ڈبلیو ایچ او نے بانجھ پن کی تشخیص، روک تھام اور علاج کے لیے 40 نئی بین الاقوامی گائیڈ لائنز جاری کی ہیں۔ ادارے کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروس ادھانوم گیبریئس کے مطابق یہ نسبتاً نظر انداز شدہ مسئلہ ہے۔ صنفی مساوات اور تولیدی حقوق کی بنیاد پر بانجھ پن کا علاج آج کا ایک بڑا چیلنج ہے۔
ڈاکٹر ٹیڈروس نے بتایا کہ لاکھوں افراد علاج کے مہنگے اخراجات برداشت نہیں کر پاتے۔ وہ سستے مگر غیر آزمودہ طریقے اپنانے پر مجبور ہیں۔ انہیں اکثر اولاد کی خواہش اور مالی تحفظ میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑتا ہے۔
نئی گائیڈ لائنز بانجھ پن کا علاج مؤثر اور سائنسی بنیاد پر فراہم کرنے کے لیے عملی راہنمائی دیتی ہیں۔ یہ رہنما اصول بانجھ پن کی وجوہات کی تشخیص کے لیے کلینیکل پاتھ ویز بھی فراہم کرتے ہیں۔ ڈبلیو ایچ او کی تعریف کے مطابق 12 ماہ یا اس سے زیادہ عرصہ گزنے کے باوجود حمل نہ ٹھہرنا بانجھ پن کہلاتا ہے۔