ایلوویرا ایک جادوئی پودا

20

اگر آپ نے کوار گندل یا ایلو ویرا کا پودا دیکھا نہیں تو کم از کم اس کانام ضرورسنا ہو گا۔ چونکہ یہ عام پایا جانے والا اور سستے داموں دستیاب پودا ہے‘ اس لئے اکثر اوقات اسے نظرانداز کر دیاجاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ننھا سا پودا اپنے اندر بے پناہ تاثیر اوران گنت فوائد چھپائے ہوئے ہے۔ یہ جڑی بوٹی نہ صرف انسانی حسن کو دوبالا کرنے کی کریموں میں استعمال کی جاتی ہے بلکہ مختلف بیماریوںکی ادویات میں بھی اس کے اجزاء شامل کئے جاتے ہیں۔اور سب سے اہم بات کہ اسے باآسانی گھر میں بھی اگایا جاسکتا ہے۔
اس پودے کی تاریخ چار ہزار سال پرانی ہے۔ ملکوتی حسن کی مالک مصری ملکہ قلوپطرہ اپنی خوبصورتی کے نکھار کے لیے ایلوویرا استعمال کرتی تھی۔ سکندراعظم کے بارے میں مشہور ہے کہ اس کی فوج جنگوں میں زخموں کی مرہم پٹی کے لئے ایلو ویرا جیل کا استعمال کرتی تھی۔ امریکہ کو دریافت کرنیوالا کولمبس بھی جلد ی بیماریوں کے لئے ایلو ویراکا مرہم لگاتا تھا۔ وہ بحری سفر کے دوران اپنے جہاز میں اس کا پودا ضرور رکھتا تھا۔چینی طب میں بھی عہد قدیم سے ایلوویرا کو مختلف دوائوں کا حصہ بنایا جاتارہا ہے۔

پودے کے اجزاء
کوار گندل ایک سخت جان پودا ہے جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ سات سال تک پانی کے بغیر زندہ رہ سکتا ہے۔ اس کی پانی کی ضرورت اتنی کم ہے کہ اس کے لئے رات کو گرنے والی شبنم ہی کافی ہوتی ہے۔ اس کا قد ڈیڑھ سے اڑھائی فٹ تک ہوتا ہے۔ اس کے پتے سائز میں بڑے اور نیزے کی شکل کے ہوتے ہیںجن کے سروں پر کانٹے ہوتے ہیں۔ اس کے پتے تنے کے ساتھ سے نکلتے ہیں اور ایک باریک تہہ کے ذریعے اس سے جڑے ہوتے ہیں جنہیں الگ کرنے پر شاخ اور پتا زخمی نہیں ہوتے۔ ایک پودے پر عموماً 12 سے16 پتے لگتے ہیں۔ نچلے پتے ذرا پختہ اور استعمال کے لئے تیار ہوتے ہیں جبکہ اوپر کے پتے نئے اور کمزور ہوتے ہیں۔دنیا میں اس کی سالانہ تجارت 80 ملین ڈالر تک ہے جس میں 65 فی صد حصہ امریکہ،10 فی صد بھارت اور چین اور باقی 25 فی صد دوسرے ممالک کا ہے۔
ایلوویرا کے پتے تقریباً تین سال کے عرصے میں اس قابل ہوجاتے ہیں کہ ان سے بھرپور فائدہ اٹھایا جاسکے۔ اس مرحلے پر وہ دو بنیادی چیزیں جیل اور عرق فراہم کرتے ہیں۔ ’’ایلو‘‘ ایک صاف، جیلی نما مواد ہے جو پتے کے اندورنی حصے میں پایا جاتا ہے۔ خوبصورتی بڑھانے والی اکثر مصنوعات مثلا صابن، لوشنز اور کریمز وغیرہ میں اس کا استعمال کیاجاتا ہے۔ زرد رنگ کا عرق پتے کے نیچے سے حاصل ہوتا ہے جو مختلف ادویات میں استعمال ہوتا ہے۔

اگانے کا طریقہ
ایلوویرا ان پودوں میں شامل ہے جنہیں اگانا آسان ترین ہے‘ اس لئے کہ یہ ہر طرح کی آب و ہوا اور موسم میں اپنا تحفظ کر لیتا ہے۔ تاہم اس کی بہتر افزائش کے لئے مثالی آب و ہوا ساحلی علاقے ہیں۔ اسے گھر میں اگانے کا طریقہ مندرجہ ذیل ہے:
نیا پودا لگانے کا طریقہ
اسے اگانے کے دو طریقے ہیں جن میں سے پہلا بیج اور دوسرا پنیری کے ذریعے ہے ۔ہمارے ہاں دوسرا طریقہ ہی زیادہ مقبول ہے۔ آپ کسی نرسری یادوست سے اس کا ننھا پودا ’’بے بی پلانٹ‘‘لے آئیں اور گملے میں لگا دیں۔
کوار گندل کی یہ خصوصیت ہے کہ جب یہ بڑا ہو جاتا ہے تو اپنی جڑوں سے مزید پودے نکالنا شروع کر دیتا ہے۔ ان چھوٹے پودوں کو بڑے پودے سے الگ کر کے با آسانی اگایا جا سکتا ہے۔
چھوٹے پودوں کو بڑے پودے سے الگ کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ چھوٹے پودے کے اطراف سے مٹی ہٹا لی جائے۔ پھر کسی چْھری کی مدد سے ان جڑوں کو کاٹ کر الگ کر لیا جائے جو چھوٹے پودے کو بڑے پودے سے ملا رہی ہوں‘تاہم چھوٹے پودے کے ساتھ کچھ جڑیں رہنی چاہیں۔اس کے بعد اسے مٹی میں لگا دیں تو یہ اگ آئے گا۔
گملے کا انتخاب:
ایلوویرا کی جڑیںچونکہ زیادہ لمبی نہیں ہوتیں ‘اس لیے یہ کسی کم لمبائی والے گملے یا کنٹینر میں بھی آسانی کے ساتھ اگایا جاسکتا ہے۔گملے کا انتخاب کرتے وقت اس بات کا خیال رکھیں کہ اس میں پانی کے اخراج کا انتظام اچھاہو تاکہ زائد پانی آسانی سے خارج ہو سکے۔ اس طرح پودا اضافی نقصان سے محفوظ رہے گا۔
گملے کی مٹی:
اس کی مٹی بنانے کے لئے آدھی مٹی اور آدھی گوبر کی کھاد کو اچھی طرح ملاکر گملے میں بھر لیں۔ اس کے بعد پودے کی جڑوںکو پتوں تک مٹی میں دبا دیں۔ پتوںکو مٹی میں دبانے سے گریز کریں ورنہ پتے گل جائیں گے۔ اب گملے کو کسی ایسی جگہ رکھیں جہاں دن میں زیادہ وقت تک دھوپ رہتی ہو۔یاد رہے شدید گرمی اور خشک لو سے بچانے کے لئے اسے مناسب سایہ ضرور فراہم کریں ورنہ پتوں پر دھوپ سے جلنے کے نشانات نمودار ہوجائیں گے اور پودا پیلا یا بھورے رنگ کا ہوجائے گا ۔
دیکھ بھال
اچھی افزائش کے لئے ضروری ہے کہ تنے کے ساتھ سے نکلنے والی شاخوں کو ہٹا دیں اورصرف تنے کے ساتھ والے پتوں کو رہنے دیں۔ایسا کرنے سے پودا بڑھتا بھی صحیح ہے اور اس کے پتوں کی طبی اہمیت بھی برقرار رہتی ہے۔
عام طور پرکوار گندل پر کوئی کیڑا حملہ نہیںکرتا لیکن پھر بھی یہ دو بیماریوںکا شکار ہوسکتا ہے ۔ان میں سے ایک اس کی جڑوںکا گل جانا اور دوسرا پتوںکا سرخ یا پیلاہو جاناہے۔ان بیماریوں سے بچائو کے لئے اسے زیادہ پانی نہ دیا جائے۔ بہتریہ ہے کہ اسے گرمیوں میں دن میں ایک دفعہ اور سردیوں میں دویا تین دن کے بعد پانی دیا جائے۔ گملے میں زائد پانی کے اخراج کا مناسب انتظام بھی ہونا چاہئے۔

Leave a Reply

avatar
  Subscribe  
Notify of