذاؤں سے پرہیز کریں جو مثانے کو متاثر کر سکتی ہیں۔ ان میں شامل ہیں:

٭ کاربونیٹڈ مشروبات

٭ کیفین والی اشیاء، بشمول چاکلیٹ

٭ ترش پھل

٭ وٹامن سی سے بھرپور غذائیں

٭ ٹماٹر

٭ اچار

٭ مصالحہ دار غذائیں

٭ الکوحل

٭ مصنوعی مٹھاس

اگر کسی خاص غذا سے علامات بڑھتی ہوں تو اسے کچھ عرصے کے لیے ترک کریں۔ بعد میں ایک ایک کرکے دوبارہ استعمال کریں اور علامات کا مشاہدہ کریں۔

مثانے کی ٹریننگ

مقررہ اوقات کے مطابق پیشاب کرنے کی عادت اپنائیں، چاہے حاجت محسوس نہ بھی ہو۔ بعد ازاں آہستہ آہستہ وقفہ بڑھائیں تاکہ مثانہ زیادہ دیر تک پیشاب روکنے کا عادی ہو جائے۔

دیگر مفید تدابیر

٭ ڈھیلے اور آرام دہ کپڑے پہنیں

٭ ایسے کپڑوں سے پرہیز کریں جو پیٹ پر دباؤ ڈالیں

٭ ذہنی دباؤ کم کرنے کی کوشش کریں

٭ اگر سگریٹ نوشی کرتے ہیں تو اسے ترک کریں

٭ ہلکی پھلکی ورزش، خصوصاً سٹریچنگ کو معمول بنائیں

Frequently Asked Questions (FAQs)

کیا انٹرسٹیشل سسٹائٹس اور پیشاب کے انفیکشن میں فرق ہے؟

جی ہاں۔ دونوں بیماریوں کی علامات ایک جیسی ہو سکتی ہیں، لیکن انٹرسٹیشل سسٹائٹس میں عموماً بیکٹیریا کی وجہ سے انفیکشن موجود نہیں ہوتا۔

کیا یہ بیماری مکمل طور پر ٹھیک ہو سکتی ہے؟

فی الحال اس کا مکمل علاج دستیاب نہیں، لیکن مناسب ادویات، غذائی احتیاط اور دیگر علاج سے علامات کو مؤثر انداز میں قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔

کیا خوراک اس بیماری کی علامات پر اثر ڈالتی ہے؟

جی ہاں۔ کیفین، ترش پھل، ٹماٹر، مصالحہ دار غذائیں، کاربونیٹڈ مشروبات اور مصنوعی مٹھاس بعض مریضوں میں علامات کو بڑھا سکتے ہیں۔

کیا انٹرسٹیشل سسٹائٹس صرف خواتین کو ہوتی ہے؟

نہیں۔ یہ بیماری مردوں میں بھی ہو سکتی ہے، تاہم خواتین میں اس کی تشخیص کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ مردوں میں بعض اوقات ملتی جلتی علامات پروسٹیٹ کی سوزش کی وجہ سے بھی پیدا ہو سکتی ہیں۔

نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

ڈاکٹر سے رابطے کے لیے لنک پر کلک کریں ⬇️

https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=urologist

 

Vinkmag ad

Read Previous

باڈی ڈسمورفک ڈس آرڈر: جسمانی ساخت کے بارے میں وہم کی بیماری

Read Next

ہارٹ برن: سینے کی جلن

Leave a Reply

Most Popular