ایسی ہار‘ ایسی جیت

109

مقابلہ کسی بھی کھیل میں اور کسی بھی سطح پر ہو‘ اس میں شریک ہر فرد اسے بہرحال جیتنا ہی چاہتا ہے۔ یہاں جس مقابلے کا ذکر ہو رہا ہے‘ وہ عالمی سطح کا تھا جس کا ”کوالیفائنگ راﺅنڈ“ ہو رہا تھا۔ بالفاظ دیگر اس میں شکست کھا نے والے کھلاڑی کو مقابلے سے باہر کر دیا جانا تھا۔ تاہم اس میں ایک اچھوتی بات یہ ہوئی کہ اس میں شریک تمام کھلاڑیوں میں سب سے پیچھے رہ جانے والی ایتھلیٹ کو بھی آئندہ مراحل کے لیے کامیاب قرار دے دیا گیا۔
برازیل کے شہر ریو(Rio) میں جاری اولمپکس میں یہ پانچ کلومیٹر کی دوڑ تھی۔ ابھی نصف سے کچھ ہی زائد یعنی تین کلومیٹر کا فاصلہ طے ہو پایا تھا کہ دوڑ میں شریک دو ایتھلیٹس کے پاﺅں آپس میں ٹکرائے اور اگلے ہی لمحے دونوں زمین پر تھیں۔ دونوں کا تعلق دو مختلف ملکوں‘نیوزی لینڈ اور امریکہ سے تھا۔ دوڑ میں ان کی شرکت ایک دوسرے کے خلاف تھی لہٰذا اسے جیتنے کی کوشش میں انہیں گرتے ہی دوبارہ اٹھ کر دوڑ شروع کر دینا چاہیے تھی۔ دونوں نے کوشش کی تاہم ان میں سے ایک‘ایبی ڈی اگوسٹینو( Abbey D’Agostino ) ہی تیزی سے اٹھ پائی۔ یہ اس کی جیت کے لئے شاندار موقع تھا‘ اس لئے کہ اس کی حریف نکی ہیمبلن(Nikki Hamblin) زمین پر پڑی تھی۔اس نے ایک لمحے کے لئے اپنی مدمقابل کھلاڑی کی طرف دیکھا اور پھر آگے بڑھنے کی بجائے دوڑ چھوڑ کر اس کی جانب توجہ کی۔ ہیمبلن ابھی تک ٹریک پر پڑی تھی اور اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔
”اٹھو! ہمیں اسے پورا کرنا ہے۔“ اگوسٹینو نے ہیمبلن کے بازو کے نیچے ہاتھ ڈال کراسے سہارا دے کر اٹھایا اور اس کی ہمت بندھائی۔
حوصلہ دلانے والے ان الفاظ نے فوری اثر کیا اور دونوں نے ایک بار پھر دوڑنا شروع کیا۔ اب معلوم ہوا کہ ابتداءمیں حوصلہ کھو بیٹھنے والی ایتھلیٹ ہیمبلن کے مقابلے میں حوصلہ دلانے والی ایتھلیٹ اگوسٹینو زیادہ زخمی ہے۔شدید تکلیف کی وجہ سے اس کے لیے دوڑنا ممکن نہ ہو پا رہا تھا۔ اب حوصلہ دینے کی باری الٹ گئی۔ ہیمبلن نے اگوسٹینو کو حوصلہ دلانا چاہا لیکن پھر یہ دیکھ کر کہ ٹخنا زخمی ہونے کی بنا پر اب وہ دوڑ جاری نہیں رکھ سکتی‘ اس نے اپنا سفر جاری رکھا۔ البتہ منزل پر پہنچ کر وہ اس وقت تک انتظار کرتی رہی جب تک کہ زخمی اگوسٹینو بھی وہاں نہ پہنچ گئی۔
ایک ایسے دور میں جب کھیلوں کے کسی بھی مقابلہ میں پل پل کی تفصیلات کیمروں کی آنکھ سے لاکھوں کروڑوں لوگوں تک پہنچ رہی ہوں‘یہ سارا منظر بھلا کیسے پوشیدہ رہ سکتا تھا۔
دوڑ کی باقی دلچسپیوں کے ساتھ ساتھ یہ منظر جن لوگوں نے بھی دیکھا‘ وہ ان دونوں کھلاڑیوں کے جذبے سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ منتظمین نے اس کی قدر کرتے ہوئے دونوں کو ریس ہارنے کے باوجود فائنل مقابلے کے لیے منتخب کر لیا۔ یوں مقابلہ ہار کر بھی وہ فتح یاب ہو گئیں۔
باہم مقابلے کا رجحان قدرت کے ان انتظامات میں سے ہے جو اس نے انسانی زندگی کے ارتقاءکے لیے کیے ہیں۔
ہر انسان اپنی جگہ منفرد صلاحیتوں اور استعداد کا حامل ہوتا ہے۔ ہر ایک کی پرورش اور نشوونما بھی مختلف ماحول میں ہوتی ہے جو اسے دوسروں سے منفرد شناخت دیتی ہے۔ اس انفرادیت کے باوجود انسان زندگی کے ہر میدان میں دوسروں سے آگے بڑھنا چاہتا ہے۔ یوں زندگی میں ہر وقت ایک کشمکش اور مقابلے کی کیفیت جاری رہتی ہے۔ یہ صورتِ حال انسانوں کو اپنی مہارتیں بہتر بنانے اور نئی نئی ایجادات و اختراعات کی جانب متوجہ کرتی ہے۔ یہ مقابلہ اگرصحت مند بنیادوں پر ہو تو پوری انسانی تہذیب آگے بڑھتی ہے۔ دوسری صورت میں نتیجہ فساد اور جنگ و جدل کی شکل میں نکلتا ہے اور بسااوقات اجتماعی تباہی مقدر بنتی ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ کھیل کا میدان انسانوں میں مقابلے کے صحت مندانہ رجحانات تشکیل دینے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ یوں یہ محض وقت گزاری کا بہانہ اور ذہنی و جسمانی تفریح ہی نہیں بلکہ کھیلنے والوں، کھیل دیکھنے والوں اورکھیل سے وابستہ تمام ذمہ داران کے لیے تربیت کا ایک اہم میدان بھی ہے۔ چنانچہ یہاں کامیابی اور ناکامی کے حوالے سے پیمانہ محض فتح و شکست نہیں بلکہ یہ بھی ہے کہ کھلاڑیوں اورکھیل سے جڑے دیگر لوگوں نے بحیثیت مجموعی کس قدر صحت مندانہ طرزعمل اختیار کیا ہے۔