حرکت میں ہو تی ہے برکت خدا کی

16

(ڈاکٹر وسیم جاوید،فزیوتھیراپیسٹ،ہیڈ آف ڈپارٹمنٹ فزیوتھیراپی،شالیمار سکول آف الائیڈ ہیلتھ سائنسز،لاہور)

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ محض گھریلو کام کاج اور تھوڑا بہت چلنا اچھی صحت کے لئے کافی نہیں لہٰذا آپ کو چاہئے کہ بلاناغہ تھوڑی بہت ورزش کو بھی اپنے معمول میں شامل کریں ۔اس کے لئے چند امور قابل توجہ ہیں جو مندرجہ ذیل ہیں:
ورزش سے پہلے: ورزش شروع کرنے سے پہلے جسم کو گرم کریں ۔اس کے لیے10مرتبہ کودنے کا عمل کافی ہے ۔اس طرح خون تیزی سے ٹانگوں کی طرف گردش کرے گا اور جسم کے تمام حصوں تک پہنچ پائے گا۔اس کے بعد بازوئوں کو 10مرتبہ سیدھا اوپر کی جانب اور 10مرتبہ سامنے کی جانب سیدھا کریں۔اس کے بعد پشت کے بل زمین پر لیٹ کر دونوں گھٹنے پیٹ کے ساتھ لگائیں۔ یہ عمل بھی 10بار کرنا ہے۔اب آپ کا جسم ورزش کے لیے تیار ہے۔

مفید ورزشیں: آپ ورزش کے لئے جو بھی وقت مختص کریں‘اسے مندجہ ذیل حصوں میں تقسیم کریں:
٭کچھ ورزشیں ایسی ہیں جنہیں کرتے ہوئے سانس پھولتا ہے۔انہیں ایروبکس کہا جاتا ہے۔اس میں بھاگ دوڑ،تیراکی اوراچھل کود شامل ہے۔یہ ورزشیں دل کے لیے مفید ہوتی ہیں۔

٭کچھ ورزشوں کو طاقت بڑھانے کی ورزشیں کہا جاتا ہے جن میں ویٹ لفٹنگ اورپش اپس شامل وغیرہ ہیں۔ انہیں کرنے سے موٹاپے میں کمی واقع ہو تی ہے۔

٭جسم میں لچک پیدا کرنے کے لیے بھی کچھ ورزشیں کی جاتی ہیں تاکہ پٹھوں اور ہڈیوں میں مضبوطی آئے۔

٭کچھ ورزشیں جسم میں توازن پیدا کرنے کے لیے بھی کی جاتی ہیں۔ ان میں ایک پاؤں پر کھڑے ہونا،یوگا اور ہلکی پھلکی واک شامل ہے۔

ورزش کے بعد: جس طرح جسم کو گرم کرنے کے لیے ہلکی پھلکی ورزشوں سے آغاز کر کے ورزش کے عمل کوبتدریج تیز کیاجاتا ہے ‘ اب اس کے الٹ آہستگی کا مظاہرہ کرناہوتا ہے ۔اس طرح جسم فوراً کی بجائے آہستگی سے ٹھنڈا ہوتا ہے جس سے نہ صرف فرحت بخش احساس ہوتا ہے بلکہ فرد پٹھوں کی اکڑن سے بھی محفوظ رہتا ہے ۔

Leave a Reply

Leave a Reply

  Subscribe  
Notify of