سردیوں کے اولین مسائل۔ نزلہ‘ زکام

127

نزلہ اور زکام میں فرق
موسم سرما میں صحت کے جو مسائل زیادہ دیکھنے میں آتے ہیں‘ ان میں نزلہ اور زکام سرفہرست ہیں۔ انفلوئنزا influenza) )‘فلو یا زکام ہے جس کی علامات نزلے کی علامات سے ملتی جلتی ہیں جس کی وجہ سے اکثر لوگ اسے فلو کہہ دیتے ہیں۔ انفلوئنزا اور نزلے میں فرق کی وضاحت کرتے ہوئے جناح ہسپتال کراچی کے امراض سینہ کے شعبے کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر ندیم رضوی کہتے ہیں:
”عام نزلے کی علامات زیادہ شدید نہیں ہوتیں اور وہ صرف ناک اور گلے کومتاثر کرتا ہے جبکہ فلو کی علامات شدید ہوتی ہیں۔ اس کی وجہ سے بخار اور پٹھوں میں درد بھی ہوتا ہے ۔اس کے برعکس زکام جسے انفلوئنزا یا مختصر فلو بھی کہتے ہیں‘ کا تعلق وائرس کے ساتھ ہے۔ یوں تویہ ہر موسم میں موجود ہوتے ہیں لیکن موسم سرما میں جب انسانی جسم کی قوت مدافعت کمزور ہوتی ہے تو یہ زیادہ طاقتور ہو جاتے ہیں۔ فلووائرس انسانوں اور جانوروں کی سانس کی نالی کو متاثر کرتا ہے۔ بار بار فلو ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس کے ذمہ دار وائرس اپنی شکل تبدیل کرکے جسم کے دفاعی نظام کودھوکا دینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔
نزلہ پھیلتا کیسے ہے
نزلے اور زکام سے متاثرہ شخص جب کھانستا یا چھینکتا ہے تو آبی قطرے پھوار کی شکل میں قریب موجود افراد یا چیزوں پر پڑتے ہیں۔ متاثرہ شخص اگر ہاتھوں پر کھانسے یا چھینکے تووہ جس چیز کو چھوئے گا وہ وائرس سے آلودہ ہوجائے گی۔ پھر جب کوئی صحت مند شخص اس جگہ کو ہاتھ لگائے گا تو اس کے ہاتھ بھی ان وائرسوں سے آلودہ ہو جائیں گے۔ وہ جب آلودہ ہاتھوں سے اپنی ناک یامنہ کو چھوئے گا توزکام کے وائرس اس کے جسم میں داخل ہو کر اسے بیمار کر دیں گے ۔
بچاﺅ کی تدابیر
ڈاکٹر رضوی کا کہنا ہے کہ زکام کے وائرس سے خود کو محفوظ رکھنے اور دوسروں تک ان وائرسوں کے پھیلاﺅ کو روکنے کے لئے درج ذیل اصولوں پر عمل کریں:
٭ بار بار ہاتھ دھوئیں۔
٭ رومال یا ٹشو پیپر وغیرہ پر کھانسیں یا چھینکیں۔ اگر رومال یا ٹشو پیپر فوری طور پر دستیاب نہ ہو تو دونوں ہاتھ منہ پر رکھیں اور چھینکنے اور کھانسنے کے فوری بعد ہاتھ دھوئیں۔
٭ جب کھانسی یا چھینک آئے تو اپنا چہرہ دوسروں کی طرف سے ہٹالیں۔
٭ اپنی ناک اور منہ کو مت چھوئیں۔
٭ فون‘ کی بورڈ اور ماﺅس جیسی چیزوںکی صفائی کا خیال رکھنا چاہیے‘ اس لئے کہ وہ ایک سے زائد افراد استعمال کررہے ہوتے ہیں۔ وائرس ان کی سطح پر آٹھ گھنٹے تک زندہ رہ سکتے ہیں۔
٭ نزلے اور زکام کے موسم میں پرہجوم مقامات سے حتی الامکان دور رہنے کی کوشش کریں۔
٭ بہتر یہ ہے کہ موسم سرما کے آغاز پر ہر سال فلو ویکسین لگوائیں۔ یہ ویکسین آپ کو اس مرض سے 100 فی صد تحفظ تو نہیں دیتی مگرپھر بھی اس کے ذریعے بڑی حد تک فلو سے بچا جا سکتاہے ۔
٭ جسم کے مدافعتی نظام کو قوت دینے کے لئے صحت بخش غذائیں مثلاً گہرے سبز‘ نارنجی اور سرخ رنگ کے پھل اور سبزیاں وغیرہ استعمال کریں۔
٭ باقاعدگی سے ورزش کریں۔ اگرچہ ورزش کرنے والے افراد بھی نزلے کا شکار ہو جاتے ہیں لیکن ان میں اس مرض کی علامات کی شدت کم ہوتی ہے اور وہ تیزی سے صحت یاب بھی ہو جاتے ہیں۔ ایروبکس اور چہل قدمی وغیرہ باقاعدگی سے کرنے سے مدافعتی نظام مضبوط ہوتا ہے۔