گردن کا درد (Neck pain) ایک عام پایا جانے والا مسئلہ ہے۔ اس کا ایک سبب کمپیوٹر پر جھک کر کام کرنا یا ورک بینچ پر مسلسل جھکے رہنا ہے۔ اس سے گردن کے پٹھوں پر دباؤ پڑتا ہے جو درد کی بڑی وجہ ہے۔ جوڑوں کے گھس جانے کی بیماری بھی گردن میں درد پیدا کر سکتی ہے۔ زیادہ تر صورتوں میں یہ درد (Cervical pain) کسی سنگین بیماری کی علامت نہیں ہوتا، لیکن بعض اوقات یہ کسی بڑے طبی مسئلے کی نشاندہی بھی کر سکتا ہے۔
علامات
گردن کے درد کی عام علامات میں شامل ہیں:
٭ سر کو طویل وقت تک ایک ہی حالت میں رکھنے سے درد بڑھ جانا
٭ گردن کے پٹھوں میں کھچاؤ یا اکڑاؤ
٭ سر کو حرکت دینے میں دشواری
٭ سر درد
ڈاکٹر سے کب رجوع کریں
اگر گاڑی کے حادثے، غوطہ لگانے یا گرنے کے بعد گردن میں شدید درد ہو تو فوراً ہنگامی طبی امداد حاصل کریں:
اگر گردن کا درد:
٭ بہت شدید ہو
٭ چند دن گزرنے کے باوجود بہتر نہ ہو
٭ بازوؤں یا ٹانگوں تک پھیل جائے
٭ سر درد، سن ہونے، کمزوری یا سوئیاں چبھنے جیسے احساس کے ساتھ ہو
تو جلد از جلد ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
وجوہات
گردن سر کا وزن سنبھالتی ہے، لیکن ریڑھ کی ہڈی کے دوسرے حصوں کے مقابلے میں کم محفوظ ہوتی ہے۔ اسی لیے معمولی چوٹ بھی درد، اکڑاؤ اور حرکت میں رکاوٹ کا سبب بن سکتی ہے۔
گردن کے درد کی عام وجوہات درج ذیل ہیں:
پٹھوں میں کھچاؤ: کمپیوٹر پر جھک کر بیٹھنا، موبائل فون کو مسلسل نیچے دیکھنا یا بستر پر لیٹ کر پڑھنا گردن کے پٹھوں پر دباؤ ڈالتا ہے۔
جوڑوں کا گھس جانا: عمر بڑھنے کے ساتھ گردن کے جوڑ بھی گھسنے لگتے ہیں، جس سے درد اور گردن حرکت دینے میں دشواری پیدا ہو سکتی ہے
اعصاب پر دباؤ: گردن کی ڈسک ابھرنے یا ہڈی کے اضافی ابھار بننے سے قریبی اعصاب دب سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں درد بازوؤں تک بھی پھیل سکتا ہے
چوٹ: گاڑی کے حادثے میں سر کا اچانک آگے اور پیچھے جھٹکا کھانا گردن کے نرم ٹشوز کو نقصان پہنچا سکتا ہے
دیگر بیماریاں: روماٹائیڈ آرتھرائٹس، دماغ اور ریڑھ کی ہڈی کی جھلیوں کی سوزش یا کینسر بھی گردن کے درد کا سبب بن سکتے ہیں
خطرے کے عوامل
یہ عوامل گردن کے درد کے امکانات بڑھا سکتے ہیں:
٭ 40 سال سے زیادہ عمر
٭ غلط نشست یا جسم کی نامناسب حالت
٭ گردن کو بار بار ایک ہی انداز میں حرکت دینا
٭ گرنے، کھیل یا گاڑی کے حادثات سے چوٹ لگنا
٭ ذہنی دباؤ، جس سے گردن کے پٹھے سخت ہو جاتے ہیں
٭ آرتھرائٹس، انفیکشن یا کینسر جیسی دیگر بیماریاں
بچاؤ کی تدابیر
زیادہ تر گردن کا درد غلط نشست اور عمر بڑھنے کے باعث ہوتا ہے۔ گردن کو صحت مند رکھنے کے لیے سر کو ہمیشہ ریڑھ کی ہڈی کے عین اوپر رکھنے کی کوشش کریں۔ روزمرہ عادات میں چند معمولی تبدیلیاں بھی گردن کی حفاظت میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔
٭ بیٹھتے اور کھڑے ہوتے وقت جسم کی درست حالت برقرار رکھیں
٭ موبائل فون یا ٹیبلٹ کو آنکھوں کی سطح پر رکھ کر استعمال کریں
٭ کمپیوٹر پر کام کرتے ہوئے وقفے وقفے سے اٹھیں، چلیں اور گردن و کندھوں کو حرکت دیں
٭ میز، کرسی اور کمپیوٹر اس طرح ترتیب دیں کہ سکرین آنکھوں کے برابر ہو
٭ اگر سگریٹ نوشی کرتے ہیں تو اسے ترک کریں
٭ ایک کندھے پر بھاری بیگ اٹھانے سے گریز کریں۔ بہتر ہے دونوں کندھوں والا بیگ استعمال کریں
٭ سوتے وقت سر اور گردن کو جسم کے سیدھ میں رکھیں اور مناسب تکیہ استعمال کریں
٭ روزانہ جسمانی سرگرمی کو معمول بنائیں
تشخیص
ڈاکٹر پہلے آپ کی علامات اور میڈیکل ہسٹری معلوم کرتے ہیں، پھر جسمانی معائنہ کرتے ہیں۔ اس دوران گردن میں درد، حساسیت، سن ہونے، پٹھوں کی طاقت اور گردن کو آگے، پیچھے اور اطراف میں حرکت دینے کی صلاحیت کا جائزہ لیا جاتا ہے۔
گردن کے درد کی وجہ معلوم کرنے کے لیے درج ذیل ٹیسٹ تجویز کیے جا سکتے ہیں:
ایکس رے: ہڈی کے اضافی ابھار یا اعصاب اور ریڑھ کی ہڈی پر دباؤ کی نشاندہی کر سکتا ہے
سی ٹی سکین: مختلف زاویوں سے تصاویر لے کر گردن کا تفصیلی منظر فراہم کرتا ہے
ایم آر آئی: ہڈیوں، ڈسک، ریڑھ کی ہڈی اور اعصاب سمیت نرم ٹشوز کی واضح تصاویر بناتا ہے
یہ بات بھی ذہن میں رکھیں کہ بعض افراد کے ایکسرے یا ایم آر آئی میں تبدیلیاں نظر آتی ہیں، لیکن انہیں گردن کا درد نہیں ہوتا۔ اسی لیے درست تشخیص ہمیشہ علامات، میڈیکل ہسٹری اور جسمانی معائنے کو مدنظر رکھ کر کی جاتی ہے۔
دیگر ٹیسٹ
الیکٹرومایو گرافی (ای ایم جی): اس سے معلوم کیا جاتا ہے کہ کہیں اعصاب پر دباؤ تو درد کی وجہ نہیں
خون کے ٹیسٹ: یہ انفیکشن یا سوزش کی نشاندہی کر سکتے ہیں، جو گردن کے درد کا سبب بن سکتی ہے
علاج
ہلکا یا درمیانے درجے کا گردن کا درد بالعموم دو سے تین ہفتوں میں مناسب گھریلو نگہداشت سے بہتر ہو جاتا ہے۔ عموماً بغیر نسخے کی درد کش ادویات اور ٹھنڈی یا گرم پٹیاں علامات کم کرنے کے لیے کافی ہوتی ہیں۔
ادویات
بغیر نسخے کے دستیاب درد کش ادویات کو ہمیشہ ہدایت کے مطابق استعمال کریں، کیونکہ ضرورت سے زیادہ مقدار سنگین مضر اثرات پیدا کر سکتی ہے۔ اگر یہ ادویات مؤثر ثابت نہ ہوں تو ڈاکٹر زیادہ طاقتور درد کش ادویات یا پٹھوں کو ریلیکس کرنے والی دوا تجویز کر سکتے ہیں۔
دیگر علاج
درج ذیل طریقے اس میں معاون ثابت ہوتے ہیں:
٭ فزیوتھراپی
٭ جلد کے ذریعے برقی اعصابی تحریک
٭ گردن کا کالر
٭ سٹیرائیڈ انجیکشن
٭ ڈرائی نیڈلنگ
٭ سرجری
گھریلو نگہداشت
٭ ابتدائی 48 گھنٹوں کے دوران برف کا پیک تولیے میں لپیٹ کر ایک وقت میں 15 منٹ تک، دن میں کئی بار استعمال کریں
٭ اس کے بعد نیم گرم شاور، گرم پٹی یا کم درجہ حرارت والے ہیٹنگ پیڈ سے پٹھوں کو آرام دیں
٭ درد کم ہونے پر گردن کی ہلکی ورزشیں شروع کریں
٭ گردن اور کندھوں کو آہستہ آہستہ گھمائیں، جھکائیں اور سیدھا کریں
٭ کھچاؤ والی ورزشیں شروع کرنے سے پہلے ہیٹنگ پیڈ یا نیم گرم شاور سے گردن کو گرم کرنا مفید ثابت ہو سکتا ہے
Frequently Asked Questions (FAQs)
کیا گردن کا درد خود بخود ٹھیک ہو سکتا ہے؟
جی ہاں، ہلکا یا درمیانے درجے کا گردن کا درد دو سے تین ہفتوں میں آرام، مناسب ورزش اور گھریلو نگہداشت سے بہتر ہو جاتا ہے۔
کیا گردن کے درد میں مکمل آرام کرنا چاہیے؟
نہیں، مکمل آرام کے بجائے ہلکی جسمانی سرگرمی اور نرم ورزشیں زیادہ فائدہ مند ہوتی ہیں، بشرطیکہ درد بہت شدید نہ ہو۔
کیا موبائل فون کا زیادہ استعمال گردن کے درد کا سبب بن سکتا ہے؟
جی ہاں، مسلسل گردن جھکا کر موبائل فون استعمال کرنے سے پٹھوں اور جوڑوں پر اضافی دباؤ پڑتا ہے، جس سے گردن میں درد پیدا ہو سکتا ہے۔
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔
ڈاکٹر سے رابطے کے لیے لنک پر کلک کریں ⬇️
https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=orthopedic