199

چھ ماہ کے دوران وہ کم ازکم چھ مختلف ماہرین سے مل چکی تھیں لیکن مسئلہ ابھی تک جوں کاتوں تھا۔
خاتون کا معمول تھا کہ وہ اپنی تدریسی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لیے صبح سویرے گھر سے نکل جاتیں۔ اس روز جب وہ تعلیمی ادارے میں جانے کے لئے تیار ہو رہی تھیں تو انہیں اپنی ٹانگ میں شدید درد محسوس ہوا۔ بظاہر وجہ یہ بنی کہ لباس تبدیل کرتے ہوئے ان کا گھٹناغیر ارادی طورپر ایک خاص زاویے پر مڑگیا ۔

تکلیف اگرچہ کافی زیادہ تھی لیکن انہیں خیال ہوا کہ یہ چونکہ بظاہر کسی حادثے کے بغیر ہی شروع ہوئی ہے لہٰذا کچھ دیر برداشت کرلیا جائے تو خود ہی ختم ہو جائے گی ۔ تاہم وقت گزرنے اور حرکت کرنے کے ساتھ اس میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ کسی وقت تو یہ اتنا شدید ہوتا کہ ناقابل برداشت ہوجاتا۔
طبی معائنے اور ایکسرے رپورٹ دیکھنے کے بعد ڈاکٹر نے انہیں درد کو کم کرنے کے لیے انجکشن لگایا‘ کچھ ادویات تجویز کیں اور چند روز مکمل آرام کا مشورہ دیا ۔انہیں یہ تاکید بھی کی گئی کہ ٹانگ کو کم سے کم حرکت دیں۔ ان مشوروں پر عمل سے وقتی طور پر کچھ افاقہ ہوا، البتہ وہ جوں ہی معمولی سی حرکت کرتیں‘ درد پھر سے شروع ہوجاتا۔ اگر کسی سرگرم انسان کی نقل و حرکت پرمکمل پابندی لگا دی جائے تو اس کی زندگی دشوار ہوجاتی ہے۔ایک ورکنگ وومن کی حیثیت سے وہ ملازمت کی مصروفیات کو غیرمعینہ مدت تک ملتوی نہیں کر سکتی تھیں۔

حل یہ تجویز کیاگیا کہ جو تھوڑی بہت حرکت ناگزیر ہو‘ وہ واکر کے سہارے کی جائے ۔ عارضی انتظام کچھ بہتر ہوگیا لیکن ظاہر ہے کہ یہ کوئی مستقل حل تو نہ تھا۔
سوال یہ تھا کہ اس کا مستقل حل کیاہو؟ خاتون کا حلقہ احباب وسیع تھا اور اس میں پیشہ طب سے تعلق رکھنے والے بہت سے لوگ بھی شامل تھے۔ چنانچہ رابطوں اور طبی مشاورت کے مواقع کی کوئی کمی نہ تھی۔یوں مشاورت کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوا۔ ایکسرے اور ایم آر آئی سمیت متعدد ٹیسٹ ہوئے اور علاج بھی ایک سے زیادہ تجویز کئے گئے ۔بیشتر صورتوں میں انہیں آپریشن کرانے کو کہا گیا لیکن خاتون کو تسلی نہ ہورہی تھی۔

چھ ماہ کے دوران کتنے ہی جاننے والوں سے گفتگو ہوئی اور مختلف ماہرین سے بھی تبادلہ خیال ہوا ۔مختلف طرح کے لوگوں سے مشاورت کے نتیجے میں خاتون ایک بہت بڑی الجھن کا شکار ہوگئیں ‘ اس لئے کہ ہر فرد اپنے علم اورتجربے کے مطابق نئی تشخیص اورمختلف علاج تجویز کر رہاتھا۔ بعض صورتوں میں ان کی رائے ایک دوسرے سے ہم آہنگ اور بعض اوقات بالکل مختلف ہوتی ۔اگر کسی کی گفتگو سے انہیں اطمینان ہو جاتا تو اس کی مہارت پرشکوک و شبہات پید اہوجاتے اور جہاں مہارت کے بارے میں مثبت اطلاعات ملتیں‘ وہاں گفتگو کرکے تسلی نہ ہوتی۔ درد تو بڑھتا گھٹتا رہتا لیکن ہرنئی مشاورت کے ساتھ ان کا کنفیوژن بڑھتا ہی چلا جارہاتھا۔

زندگی کا کوئی بھی میدان ہو‘ کنفیوژن انسان کی قوت فیصلہ سلب کرلیتی ہے۔ یہی کچھ ان کے ساتھ بھی ہورہاتھا۔ انہیں یہ احساس توہو گیا تھا کہ آپریشن کے بغیر چارہ نہیں لیکن یہ کس سے کرائیں؟ ‘ کس جگہ سے کرائیں؟ اور کیا آپریشن واقعی کامیاب ہوجائے گا؟ یہ سوالات انہیں مسلسل پریشان کررہے تھے۔ ان موضوعات پروہ واقف کاروں سے جتنی گفتگوکرتیں ‘اتنی ہی زیادہ کنفیوژڈ ہوجاتیں۔
علاج کے لئے بعض لوگوں کی تو ماہرین تک دسترس ہی نہیں ہو پاتی چنانچہ ان کا جس کسی سے رابطہ ممکن ہوجائے‘ وہ اسی کا تجویز کردہ علاج شروع کردیتے ہیں لیکن یہاں معاملہ اس کے برعکس تھا۔ان کے تعلقات وسیع تھے اور وسائل بھی اتنے تو تھے کہ ایک کے بعد دوسرے ماہر سے مشاورت کرسکتی تھیں اور یہی چیز ان کے لئے کنفیوژن کا باعث بن رہی تھی۔

درست رویہ یہی ہے کہ دیکھ بھال کے بعد کسی ایک معالج پر اعتماد کرلیاجائے اور پھر نتائج اللہ پر چھوڑ دیے جائیں۔ دوسری جانب معا لجین کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ مشاورت فراہم کرتے وقت مریض کے ذہن میں آنے والے تمام سوالات کے تسلی بخش جوابات دیں۔ اس عمل میں کچھ وقت لگ سکتا ہے لیکن اسے علاج ہی کا ایک حصہ سمجھنا چاہیے۔

دوست احباب اور واقف کاروں کوبھی چاہیے کہ وہ مشورہ طلب کرنے والوں کو کسی نتیجے پر پہنچنے میں مدد دیں‘ نہ کہ ایسے تبصرے اور تجزئیے کریں کہ مریض کی الجھن مزید بڑھ جائے ۔