نیوروپیتھی

6

فریحہ فضل
رات دو بجے’’ٹھک‘‘ کی آواز سے اچانک میری آنکھ کھل گئی۔پہلے تو میں ڈر گئی کہ کہیں چور تو گھر میں داخل نہیں ہوگئے ۔یہ خیال آتے ہی میرے وجود میں خوف کی لہر دوڑ گئی۔ چند لمحوں بعد ابا جی کے کراہنے اور بڑبڑانے کی آواز آئی جس سے خوف تو جاتا رہا البتہ وہ تشویش میں ضروربدل گیا۔ابا جی پچھلے 20سالوںسے شوگر کے مرض میں مبتلا ہیں ۔کچھ عرصے سے انہیں پائوں میں اتنی شدید جلن اور چبھن ہوتی ہے کہ رات بھر سکون سے نہیں سوپاتے۔ ٹھک کی آواز انہیں اٹھتے ہوئے ٹھوکر لگنے سے آئی تھی ۔

اگلے ہی دن میں اور حسن اباجی کو لے کر ڈاکٹر حبیب اللہ کے پاس چلے گئے جو ڈیرہ اسماعیل خان کے ایک قابل جنرل فزیشن ہیں۔ڈاکٹرصاحب نے ان سے کچھ سوالات کئے جس کے بعدانہوں نے ہمیں بتایا کہ انہیںنیوروپیتھی (neuropathy)کامسئلہ ہے جو ذیابیطس کنٹرول نہ ہونے کی صورت میں درپیش ہوتا ہے۔ یہ اعصاب کا نقص ہے جس کے باعث کچھ اعضاء سن ہونے لگتے ہیں۔ اسے پیریفرل نیوروپیتھی (peripheral neuropathy)بھی کہتے ہیں۔یہ کوئی ایک مسئلہ نہیں بلکہ صحت کے بہت سے مسائل کامجموعہ ہے۔

نیوروپیتھی ہے کیا
نیوروپیتھی کی وضاحت کرتے ہوئے ڈاکٹرحبیب اللہ نے بتایا کہ اس کا تعلق ہمارے عصبی نظام سے ہے جو دوحصوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ ان میں سے ایک مرکزی عصبی نظام ہے جس کا تعلق دماغ اور ریڑھ کی ہڈی سے ہے ۔ ان دونوں اعضاء سے باہر ایک اور نظام (periferal nervous system) بھی ہے جو مرکزی عصبی نظام اور پورے جسم کے درمیان پیغامات کی ترسیل کرتا ہے۔
پیریفیرل عصبی نظام مزید دوحصوں میں منقسم ہے۔ ان میں سے پہلا اختیاری (voluntray)ہے جو ایسے تمام افعال کو کنٹرول کرتا ہے جن میں ہمارا ارادہ و اختیار شامل ہوتا ہے ۔ ہاتھ ہلانا‘ چلنا پھرنا اور بولنا وغیرہ اس کی مثالیں ہیں۔ اس کی دوسری قسم غیرارادی (involuntary)نظام ہے جو ان اعضاء کو کنٹرول کرتا ہے جو ہمارے ارادے و اختیار کے محتاج نہیں ہوتے ۔ اس کی مثالیں دل کا دھڑکنا‘سانس لینا اور کھانا ہضم ہونا وغیرہ ہیں۔ان دونوں قسم کے اعصاب) (nervesکا متاثر ہونا نیوروپیتھی کا باعث بنتا ہے۔

علامات
عصبی نظام میں ہرعصب (nerve)کے ذمے الگ کام ہے۔مثال کے طور پر حسیاتی عصب (sensory nerve)حسیاتی پیغامات مثلاً جلد میں درد یا چھونے پر ارتعاش محسوس ہونے سے متعلق ہے جبکہ حرکی اعصاب(motor nerves) عضلات کی حرکت کو کنٹرول کرتے ہیں ۔ جو اعصاب متاثر ہوں گے‘ نیوروپیتھی کی علامات بھی اس کے مطابق ہی ظاہر ہوں گی ۔
ڈاکٹر حبیب اللہ کے مطابق اس کی عمومی علامات میں ہاتھوں یاپائوں کا سن ہوجانا‘ ان میں سوئیوں کی طرح چبھن محسوس ہونا (جو بعض اوقات بڑھتے بڑھتے ٹانگوں اور بازوئوں تک بھی جاسکتی ہے) ‘بے چینی ‘ جلن کے ساتھ درد‘ جھنجھناہٹ‘ لرزش ‘عضلات کی کمزوری‘ غیرارادی حرکات (reflexes)کا دھیرے دھیرے ختم ہونا‘ توازن میں کمی‘ پائوں کے سنجیدہ مسائل‘ انفیکشنز‘ جوڑوںاور ہڈیوں میں درد نمایاں ہیں۔

پیچیدگیاں
اگر نیوروپیتھی کا باقاعدہ علاج نہ کیاجائے توکئی طرح کی پیچیدگیاں جنم لے سکتی ہیں۔مثلاً عصبی روکے متاثر ہونے سے پائوں میں محسوس کرنے کی صلاحیت ختم ہوجاتی ہے۔ ایسے میں ٹھوکر یا کٹ لگنے سے اگرپائوں پر زخم ہو جائے تو درد محسوس نہیں ہوتا لہٰذا فرد اس پر توجہ نہیں دیتا۔ اس طرح زخم بگڑ کر سنجیدہ نوعیت کا انفیکشن پیداکرسکتا ہے۔زیادہ شدید صورتوں میں جوڑ متاثرہوسکتے ہیں‘پیشاب کی نالی میں انفیکشن ہو سکتی ہے‘ مثانہ کمزور ہوسکتا ہے اورنظامِ انہضام کے مسائل پیش آ سکتے ہیں ۔ اس سے متاثرہ مریض کو شدید یا پھر انتہائی کم پسینہ آتا ہے۔
غذائی احتیاطیں
نیوروپیتھی کے شکار افراد کو چاہئے کہ اپنی غذا میں ریشے والی خوراک مثلاً پھل‘سبزیاں‘ مچھلی کا تیل‘ خشک میوہ جات اور مگر ناشپاتی (avocado)زیادہ استعمال کریں۔ انہیں سفید شکر کے کم سے کم استعمال جبکہ پروسیڈ اورڈبوں میں بند خوراک سے پرہیز کا مشورہ دیاجاتا ہے۔ انہیں چاہئے کہ آئل میں پکے کھانوں پر روسٹ کئے ہوئے‘بیکڈ (baked)یا بھاپ میں پکے کھانوں کو ترجیح دیں‘ روزانہ چھ سے آٹھ گلاس پانی پئیں‘سوڈیم کی زیادہ مقدار والے کھانوں سے دور رہیں اور روزانہ 30سے60منٹ سائیکلنگ‘ تیراکی یا چہل قدمی وغیرہ ضرور کریں ۔

امریکن ذیابیطس ایسوسی ایشن کے مطابق آپ اپنی خوراک اور روزمرہ زندگی میں مثبت تبدیلی لا کر نیوروپیتھی کے عمل کو سست کرسکتے ہیں اوراگر ذرا مستقل مزاجی سے کام لیں تو اسے روک بھی سکتے ہیں۔ اس کے لئے درج ذیل ہدایات پر عمل کریں:

٭خون میں شکر کی مقدار کو حتی الامکان نارمل رکھنے کی کوشش کریں۔اس کے لئے خوراک اور ادویات‘ دونوں کا استعمال کریں۔ گلوکوزمیٹرکے ذریعے اپنے خون میں شکر کی مقدار کو یومیہ بنیادوں پر ریکارڈ کریں کیونکہ اس کی مقدار میں اتارچڑھائو عصبی رو کے متاثر ہونے کا باعث ہوتا ہے۔
٭سال میں کم از کم دودفعہ ’’HbA1C‘‘ٹیسٹ ضرور کروائیں۔یہ آپ کے خون میںگلوکوز کی دوسے تین ماہ کی اوسط شرح بتاتا ہے۔اس کے ذریعے آپ جان سکتے ہیں کہ ادویات کے استعمال اورطرززندگی میں تبدیلیوں کا آپ کو کس حد تک فائدہ ہو رہا ہے ۔
٭ اگرشوگر کنٹرول میں نہ ہو تو فوراًڈاکٹر سے رجوع کریں۔
٭وزن زیادہ ہونے کی صورت میں اسے کم کریں۔
٭اپنے پائوں کا خصوصی خیال رکھیں اورروزانہ ان کا معائنہ کریں۔معمولی زخم کو بھی نظر انداز مت کریں‘ اس لئے کہ ابتدائی مرحلے پر اس کا علاج آسان ہوتا ہے۔نرم اور آرام دہ جوتوں اور جرابوں کا انتخاب کریں۔پائوں دھونے کے لئے نیم گرم پانی استعمال کریں اور اس کے بعد انہیں اچھی طرح خشک کریں۔
٭ نیوروپیتھی بعض اوقات کچھ وٹامنز خصوصاً وٹامن بی اور ڈی کی کمی کے باعث بھی ہوسکتی ہے۔اس لئے جسم میں ان وٹامنزکی کمی نہ ہونے دیں ۔
٭سگریٹ نوشی اور الکوحل کا استعمال بھی اس کا باعث بن سکتا ہے لہٰذا اس سے پرہیز کریں۔
٭گرم پانی سے غسل اس کی علامات کو کم کرتا اور سکون دیتا ہے۔
٭ باقاعدہ ورزش نہ صرف ہماری عمومی صحت کو بہتر کرتی ہے بلکہ بلڈشوگرمیں بھی کمی لاتی ہے ۔اس سے خون کا بہائو تیز ہوتا ہے جس کی وجہ سے ہاتھ‘ پائوں میںکھچائو کی کیفیت کم ہوتی ہے۔
کراچی سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر ام راحیل قدرتی طریقوں سے علاج کی ماہر (نیچروپیتھ )ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کچھ تیل مثلاً بابونہ (Chamomile)اوراسطوخودوس (lavender)کا مساج نہ صرف درد کشاہے بلکہ سوزش کو بھی کم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہیں زیتون کے تیل کے ساتھ ملا کر لگانے سے بہت افاقہ ہوتا ہے۔آکوپنکچر میں جسم کے پریشر پوائنٹس کواستعمال کرکے قدرتی طریقے سے درد کی شدت اور سنساہٹ کو ختم کیاجاسکتا ہے۔ لہسن کے استعمال کو بھی نیوروپیتھی میں مفید بتایا جاتا ہے۔

کچھ دن قبل اخبار میں شوگر سے متعلق ایک انتہائی دلچسپ مضمون پڑھنے کو ملا۔ڈاکٹر حسان شمسی پاشا کنگ فہد آرمڈفورسز ہسپتال سعودی عرب کے ساتھ ماہر امراض قلب کے طور پروابستہ ہیں۔ انہوں نے طب نبویؐ کی روشنی میں صحت کے مسائل پر بہت تحقیق کی ہے اوروہ کئی کتابوں کے مصنف بھی ہیں۔اپنی ایک کتاب میں انہوں نے لکھا کہ جب ان کے علم میں یہ بات آئی کہ انہیں شوگر ہوگئی ہے تو وہ بہت پریشان ہوئے اور انہوں نے اس سے نجات کے لئے کوئی حیلہ یا ٹوٹکا نہ چھوڑا۔ بہت سے تجربات کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ ذیابیطس سے نپٹنے میں تین امور بہت اہم ہیں:

٭ورزش اورکھانے پینے میں احتیاط۔
٭زیتون کے تیل کا استعمال۔
٭مستند ڈاکٹر سے باقاعدہ علاج۔
متاثرہ حصے پر زیتون کی مالش نہ صرف نیوروپیتھی کی شدت کم کرتی ہے بلکہ خون کے بہائو کو تیز کرکے سنساہٹ کے احساس کو بھی کم کرتی ہے۔اسی طرح سرخ مرچ (cayenne pepper) بھی اس میں سودمند ہے جس کا استعمال نہ صرف خون کا بہائو تیز کرتا ہے بلکہ دردکشابھی ہے۔تاہم کسی قسم کی دوا یاعلاج سے قبل اپنے متعلقہ ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کریں۔

Leave a Reply

Leave a Reply

  Subscribe  
Notify of