ماہ آزادی مبارک

ماہ اگست کا آغاز ہو چکا ہے اور ہم سترواں یوم آزادی منانے کے لئے تیار ہیں۔ ہم شفا نیوز کی طرف سے تمام قوم کو مبارک باد دیتے ہیں۔ یوم آزادی کی تقریبات کے موقع پر ہمارے شہر اور قصبے سبز ہلالی چادر اوڑھ لیتے ہیں اور فضا میں خوشی اور حب الوطنی کے جذبات محسوس کئے جا سکتے ہیں۔ روایتی طور پر یہ دن اپنے آپ کو اس ملک کے تحفظ، بہتری اور ترقی کے لئے وقف کر دینے کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یہ جذبہ دلکش ہے۔ اور اتنا ہی ضروری بھی۔

وطن عزیر کی عمر ستر برس ہو چکی ہے۔ ایک قوم کے طور پر ہم کئی ایک مشکل مراحل سے گزرے ہیں اور وقت کی آزمائش پر پورا اترے ہیں۔ ہندوستان میں برطانوی نو آبادیاتی دور کے خاتمے کے بعد پاکستان دنیا کے نقشے پر ایک آزاد ملک کے طور پر ابھرا۔ اس نوزائیدہ قوم کو معیشت سے لے کر ملکی سلامتی، بنیادی ڈھانچے سے لے کر صحت عامہ اور سماجی بہبود سے لے کر تعلیم تک ہر شعبے میں ہر طرح کے مسائل کا سامنا تھا۔ کسی بھی مسئلے کا نام لیں اور وہ اس نوزائیدہ قوم کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کھڑا تھا۔ یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتوں نے ان مسائل سے نپٹنے اور ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن رہنے کے لئے اپنا اپنا قابل قدر کردار ادا کیا۔ آج اگر دفاع کی بات کی جائے تو ہم کسی بدخواہ کا ترنوالہ یا آسان ہدف نہیں، اور معاشی ترقی کے حوالے سے ہم جس راستے پر رواں دواں ہیں وہاں ایک خوبصورت منزل صاف نظر آ رہی ہے۔ 2017 میں خام ملکی پیداوار کے ایک کھرب ڈالر کے ہدف کو عبور کرنے سے ہم عالمی معیشتوں میں پچیسویں نمبر پر آ گئے ہیں۔ ہمارے حجم اور خطے کے ممالک کے ساتھ اگر موازنہ کیا جائے تو مواصلات کے تعمیری ڈھانچے کے ساتھ ہم دوسروں سے بہتر ہیں۔ یہ سب کچھ حوصلہ افزا ہے۔

ان کامرانیوں کے سا تھ ساتھ ہمارے حصے کے مسائل بھی ہیں۔ 1987 میں پہلے خود کش حملے کے بعد اب تک یہاں 486 خود کش حملے ہو چکے ہیں۔ حالیہ برسوں میں ہمیں دہشت گردی کے ان ہولناک واقعات میں واضح کمی دیکھنے کو ملی ہے لیکن دہشت گردی کے عفریت کو مکمل ختم کرنے کے لیے ہمیں ابھی بہت سا سفر طے کرنا ہے۔

ہماری تعداد تقریباً 20 کروڑ ہے اور اس میں نوجوانوں کی آبادی ایک نمایاں حصہ ہے۔ اس آبادی کو صحت، تعلیم اور روزگار کی ضرورت ہے۔ مسائل مختلف نوعیت کے ہیں جیسا کہ وہ ہمیشہ سے موجود رہے ہیں۔ اچھی خبر تاہم یہ ہے کہ یہ مسائل ناقابل حل نہیں ہیں۔ ہمارے بانیان قوم اور ان کے بعد آنے والے ان مسائل پر قابو پانے میں کامیاب رہے۔ اس کامیابی میں ان کی طاقت کی بنیاد غیر متزلزل عزم، مقصد پر نظر اور باہمی اتحاد تھی۔ جب جب ہم نے ان اقدار کی پاسداری میں کوتاہی دکھائی، تب تب ہمارے قدم لڑکھڑائے۔

یوم آزادی پر جشن منانا فطری ہے۔ ہمیں ضرور اس دن کو منانے کا اہتمام کرنا چاہئے اور اپنے بچوں کو بتانا چاہئے کہ یہ ہمارے لیے کیوں اہم ہے۔ تاہم یہ دن اپنی سابقہ قومی کارکردگی پر نظر ثانی کرنے اور ازسرنو اپنے مقصد پر توجہ متعین کرنے کا بھی درست موقع ہے۔ ہمیں امید کا دیا دوبارہ سے جلانے ، اپنی توجہ مرکوز کرنے اور کسی ابہام کے بغیر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔

اور وہ سب حاصل کرنے کے لئے جو اب تک حاصل نہیں ہو سکا، ایک عملی طریقہ اداروں کی تعمیر ہے۔ ہمیں توجہ بھٹک جانے کے خطرے سے بچنے کے لئے اپنے اہداف کے حصول کی خاطر پروگرام ڈیویلپ کرنے اور منطقی طرز عمل اپنانے کی ضرورت ہے۔ آپ سب کو ایک بار پھر یوم آزادی اور ماہ آزادی مبارک ہو۔

Vinkmag ad

Read Previous

متعدی امراض اورویکسین ‘ خوردبینی دور میں

Read Next

ایڑی کا درد نجات کیسے

Most Popular