بیری بیری

271

    بیری بیری کا وٹامن بی کے ساتھ تعلق بہت گہرا ہے لہٰذا اس وٹامن کا ذرا تفصیل سے تعارف کرانا ضروری ہے ۔ وٹامنز کو ان کی حل پذیری کی بنیاد پر دو گروہوں میں تقسیم کیاجاسکتا ہے۔ وٹامن ”بی “ اور”سی “پانی میں حل ہو نے والے ہیں جب کہ ان کے سوا باقی تمام وٹامنز مثلاً وٹامن ”اے “، ”ڈی“،” ای “ اور ”کے“چکنائی میں حل پذیرہیں ۔ چکنائی میں حل ہونے والے وٹامنز اگر ضرورت سے زیادہ ہوں تو جسم کے اندر کی چربی اور جگر میں ذخیرہ ہو جاتے ہیں لہٰذا اگر وہ غذا میںموجود نہ ہوں توبھی طویل عرصے تک گزارہ چل جاتا ہے۔ اس کے برعکس پانی میں حل پذیر وٹامنز کی زیادہ مقدار لے بھی لی جائے تو ہمارا جسم انہیں ذخیرہ نہیں کرپاتا اوروہ پیشاب اور دیگر صورتوں میں جسم سے خارج ہوجاتے ہیں۔ ان سے محرومی کے بُرے اثرات بہت جلد ظاہر ہونے لگتے ہیں۔ وٹامن”سی“ کی کمی سے چند ہی ہفتوں میں ماس خورہ ( Scurvy) ہوجاتا ہے جبکہ وٹامن”بی 1“کی کمی سے دیگر امراض کے علاوہ بیری بیری کامرض بھی ہو جاتا ہے۔
وٹامن ”بی “ اصل میں کوئی ایک وٹامن نہیں بلکہ وٹامنز کا ایک گروپ ہے جسے اجتماعی طور پر ”وٹامن بی کمپلیکس“ کہاجاتا ہے۔ اس میں آٹھ وٹامنزشامل ہیں جو وٹامن بی(thiamin)1 ‘بی2 (riboflavin) ‘بی 3 (niacin)‘ بی5 (pantothenic acid)‘بی 6 (pyridoxine) اور بی(cobalamin)12ہیں۔ اسی گروپ میں وٹامن بی7 (biotin)اور فولک ایسڈ(folic acid)یعنی وٹامن بی 9 بھی شامل ہیں۔بعض لوگ اینوسیٹال(Inositol)‘کولین(Choline)اورپا با (Para aminobenzoic acid) کوبھی اس گروپ میں شامل کردیتے ہیںلیکن حقیقتاً یہ مرکبات اس کا حصہ نہیں ہیں۔
بیری بیری دنیا کے ان خطوں میں زیادہ پائی جاتی ہے جہاں غربت کی شرح زیادہ ہے اور متوازن غذا لوگوں کی دسترس میں نہیں۔ دوسری طرف ترقی یافتہ ممالک میں اس کے اسباب میں لوگوں کا ٹھیک طرح سے کھاناہضم نہیں کرپانا یا کثرت شراب نوشی ہیں جس کے سبب وہ میسر ہونے کے باوجودمتوازن غذا نہیں کھاتے۔ حمل کی وجہ سے بعض خواتین کے نظام انہضام پر منفی اثر پڑتا ہے اور انہیں الٹیاں زیادہ آتی ہیں جس سے ان کا کھایا پیا ضائع ہوجاتا ہے۔اس سے ان میں دیگر غذائی کمیوں کے علاوہ وٹامنB1کی بھی کمی ہوجاتی ہے۔ان کی اس حالت کو طبی اصطلاح میں شدت قے (hyperemesis gravidarum)کہاجاتا ہے۔
بیری بیری کی دوبڑی اقسام ہیں۔ان میں سے ایک میں دل اور خون کی گردش کانظام بُری طرح سے متاثر ہوتا ہے۔جب دل بحیثیت پمپ اپنا کام ٹھیک طرح سے نہیں کرپاتا تو مریض کے جسم میں پانی جمع ہونے لگتا ہے جس سے جسم سوج جاتا ہے۔ مزید برآں ایسے افراد کو سانس لینے میں دقت ہوتی ہے ‘ تھوڑی سی حرکت پر سانس اور نبض کی رفتاربڑھ جاتی ہے اور وہ بہت جلد تھک جاتے ہیں۔ اگر ان کا بروقت علاج نہ ہو تو یہ لوگ عارضہ قلب کی وجہ سے فوت بھی ہوسکتے ہیں۔ مرض کی اس قسم کو گیلی بیری بیری (wet beriberi) کہاجاتا ہے۔اس کی وجہ تسمیہ مریض کے جسم میں فالتو پانی کا جمع ہوجانا ہے۔
اس کی دوسری قسم خشک بیری بیری کہلاتی ہے جس میں فرد کے اعصابی نظام پر گہرا اثر پڑتا ہے۔ایسے مریضوں کے پٹھے آہستہ آہستہ کمزور ہوجاتے ہیں اور یہ کمزوری ان کو اتنی متاثر کرتی ہے کہ بالآخر وہ چلنے پھرنے سے بھی معذور ہوجاتے ہیں۔اُن کے ہاتھ پاﺅں سن ہوجاتے اور کانٹے کی طرح سوکھ جاتے ہیں جس کا سبب ان کے پٹھوں کا شل ہوکر اپنا کام کرنا چھوڑ دینا ہے۔ وٹامن B1کی کمی کا اثر دماغ پر بھی ہوتا ہے جس کی وجہ سے یہ مریض ٹھیک طرح سے بول نہیں پاتے اور انہیں سوچنے سمجھنے میں دقت ہونے لگتی ہے۔اگر وہ چلنے کی کوشش کریں تو اُن کی چال بے ڈھنگی ہوجاتی ہے اور وہ اپناتوازن برقرارنہیں رکھ پاتے۔ اس کے علاوہ ان کی آنکھیں ادھر ادھر گھومتی رہتی ہیںجسے ڈیلے کا پھڑکنا(Nystagmus)کہاجاتا ہے۔ یہ افراد اکثراوقات الٹیاں بھی کرتے ہیں۔
ننھے بچوں میں یہ مرض طفلانہ بیری بیری(infantile beriberi)کہلاتا ہے جو بالعموم دو سے چھ ماہ کے بچوں میں ہوتی ہے۔ ایسے میں ان کی آوازٹھیک طرح سے نہیں نکل پاتی اوربیٹھ (hoarse)جاتی ہے۔ایسے بچوں کا وزن بہت کم ہوتا ہے‘ انہیں اُلٹیاں زیادہ آتی ہیں اورپاﺅں وغیرہ میں سوجن بھی ہوجاتی ہے۔انہیں دست آتے ہیں‘ نبض تیز ہوجاتی ہے اور کبھی کبھی مرگی کی طرح کے دورے بھی پڑتے ہیں۔ایسے بچے چڑچڑے مزاج کے ہوتے ہیں ۔ طفلانہ بیری بیری کو اس مرض کی تیسری قسم قراردیاگیا ہے جبکہ اس کی ایک چوتھی قسم بھی ہے جس کا تعلق معدے اور انتڑیوں سے ہے۔ایسے مریضوں کو پیٹ میں درد ہوتا ہے‘الٹیاں آتی ہیں اور اُن کے خون میں دودھ کا تیزاب (lactic acid)بھی بڑھ جاتا ہے۔
مختلف اناجوں مثلاً جو‘جوار اور گندم وغیرہ کے علاوہ چاول کے دانوں پربھوسے کے علاوہ ایک اور چھلکا(bran)بھی پایاجاتا ہے۔ قدرتی چاول کا رنگ بھوراہوتا ہے جو پالش ہونے کے بعد سفید ہوجاتا ہے اور کھانے میں بھی اچھا لگتا ہے۔ پالش شدہ چاولوں کو زیادہ دیر تک ذخیرہ بھی کیا جا سکتا ہے تاہم اس عمل میں وہ وٹامن بی 1سے محروم ہوجاتے ہیں۔ جب سے لوگوں نے چاول کے چھلکے کو ہٹاناشروع کیا ہے‘ تب سے ان ممالک میں یہ بیماری بہت بڑھ گئی جن میں چاول زیادہ استعمال ہوتے ہےں۔ آج جنگوں کی وجہ سے لاکھوں کی تعداد میں لوگ دوسرے ممالک کا رُخ کررہے ہیں جہاں انہیں متوازن غذا میسر نہیں ۔ بہت سی جیلوں میں قیدیوں کو مناسب غذا نہیں ملتی لہٰذا ان میں بھی یہ مرض زیادہ دیکھنے میں آتا ہے۔ پناہ گزینوں کے علاوہ ڈائلیسزکے مریضوں میںبھی یہ مرض وقتاً فوقتاًسر اٹھاتا رہتا ہے۔
بیری بیری کا مثبت پہلو یہ ہے کہ اگر اسے ٹھیک طرح سے تشخیص کرلیاجائے اور وقت پر علاج ہوجائے تو مریض کی جان بہت آسانی سے اورکم قیمت میں بچائی جاسکتی ہے۔