کندھے کا درد

497

فالج ایسا مرض ہے جو مریض کو مختلف جسمانی کمزوریوں کا شکار کر دیتا ہے۔ان میں سب سے عام کمزوری کندھے کے پٹھوں کا کمزور ہونا اور اس کی وجہ سے درپیش مشکلات ہیں۔اس صورت حال سے کیسے نپٹا جائے‘ جانئے شفا انٹرنےشنل ہسپتال جی 10 اسلام آباد کے مرکز بحالی صحت (Rehabilitaion Centre)کے سینئرفزیکل تھیراپسٹ ظہیرقادر کی اس معلومات افزاءتحریر میں

کندھے کا جوڑ انتہائی غیر مستحکم تصور کیا جاتا ہے‘ اس لئے کہ اس کے استحکام کا دارومدار اردگرد کے پٹھوں کی صحت اور طاقت پر ہوتا ہے۔مزیدبرآںکندھے کے جوڑ میں موجود چھوٹے جوڑوں کے درمیان سے نسوں کا گُچھا گزررہا ہوتا ہے۔اگر وہ متاثر ہو تو کندھا اپناکام ٹھیک طرح سے نہیں کر سکتا اوراس میں درد کا باعث بھی بنتا ہے۔ کندھے میں درد کی عمومی وجوہات میں اس کا اترجانا،پٹھوں کی کمزوری اوران کے اکڑ جانے کے ساتھ ساتھ کندھے کی مناسب دیکھ بھال نہ ہونا بھی شامل ہے۔
فالج کے نتیجے میں پیدا شدہ جسمانی نقائص میں جسم کی کسی بھی ایک طرف کے پٹھوں کی کمزوری زیادہ نمایاں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فالج کے مریضوں کی بڑی تعداد میں ایک طرف کا کندھا متاثر ہونے کی شکایت زیادہ پائی جاتی ہے۔
دیکھاگیا ہے کہ فالج کے80فی صد سے زیادہ مریضوں میں کندھے کی تکالیف مرض کے ابتدا سے ہی نمودارہونا شروع ہوجاتی ہیں ۔کچھ مریضوںکے بازوﺅں کے پٹھوں میں سختی پیدا ہوجاتی ہے لیکن یہ کیفیت عموماًفالج کے ایک ماہ بعد نمودار ہوتی ہے۔ فالج کے بعد کندھے میں پیدا ہونے والے درد کی وجہ سے نہ صرف مریض کی بحالی صحت میں رکاوٹ پیدا ہوجاتی ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ مریض کی بہت سی سرگرمیاںبھی متاثر ہوتی ہیں۔مثلاً اسے کپڑے پہننے یااُتارنے میں تکلیف کے ساتھ ساتھ بسترمیں کروٹ بدلنے میں بھی مشکل کا سامنا رہتا ہے۔
احتیاطی تدابیر
فالج کے بعد چونکہ کندھے کی تکالیف کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں لہٰذا جس حد تک ممکن ہو‘ انہیں احتیاط سے حرکت دینی چاہئے ۔ ذیل میں کچھ ایسی تدابیر تجویز کی جارہی ہیں جن پر عمل کر کے کندھے کی تکالیف سے بڑی حد تک بچاجاسکتا ہے:
٭فالج کا حملہ اچانک اور شدید ہوسکتا ہے اور فرد میں فالج کی عمومی علامات جن میں چہرے کا ٹیڑھاہوجانا،ہاتھ بازو کا سُن ہوجانا یا پٹھوں کی کمزوری نمودار ہونا شامل ہےں‘ نمودار ہو سکتی ہیں۔ بولنے میں دقت ہونا اور کھڑے ہونے یا بیٹھنے میں مشکل ہونا بھی اسی کی علامات ہیں جن کا مریض کو سامنا ہو سکتا ہے۔اگر ایسا ہو تو مریض کو فوراً کسی چادر پر لٹادیں۔ مریض کو ہسپتال پہنچانے کے لئے اسی چادر کے ذریعے گاڑی یاایمبولینس میں شفٹ کریں۔
٭مریض کی قمیض اُتارنا ہو تو پہلے صحت مند بازوکی طرف سے اُتاریں‘ پھر کمزوربازو کو احتیاط اور آہستگی سے اُٹھاتے ہوئے اُتاریں۔
٭اسے قمیض(شرٹ) پہناتے ہوئے پہلے کمزور بازو اور پھر صحت مند بازو کی طرف سے پہنائیں۔
٭مریض کو اُٹھانے‘بٹھانے اوربستر میں اس کے لئے مناسب پوزیشن بنانے کے لئے اسے کمزور بازو یاکندھے سے ہرگزنہ کھینچیں بلکہ اسے گردن یا مخصوص بیلٹ کی مدد سے ہلائیں ۔
٭مریض کے متاثرہ بازو کے نیچے کندھے کے لیول تک کا تکیہ یا کُشن رکھیں۔
٭مریض کو کندھے کی ورزشیں صرف فزیوتھیراپسٹ یاآکو پیشنل تھیراپسٹ کے مشورے کے مطابق ہی کرائیں۔
مندرجہ بالا تمام احتیاطیں فالج کے فوراًبعد شروع کر دینی چاہئیں اور باقاعدہ بحالی صحت تک اپنانی چاہئیں ۔مریض کی حالت میں بہتری آنے اور اس کے خطرے کی حالت سے نکلنے کے بعد بحالی صحت کے طریقے میں بھی تبدیلیاں آتی ہیں جو مریض کی جسمانی حالت کو مد نظر رکھتے ہوئے تجویز کی جاتی ہیں۔ اس مرحلے میں کندھے کی دیکھ بھال میں زیادہ احتیاط سے کام لینا ہوتا ہے۔اگر اس میں کمی یا کوتاہی رہ جائے تو اس بات کا امکان ہوتا ہے کہ مریض اس کندھے کو پوری طرح سے کام میں نہ لا سکے ۔ اس مرحلے میں درج ذیل احتیاطیں لازماًکرنی چاہئیں:
٭مریض کواس مرحلے کی خاص ورزشیں صرف فزیوتھیراپسٹ یا آکوپیشنل تھیراپسٹ کی تجویز کردہ ہی کروائیں۔
٭مریض کو کپڑے تبدیل کرواتے وقت اوپر بتائی گئی احتیاط اور طریقہ کار کو ہی اپنائیں۔
٭بیڈ میں لیٹے ہونے کی صورت میں مریض کامتاثرہ بازوتکیہ پر ہی رکھنا چاہیے۔اسی طرح بیٹھنے کی حالت میں بھی متاثرہ بازو مناسب اونچائی کے تکئے یا ٹیبل پر رکھنا چاہیے۔
٭مریض کوبیڈ سے وہیل چیئر وغیرہ میں منتقل کرنے کے دوران کمزور بازو کے لئے تجویز کردہ سپورٹ کااستعمال کریں ۔یہاں بھی تکئے کا استعمال کریں تاکہ کندھے کا جوڑ محفوظ رہے۔
اگر مریض اور اس کے اہل خانہ معالج کی بتائی گئی احتیاطوں اور ورزشوں پر عمل کریں گے تو اس بات کی امید ہے کہ وہ فالج سے ہونے والی کمزوریوں پر جلد قابو پا کر اپنی روز مرہ کی سرگرمیوں کی طرف لوٹ سکیں گے۔

مزید پڑھیں/ Read More

متعلقہ اشاعت/ Related Posts