Vinkmag ad

نیند میں سانس رکنے کا علاج نہ کرنے سے پارکنسن کا خطرہ دوگنا، تحقیق

A middle-aged person using CPAP machine to manage sleep apnea and protect neurological health

ماہرین اعصابی امراض کے مطابق اوبسٹرکٹیو سلیپ اپنیا  کا علاج نہ کرانا خطرناک ہے۔ ایسے افراد میں نیند میں سانس رکنے کی شکایت سے پارکنسن بیماری کے امکانات دوگنا بڑھ جاتے ہیں۔ یہ بات جاما نیورولوجی میں شائع ایک تحقیق میں سامنے آئی ہے۔ اس سٹڈی میں 11 ملین امریکیوں کے ہیلتھ ریکارڈز کا جائزہ لیا گیا۔ تحقیق میں موٹاپے، عمر اور ہائی بلڈ پریشر جیسے اہم عوامل کو بھی مدنظر رکھا گیا۔

نتائج کے مطابق سی پپ (CPAP) مشین استعمال نہ کرنے والوں میں پارکنسن کی تشخیص تقریباً دوگنا زیادہ ہوئی۔ ماہرین کے مطابق سی پپ مشین نیند بہتر کرنے کے علاوہ طویل مدتی اعصابی مسائل میں بھی مفید ہے۔

محققین کے مطابق نیند میں سانس رکنے سے آکسیجن کی فراہمی کم ہو جاتی ہے۔ اس سے دماغی خلیوں کا نارمل کام متاثر ہوتا ہے۔ پارکنسن ایک اعصابی بیماری ہے جو دماغ کے اعصابی خلیوں کے کم یا خراب ہونے سے پیدا ہوتی ہے۔ یہ خلیے ڈوپامین نامی کیمیکل پیدا کرتے ہیں، جو حرکت اور توازن کو کنٹرول کرتا ہے۔ پارکنسن میں یہ خلیے متاثر ہونے سے حرکات سست، غیر ہموار یا کنٹرول سے باہر ہو جاتی ہیں۔

Vinkmag ad

Read Previous

10 ہزار قدم چلنا بھی 10 گھنٹے بیٹھنے کا متبادل نہیں

Read Next

برڈ فلو کووڈ سے زیادہ خطرناک وبا بن سکتا ہے، ماہرین کی وارننگ

Leave a Reply

Most Popular