انسانیت کی خدمت کا موقع احساس بیدار کیا جائے

انسانیت کی خدمت کا موقع احساس بیدار کیا جائے

171

جب بددیانتی کی بات ہوتی ہے تو ہمارا دھیان کرپشن ‘ ملاوٹ اورکم تولنے وغیرہ کی طرف ہی جاتا ہے لیکن اس کا ایک اور اہم پہلو بھی ہے جو اکثر نظرانداز ہو جاتا ہے ۔اس کا تعلق اُن ذمہ داریوں سے ہے جن کے عوض ہم تنخواہ تو پوری لیتے ہیں لیکن انہیں دیانتداری سے ادا نہیں کرتے۔اس کے بے شمار مظاہر ہمیں اپنے اردگرد نظر آتے ہیں ۔ میڈیسن ایسا شعبہ ہے جو ملازمت کے ساتھ ساتھ انسانیت کی خدمت کا بہت بڑا موقع بھی ہے لیکن اس میں بھی لوگ بے حسی ‘ کام چوری اورٹال مٹول سے باز نہیں آتے۔ ریٹائرڈ سرجن ڈاکٹر عبدالرحمٰن صاحبزادہ کی یادداشتیں
care2
میری نظر میں ہمارے ملک میں موجود اکثر خرابیوں اور مسائل کی بنیادی جڑ بددیانتی ہے جومعاشرے‘ اداروں اور ملکی معیشت کو کھوکھلا کر رہی ہے۔ جب لوگ اس پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں تو اس کے ساتھ یہ جملہ بھی بولتے ہیں کہ ” ایسے کام مغربی ممالک میں نہیں ہوتے۔“ میں 40سال سے زیادہ عرصہ تین مختلف مغربی ممالک میں گزارچکا ہوں‘ اس لئے یہ بات اچھی طرح سے جانتا ہوںاور وثوق کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ وہاں کے لوگ بھی بد دیانتی میں ہم سے پیچھے نہیں۔ جو چیز انہیں اس سے دور رکھتی ہے‘ وہ وہاں کے سخت قوانین ہیں جو صرف دکھانے کے لئے نہیں بلکہ ان پر ان کی اصل روح کے مطابق بلاامتیاز عمل بھی ہوتا ہے۔ لہٰذا لوگ ڈرتے ہیں اور غلط کام کچھ اس طرح سے کرتے ہیں کہ پکڑے نہ جاسکیں۔
جب بددیانتی کی بات ہوتی ہے تو ہمارا دھیان کرپشن ‘ ملاوٹ اورکم تولنے وغیرہ کی طرف ہی جاتا ہے لیکن اس کا ایک اور اہم پہلو بھی ہے جو اکثر نظرانداز ہو جاتا ہے۔ اس کا تعلق اُن ذمہ داریوں سے ہے جن کے عوض ہم تنخواہ تو پوری لیتے ہیں لیکن انہیں دیانتداری سے ادا نہیں کرتے۔ اس کے بے شمار مظاہر ہمیں اپنے اردگرد نظر آتے ہیں۔ میڈیسن ایسا شعبہ ہے جو ملازمت کے ساتھ ساتھ انسانیت کی خدمت کا بہت بڑا موقع بھی ہے لیکن اس میں بھی لوگ بے حسی ‘ کام چوری اورٹال مٹول سے باز نہیں آتے۔ اس کی وضاحت میں اپنا ایک تجربہ بیان کرتا ہوں۔
ایک صبح مجھے ہسپتال کی ایمرجنسی سے ایک نرس کا فون آیا۔ اس نے بتایا کہ وہاںایک نوجوان مریض کو لایاگیا ہے جس نے غلطی سے اپنی ہی بندوق کی گولی سے اپنے دائیں پاﺅں کو زخمی کر لیا ہے ۔
امریکہ کی مختلف ریاستوں میں ہرن کے شکار کے لئے لائسنس جاری کئے جاتے ہیں جن کی فیس سے ریاستی خزانے میں کچھ نہ کچھ پیسے آجاتے ہےں۔ اس کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ اگر شکار کی اجازت نہ دی جائے تو ہرنوں کی تعداد بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے جو رات کو سڑکوں پر آ کر ٹریفک حادثات کا باعث بنتے ہیں۔ میں جس مریض کا ذکر کر رہا ہوں‘وہ ایک فوجی جوان تھا جو چھٹی پرگھر آیا ہوا تھا اور اپنے دوستوںکے ساتھ ہرن کے شکار کے لئے نکلا تھا۔ اُس نے جب کسی چھوٹی سی کھائی یا گڑھے وغیرہ پر سے چھلانگ لگائی تو بے دھیانی میں بندوق کا ٹریگر دب گیا۔ چونکہ اس کی نالی کا رخ نیچے کی طرف تھا لہٰذا اُسے پاﺅں میں گولی لگی اوروہ بری طرح سے زخمی ہوگیا۔
جب مذکورہ مریض کو میرے پاس لایا گیاتو اس کے جوتے کے پرخچے اُڑ چکے تھے۔جوتا خون میں لت پت تھا اور اس کے پاﺅں سے ابھی تک خون بہہ رہاتھا۔میں نے نرس اوراردلی کی مدد سے اس کا جوتا کاٹ کر الگ کیا اور جہاں تک ممکن تھا‘اس کا زخم صاف کرکے اس پر پٹی باندھ دی جس سے خون بہنابندہوگیا۔ہم اس سے زیادہ کچھ نہیں کرسکتے تھے‘ اس لئے کہ ایسے حالات میں زخم کی صفائی آپریشن تھیٹرمیں ہی کی جاتی ہے جس کے لئے اسے ہسپتال میں باقاعدہ داخل کرنے کی ضرورت تھی۔ میں نے مریض کی ہسٹری لی تو پتہ چلا کہ اسے ہیلتھ انشورنس کی سہولت دستیاب نہیں تھی۔ ایسے میں اگر ہم اسے اپنے ہسپتال میں داخل کرکے علاج کرتے تو اس کا خرچ ہزاروں ڈالر تک پہنچ سکتاتھا۔
امریکی حکومت نے ہر ریاست میں مختلف جگہوں پر مسلح افواج کے ریٹائرڈ اور حاضرسروس افراد اور ان کی فیملیوں کے لئے ہسپتال بنا رکھے ہیں جہاں ان کا علاج مفت ہوتا ہے۔ ان ہسپتالوں کو” وی اے ہسپتال“ کہاجاتا ہے۔ اس مریض کا علاج بھی 40میل کی دوری پر واقع ”وی اے ہسپتال“ میں مفت ہوسکتا تھا۔مریض نے بھی یہی خواہش ظاہر کی کہ اسے وہاں بھیج دیاجائے۔
امریکہ میں ڈاکٹروں کو پرائیویٹ پریکٹس کا موقع بھی دیاجاتا ہے لہٰذا وہ جتنا کام کریں ‘انہیں اتنی ہی زیادہ اُجرت بھی مل جاتی ہے۔ایسے ڈاکٹروں کو اگر دُگنے مریض بھی دیکھنے پڑجائیں تو اُن کی جبینوں پر کوئی شکن نمودار نہیں ہوتی‘ اس لئے کہ اسی تناسب سے اُن کی آمدنی میں اضافہ ہوتاجاتا ہے۔اس کے برعکس ” وی اے“ ہسپتالوں میں ڈاکٹر اور عملے کے دیگر افراد محض تنخواہ پر کام کرتے ہےں۔
میرایہ بھی مشاہدہ ہے کہ تنخواہ دار شخص خواہ امیر ہو یا غریب ‘ چھوٹاکارکن ہو یا بڑا افسر اپنے کام میں کہیں نہ کہیں ڈنڈی ضرورمارتا ہے، اس لئے کہ ایسا کرنے کے باوجود اسے مہینے کے بعد تنخواہ پوری مل جاتی ہے ۔اس معاملے میں مشرقی اور مغربی ممالک کے باشندوں میں کوئی فرق نہیں۔ اگر آپ مجھ سے اختلاف کرنا چاہیں تو یہ آپ کا حق ہے‘ لیکن میرا مشاہدہ اورتجربہ بہرحال یہی ہے ۔
مریض کو اس کے ہسپتال تک پہنچانے کے انتظامات کرنا میرا قانونی نہیں‘ اخلاقی فرض تھا جس کے لئے میں نے برمنگھم کے وی اے ہسپتال میں فون پر رابطہ کیا۔وہاں ایک کے بعد دوسرے فرد سے بات کرنے میں 15سے 20 منٹ ضائع ہو گئے۔ بالآخر ڈیوٹی پر موجود سرجن کے ساتھ بات ہوئی تواُس نے کہا کہ وہ اس وقت تک کچھ نہیں کرسکتا جب تک ہسپتال کا ایڈمنسٹریٹر اس مریض کوقبول نہیں کرلیتا۔
میںنے ایڈمنسٹریٹر سے بات کرناچاہی توپہلے اس کے سیکرٹری نے مجھ سے لمبا چوڑا انٹرویو لیا جس کے بعد ہی اس نے اُس سے بات کرائی۔ میں نے اس کے سامنے وہی قصہ دہرایا جو مختلف جگہوں پر پہلے بھی تین سے چار بار بتا چکا تھا۔ایڈمنسٹریٹرکے طرز عمل سے ایسے لگ رہا تھا جیسے اس پر کوئی بیگارآن پڑی ہو۔ پھراس نے اچانک ایک ایسا سوال کیا جسے سن کر مجھے نہ صرف شدید حیرت ہوئی بلکہ افسوس بھی ہوا ۔وہ کہنے لگا:”کیا یہ واقعتاً ایمرجنسی ہے یا اس میں کسی تاخیر کی گنجائش ہے؟“
مجھے غصہ تو بہت آیا لیکن میں نے اسے دباتے ہوئے کہا: ”جناب! اگر گولی سے کسی جوان کے پاﺅں کے پرخچے اڑچکے ہوں تو آپ اسے ایمرجنسی کے علاوہ اور کیا نام دیں گے؟“ پھر میںنے پوچھا ”آپ اس میں تاخیر کی بات کیوں کر رہے ہیں؟ “ جواب ملا: ”مجھے یقین ہے کہ شکار کے دوران وہ اپنے ساتھ فوجی شناختی کارڈ یا دیگر دستاویزات لئے نہیں پھررہاہوگا۔ ان دستاویزات کو لانے کے لئے اسے گھر جانا ہوگا اور اس میں اسے وقت تو لگے گا ناں ؟“ میں نے جھلا کر کہا: ”جناب! اس کے پاﺅں سے خون ضائع ہورہا ہے۔عارضی پٹی سے خون بہنے کی رفتار میں خاصی کمی آگئی ہے لیکن اُسے آپریشن تھیٹر لے جانے کی اشد ضرورت ہے تاکہ اسے بے ہوش کرکے اس کے پاﺅں کی صفائی اورمرمت کی جا سکے۔اگر انفیکشن بڑھ گیا تو اس جوان آدمی کے پاﺅں کو کاٹنا بھی پڑسکتا ہے۔“
مزید15منٹ کی مغزکھپائی کے بعد میں نے اُسے اس بات پر قائل کرلیا کہ مریض کو ایمرجنسی کی وجہ سے ہسپتال میں لایاجاسکتا ہے۔ یہ مسئلہ تو طے ہوگیا لیکن جب دوبارہ سرجن کو فون کیا تو اس نے کہا کہ حادثے میں امکانی طور پر نقصان پاﺅں کی ہڈیوں کو ہی پہنچا ہو گا لہٰذا اسے میرے بجائے آرتھوپیڈک سرجن کے پاس بھیجا جانا چاہئے۔
ایک بارپھر فونوں کاسلسلہ شروع ہوگیا۔آرتھوپیڈک سرجن آپریشن کررہاتھا جسے نرس کے ذریعے پیغامات بھجوائے گئے ۔ وہ اس آپریشن کے بعد گھر جانا چاہتا تھالہٰذا بہت پس وپیش کے بعد وہ مریض کو قبول کرنے پر راضی ہوا۔ اس دوران فون پر میرے دو سے اڑھائی گھنٹے صرف ہوئے اور اس کابل بھی یقیناًہسپتال کو دینا پڑا ہوگا۔بالآخر تین گھنٹے کی تاخیر کے بعد مریض کو ایمبولینس کے ذریعے مذکورہ بالا ہسپتال لے جایاگیا جہاں اس کا آپریشن ہو گیا۔
انسانی فطرت‘ بنیادی طور پر اچھی ہے اور اچھائی کی تحسین کرتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ دوسروں کی مدد سمیت مثبت جذبوں کو بالعموم پسند کیا جاتا ہے۔ہمیں عام لوگوں میں بالعموم اور ہسپتالوں میں کام کرنے والوں میں بالخصوص یہ تصور راسخ کرنا چاہئے کہ پریشان حال انسانوں کی خدمت انہیں جو طمانیت دے سکتی ہے‘ وہ دولت کے انبار سمیت کوئی بھی چیز نہیں دے سکتی۔دوسری بات یہ ہے کہ ہسپتالوں میں مریض کی مدد کو پالیسی میں بنیادی اصول بنانا چاہئے اور اس حوالے سے جزا و سزا کو بھی بروئے کار لانا چاہئے۔