• Home
  • صفحہ اول
  • معدے میں کس نے جھانکا—تحقیق اور قربانی کی ایک داستان

معدے میں کس نے جھانکا—تحقیق اور قربانی کی ایک داستان

138

دکھ ‘ پریشانیاں اور بیماریاں انسانی زندگی کا خاصا ہیں اور شاید ہی کوئی انسان ایسا ہوجسے کبھی ان سے پالا نہ پڑا ہو۔اگر ان پرغوروفکر کیا جائے تو بہت سے مخفی پہلوﺅں پر روشنی پڑتی ہے۔یہ غوروفکر کبھی انسان خود کرتا ہے اور کبھی یہ کام کوئی دوسرا فردکر کے اپنے اور دوسروں کے لئے مفید نتائج اخذ کر لیتا ہے ۔اس کے لئے تخلیقی ذہن اور ”آﺅٹ آف بکس “سوچنے کی صلاحیت درکار ہوتی ہے ۔زیرنظر کالم میںایک ایسے شخص کا ذکر کرنے لگا ہوں جو ایک بڑی مصیبت میں گرفتار ہونے کے بعد علاج کی غرض سے ایک معالج کے پاس گیا۔ معالج نے اسے علم حاصل کرنے کا ایک نادر موقع جانااور کچھ ایسے مشاہدات کئے جن سے علم طب میں گراں قدرمعلومات کا اضافہ ہوا۔
جون 1822ءمیں کینیڈا کے ایک باشندے الیکسس سینٹ مارٹن) (Alexis St. Martin کو ایک سنگین حادثہ پیش آیا۔وہ ایک غریب آدمی تھا جو امریکہ کی ریاست مشی گن میں پوستین (fur) کی مصنوعات تیار کرنے والی کمپنی میں ملازمت کرتا تھا ۔اس کا کام کمپنی کیلئے جنگلی جانوروں کی کھالوں کا لین دین کرنا تھا۔ ایک دفعہ وہ کسی کی غلطی سے بندوق کی گولی کا نشانہ بن گیاجو بمشکل دویاتین فٹ کے فاصلے سے چلائی گئی تھی ۔ گولی اس کے پیٹ میں بائیں جانب اوپر کی جگہ پر لگی جس سے اس کے پیٹ میں خاصہ بڑا شگاف پیدا ہو گیا۔ اس سے بائیں پھیپھڑے کا نچلا حصہ نہ صرف زخمی ہوا بلکہ پسلیوں کے درمیان سے گزر کر باہر نکل آیا۔ چند پسلیاں بھی اس حادثے کی وجہ سے ٹوٹ گئیں۔ اس کے علاوہ جس عضو کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا‘ وہ معدہ تھا جس کی سامنے والی دیوار کا بڑا حصہ حادثے کی نذر ہو گیا۔
حادثے کے وقت الیکسس کی عمر19اور 20 برس کے درمیان تھی۔وقوعے کے قریب ہی امریکی فوج کا اڈا تھا جس میں ایک ڈاکٹر ولیم بیومانٹ(Dr. William Beaumont) تعینات تھا۔ حادثے کے فوراً ہی بعد اسے بلالیا گیا ۔ زخم کی نوعیت کچھ ایسی تھی کہ اس کے بچنے کی کوئی امید نہ تھی ۔ ایسے زخم آج کے دور میں بھی خطرناک سمجھے جاتے ہیں جبکہ اُس وقت نہ تو خون لگایا جا سکتا تھا‘ نہ ڈرپ کا تصور تھا اور نہ ہی اینٹی بائیوٹکس کا کوئی وجود تھا۔یہ 19 ویں صدی کا ابتدائی دور تھا جب انسانی اعضاءکے بارے میں بہت ہی کم علم تھا اور جو علم موجود تھا‘ وہ بھی صدیوں پرانی کتابوں سے اخذ کیا گیا تھاجن میں حکیم جالنیوس(Gelen) کی کتاب بھی شامل تھی ۔
مریض کے جسم سے بہت ساخون ضائع ہو چکاتھا لیکن اس کے باوجود وہ بچ گیا۔ اس کے پیٹ کا زخم کسی حد تک مندمل ہو گیااور پھیپھڑے کاباہر نکلا ہوا حصہ گل سڑ کر خود ہی ختم ہو گیا۔ پسلیاں بھی وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ ٹھیک ہو گئیں اور پیٹ کے زخم کے کنارے معدے کے زخم کے کناروں کے ساتھ چپک گئے ۔آپ یوں سمجھیں کہ وہاںپانچ سے سات سینٹی میٹر سوراخ بن گیا ۔یہ ایک والو کی مانند تھا جسے دبا کر الیکسس کے معدے میں جھانکا جا سکتا تھا۔
بیومانٹ ایک مفکر سائنسدان تھا۔ وہ جب مریض کا زخم صاف کرتا یا پٹی بدلتا تو اس دوران معدے کی کھڑکی سے یہ مشاہدہ بھی کرتا کہ اس کے اندر کیا ہو رہا ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ کچھ تجربات بھی کرتا رہتا ۔ یہ سلسلہ 1833ءتک جاری رہا جس دوران اس نے مجموعی طور پر 238 تجربات کئے اور ان پر مشتمل ایک کتاب بھی شائع کی۔ اس کے مشاہدات اور تجربات سے جو نتائج اخذ ہوئے ‘ان کا لب لباب یہ ہے :
کھانے کی عدم موجودگی میں معدہ بالکل خالی ہوتا ہے یعنی اس کے اندر کوئی رطوبت نہیں ہوتی ‘اوراگر ہوتی بھی ہے تو اس کی مقدار بہت ہی کم ہوتی ہے ۔معدے کا اندرونی درجہ حرارت 99.6 ڈگری فارن ہائیٹ(37.6 سینٹی گریڈ)ہوتا ہے۔ اس نے معدے کی رطوبت( gastric juice) کو نکال کر اس کا کیمیائی تجزیہ کیا تو معلوم ہوا کہ اس میں موجودتیزاب‘ نمک کا تیزاب (hydrochloric acid) ہوتا ہے۔ ان تجربات سے پہلے سائنسدانوں کا خیال تھا کہ معدہ چبا ئی گئی غذا کو اپنے دباﺅ کی مددسے مزید پیس کر ہضم کرتا ہے ‘لیکن اب معلوم ہوا کہ معدے میںہاضمے کا عمل زیادہ تر کیمیائی ہے جس میں تیزاب بہت اہم کردار ادا کرتا ہے ۔ اگر معدے کی رطوبت ٹھنڈی ہو تو اس میں شامل کی گئی چیزیں ہضم نہیں ہوتیں۔ اس نے یہ مشاہدہ بھی کیا کہ دودھ معدے میں پہنچنے کے تھوڑی دیر بعد جم جاتا ہے اور اس پر ہاضمے کا عمل ایک وقفے کے بعد شروع ہوتا ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ مختلف اشیائے خورونوش کے ہاضمے کے لئے وقت کم یا زیادہ لگتا ہے۔ مثال کے طور پر سبزیاں اور بعض پھل جلدی ہضم نہیں ہوتے جبکہ پانی اور دیگر مشروبات جلد معدے سے آنتوں کی طرف بڑھ جاتے ہیں۔ شراب‘ معدے میں ورم( inflammation) پیدا کرتی ہے۔نیز یہ کہ غصے‘ غم اور دیگر جذبات کا معدے کی رطوبت پربھی گہرا اثر ہوتا ہے اور ان حالات میں اس (رطوبت) کی پیداوار میں خاصی کمی آجاتی ہے۔
ڈاکٹر بیومانٹ مختلف غذاﺅں مثلاً گوشت اورسبزیوں وغیرہ کو دھاگے کی ڈور کے ساتھ باندھ کر معدے میں ڈال دیا کرتا اور مختلف وقفوں سے ڈور کو کھینچ کر اس کا مشاہدہ اور تجزیہ کرتا۔اس سے اسے معلوم ہو جاتا کہ مخصوص وقت میں وہ خوراک کس حد تک ہضم ہوتی ہے۔ ایسے تجربات کی وجہ سے الیکسس کو تکلیف ہوتی جس کی وجہ سے وہ کبھی کبھی ڈاکٹر کے ساتھ تعاون سے انکار بھی کردیتا‘ لیکن پھر اس پر راضی ہو جاتا۔ ڈاکٹر نے اپنی تحقیق میں آسانی پیدا کرنے کے لئے اسے اپنا گھریلو ملازم رکھ لیا اور اسے ماہانہ تنخواہ کے علاوہ رہائش اور دیگر ضروریات زندگی بھی مہیا کرتا تھا۔
مریض اپنی لمبی علالت کی وجہ سے تند خو اور چڑچڑا ہو گیاتھا۔ کہا جاتا ہے کہ وہ 1826ءمیں ڈاکٹرکو چھوڑ کر چلا گیا لیکن تین سال بعددوبارہ لوٹ آیا ۔ 83 سال کی عمر میں جب اس کا انتقال ہوا تواس کے لواحقین نے سوچا کہ طبی سائنس دانوں کو اس کی نعش کی ضرورت پڑسکتی ہے لہٰذا انہوں نے اس کی تدفین کو پانچ یاچھ دن کے لئے ملتوی کیا اور جب وہ گلنے سڑنے لگی تو اسے دفن کردیا۔ڈاکٹر بیومانٹ کی تحقیقات سے مستقبل کے سائنس دانوں کو بہت رہنمائی ملی ۔ بعد میں ایک روسی سائنسدان پاو¿لوف (Pavlov) نے کتوں کے معدوں پر فسچولا(fistula) بنا کر مزید تحقیقات کیں۔ الیکسس نے تجربات کے دوران بہت سی تکالیف برداشت کیں ‘تاہم ان کی بدولت جو علم حاصل ہوا‘ اس سے انسانیت کو بہت فائدہ پہنچا۔میڈیکل سائنس اس کے تعاون اور ڈاکٹر بیومانٹ کے تجسس‘ شوق اورتخلیقیت کو سلام پیش کرتی ہے ۔