اُون سے الرجی

191

سردیوں کا توڑکھانے پینے کی چیزوں کے علاوہ جن ذرائع سے کیا جاتا ہے‘ ان میں سے ایک گرم کپڑے بھی ہیں۔اونی کپڑے زیادہ گرم ہونے کی وجہ سے بہت مقبول ہیں تاہم کچھ لوگ اُون سے الرجی کی وجہ سے انہیں استعمال نہیں کر سکتے۔یہ الرجی ہے کیا اور اس سے کیسے نپٹاجائے ‘ پڑھئے فریحہ فضل کے اس مضمون میں
_____________________________________________________________________________________________________
خواتین کو لگتا ہے کہ ان کی زندگی میں سب سے مشکل مرحلہ حمل ہے جو اپنے ساتھ بہت سے تفکرات لئے ہوتا ہے۔ اس وقت ’بچہ“ ایک موہوم سے احساس کے سوا کچھ نہیں ہوتا اوروجود کے مرحلے سے کوسوں دور ہوتا ہے۔ اس کے عملی جامہ پہننے سے قبل ماں کا ہر لمحہ امید اور بے یقینی کے درمیان کی کیفیت میں گزرتا ہے۔ اسے اس بات کا شدت سے انتظار ہوتا ہے کہ کب اس کا بچہ اس کی گود میں آئے گا‘انجان اندیشوں سے اس کی جان چھوٹے گی اور وہ سکون کا سانس لے گی۔
مگر ان بھولی بھالی متوقع ماﺅں کو یہ علم نہیں ہوتا کہ ننھا سا ”وجود“ دنیا میں آتے ہی اپنے ساتھ مزید اندیشے اور تحفظات لاتا ہے۔ میری بہن اسماءکو ہی لیجئے جس کے ہاں ابھی کچھ ہی ماہ پہلے بیٹے کی ولادت ہوئی ہے۔ ہر روز ایک نیامسئلہ اس کے سامنے منہ کھولے کھڑا ہوتا اورایک نئی ٹینشن اس کی طرف سے اٹینشن کی منتظر ہوتی ہے۔اس کے ساتھ میں بھی کبھی پریشان ہوجاتی ہوں تو کبھی اس ننھے بھانجے کے بچگانہ مکروں پر ہنسی آتی ہے۔ میری بہن کی یہ پہلی اولاد ہے لہٰذا وہ جلدی پریشان ہو جاتی ہے۔آج صبح ہی اس کا فون آیا:
”فریحہ!میںبہت پریشان ہوں۔جب سے سردیاں شروع ہوئی ہیں’احد‘ کا برا حال ہے۔ اس کی ناک ہر وقت بہتی رہتی ہے اور کھانسی تو گویا اس کی جان ہی نہیں چھوڑتی۔گرم سوئٹر اوراونی ٹوپی پہناﺅں تو اس کے سارے جسم پر دھپڑ(rashes) پڑجاتے ہیں۔ موسم بدلنے پر تھوڑی بہت الرجی تو ہو ہی جاتی ہے مگر اتنے دھپڑ،کہ کیا بتاﺅں ؟“
وہ روہانسی ہو رہی تھی جس پر میں نے اسے تسلی دی اور کہا کہ شام کو کسی ڈاکٹر کے پاس چلتے ہیں اور خود بھی اس کے ساتھ جانے کی حامی بھر لی۔ شام کو ہم بچے کو ساتھ لئے ماہر امراض اطفال ڈاکٹر عائشہ خان کے پاس چلی گئیں۔ تفصیلی معائنے کے بعد انہوں نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ بچے کو ”wool“ یعنی اُون سے الرجی ہے ۔
”اون سے الرجی ؟“ ہم دونوں بیک وقت بولیں:

     ”کیا مطلب ہے ڈاکٹر صاحبہ؟ کیا کسی کو اُون سے بھی الرجی ہو سکتی ہے؟“ اسماءنے حیرت سے آنکھیں پھیلائیں۔
”جی ہاں، یہ بالکل ممکن ہے۔ اگرچہ یہ اتنی عام نہیں مگر کچھ لوگوں کو ہوجاتی ہے۔“ڈاکٹر عائشہ نے جواب دیا۔
اکثر خواتین جانتی ہیں لیکن ممکن ہے کہ کچھ لوگوں کو اس کا علم نہ ہو کہ اون وہ کپڑا ہے جس کا مواد بھیڑکی کھال سے حاصل ہوتا ہے۔ یہ ایک ورسٹائل فیبرک ہے جس سے بنی چیزیں سردیوں میں موزوں ترین پہناوے تصور ہوتی ہےں۔ جن لوگوں کو اُون سے الرجی ہو‘ وہ ان گرم کپڑوں کو نہیں پہن سکتے۔
”مگر یہ کیاہے اور کیوں ہوتی ہے؟“میں نے استفسار کیا۔
احد چونکہ اُن کا آخری مریض تھا لہٰذا ان کے پاس کافی وقت تھا۔ اس لئے انہوں نے تفصیل سے بتانا شروع کیا:
” اس الرجی کا اصل سبب وہ قدرتی تیل ہے جو بھیڑ کی اون میں پایا جاتا ہے۔ یہ تیل لینولین(Lanolin)کہلاتا ہے۔ جس شخص کو اس تیل سے الرجی ہو‘ اسے ہر اس شے مثلاً کریم اورلوشن وغیرہ سے الرجی ہو گی جس میں یہ تیل موجود ہوگا۔“
اسماءاور میرے لئے یہ معلومات نئی بھی تھیں اور دلچسپ بھی ۔ میرے ذہن میں یہ بات آئی کہ ان سے اس کی علامات پو چھوں لیکن میرے بولنے سے پہلے ہی وہ بول پڑیں :
”جن بچوں کو اس سے الرجی ہو‘ ان میں جلدی خارش‘ دھپڑ‘آنکھوں کے سرخ ہوجانے‘سوزش‘ کھانسی یا سانس کے مسائل ‘ ناک بہنے یا چھینکیں آنے کی علامات سامنے آتی ہیں ۔ “
”لیکن ڈاکٹر صاحبہ، کھانسی اور ناک بہنا توکئی بیماریوں کی علامت ہے ؟“ میں نے ان سے پوچھا۔
”آپ نے درست کہا۔ جب مریض ان علامات کے ساتھ ڈاکٹرکے پاس آتا ہے تو وہ کئی دیگر امور کے پس منظر میں علامات کاجائزہ لینے کے بعد دوا تجویز کرتا ہے۔ اس لئے محض علامات کی بنیاد پر خودتشخیصی اور خودعلاجی سے پرہیز کرنا چاہئے ۔“ ڈاکٹر نے پتے کی بات بتاتے ہوئے اپنی اصل بات کو آگے بڑھایا:
”یہ معلوم کرنا ضروری ہے کہ بچے کو ’لینولین‘ سے الرجی ہے یا اونی سویٹر کے اندر موجود مٹی اوردھول وغیرہ سے؟اس لئے کہ بہت دفعہ ہم جس چیز کو اون سے الرجی سمجھ رہے ہوتے ہیں‘ وہ اصل میں گردوغبار (dust) سے ہوتی ہے۔“
”ہا…!“ اسماءکا پورا منہ کھل گیا:”یہ فرق کیسے پتہ چلے گا۔“
”اس الرجی کو چیک کرنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ بچے کو پہلے کاٹن سے بنی ہوئی بنیان یا قمیض اور آخر میں اونی سویٹر پہنائیں۔ اگر بچے کو الرجی نہ ہو تو اس کا مطلب ہے کہ اسے اُون سے الرجی نہیں۔اس کی حتمی تشخیص ’Skin Patch Test‘کے ذریعے ممکن ہے۔ “
ڈاکٹر عائشہ کا کہنا ہے کہ موسم سرما کے آغاز پراونی کپڑوں کو دھو یا ڈرائی کلین کرکے استعمال کرنا چاہئے۔ اگر یہ کپڑے کسی اور بہن بھائی کے ہوں تو زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔
” تو کیا میرا بچہ کبھی اونی کپڑے نہیں پہن سکے گا؟“ اسماءجانے کہاں کھوئی ہوئی تھی۔
”آپ اسے کاٹن سے بنی ہوئی بنیان اور قمیض پہنانے کے بعد اونی کپڑا پہنائیں۔اس کے علاوہ اس کی جلد کو باقاعدہ موئسچرائز کریں۔ کسی اچھے بے بی لوشن یاکریم سے اس کا مساج کریں لیکن پہلے یہ تسلی کرلیں کہ اس میں لینو لین نہ ہو۔ مزید براں اونی کمبل اور اشیاءبچے سے دور رکھیں اور اون کی جگہ کاٹن‘ ریشم اور لینن کے ملبوسات استعمال کریں۔“
ڈاکٹر نے اپنی گفتگو ختم کی اور رخصت ہوگئیں اور ہم اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گئیں۔ اسماءنے گاڑی میں بیٹھتے ہی رونا دھونا شروع کردیا:”یہ کیا ہوگیا میرے بچے کو؟“ پہلے تو میں بھی پریشان ہوگئی لیکن پھر مجھے اس پر اچانک غصہ آنے لگا:
”ہوش کے ناخن لواسمائ۔ یہ کوئی رونے کی بات ہے۔ معمولی سی الرجی ہی توہے، خدانخواستہ کوئی خطرناک بیماری تو نہیںجو تم نے یوں رونا دھوناشروع کر دیا ہے۔“ پھر مجھے اس پر اچانک ترس آنے لگا :”دیکھو اسمائ! تھوڑی سی احتیاط کر لی جائے تو اس کے ممکنہ نقصانات سے بچا جا سکتا ہے۔“
میری بات سن کر وہ مسکرا دی :”ٹھیک ہے، ہم کل ہی بازار جا کر اُحد‘ کے لئے دوسرے مواد کے کپڑے خریدلیں گے۔“
ہم لڑکیوں کا دل بھی اللہ نے کچھ عجیب سا بنایا ہے۔ چھوٹی سی بات ہمیں پریشان کر دیتی ہے اور ذرا سی تسلی سے حوصلہ پکڑ لیتی ہیں۔ اسماءجب کچھ ریلیکس ہوئی تو میں اسے اس کے گھر ڈراپ کرنے کے بعد اپنے گھر واپس آ گئی۔
حوصلے‘دانائی اور صبر سے کام لیا جائے تو بظاہر پہاڑ لگنے والے مسائل سے بھی نپٹا جاسکتا ہے ۔ایسے میں گھر کے بزرگ بڑی نعمت ہوتے ہیں۔ وہ ساتھ ہوں تو کوئی مسئلہ‘ مسئلہ نہیں لگتا۔ ہاں، ایک مسئلہ ہے اور وہ یہ کہ گھر کے بڑے ‘روک ٹوک بہت کرتے ہیں لہٰذا ان کی موجودگی میں بہوﺅں کو اپنی آزادی خطرے میں محسوس ہوتی ہے۔ یوں وہ ان سے دور دور رہتی ہیں اور ان کے تجربے سے استفادہ نہیں کرپاتیں ۔یہ آج کے دورکا المیہ ہے۔
میرے ساتھ تو میری ساس تھیں جوہر لمحہ اپنے مشوروں اور نصیحتوں کی پٹاری لئے میرے ساتھ موجود رہتیں۔ اِدھر کوئی مسئلہ آیا‘ اُدھر پٹاری کھلی اور مسئلہ چٹکیوں میںحل۔ میں نے توسوچ لیا ہے کہ اپنے پوتوں‘ پوتیوں کے لئے ایسی ہی پٹاری بناﺅں گی۔

مزید پڑھیں/ Read More

متعلقہ اشاعت/ Related Posts

آسان لفظوں میں بتائیے کہ الرجی کیا ہے؟ اللہ تعالیٰ نے ہ