آج ہی اس کی عادت ڈالئے تحرک اور اٹھنے بیٹھنے کا صحیح انداز

137

پڑھانے کے علاوہ یونیورسٹی میں ان کے پاس ایک اہم شعبے کی سربراہی بھی تھی۔ کئی تحقیقی منصوبوں سے وابستگی کے ساتھ ساتھ وہ علاقائی اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ بھی منسلک تھے۔ انہیں اپنے موضوع کے اعتبار سے دنیا بھر میں ہونے والی کانفرنسوں میں شرکت کی دعوت دی جاتی اور وہ ان میں جانے کا اکثر اہتمام بھی کرتے تھے۔ یہ تمام امور ان کی انتظامی اورعلمی صلاحیت واستعدادکا منہ بولتا ثبوت توہیں ہی لیکن اہم اور دلچسپ بات ان کی قابل ِ رشک حد تک اچھی جسمانی صحت ہے۔
اس ضمن میں سوال کرنے پروہ اپنے دورطالب علمی کاذکر کرتے ہوئے بولے:”اکثرایساہوتا کہ ہم اپنی پڑھائی میں محو ہوتے کہ اچانک ایک بزرگ خاتون ٹیچر کمرے میں داخل ہوتیں۔ وہ نہ صرف ہماری توجہ اپنی جانب مبذول کرالیتیں بلکہ بعض اوقات ہماری پشت پرآکر اچانک ہماری گردن کودائیں بائیں موڑدیتیں۔ کبھی اچانک ہم میں سے کسی کوبلاتیں اورکہتیں کہ تمہیں باہر کوئی ملنا چاہتا ہے۔ باہرجاکر ہمیں معلوم ہوتا کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ یعنی وہ کوئی نہ کوئی ایسی بات یا حرکت کرتیں جس میں ہمیں اٹھنا پڑتایا بیٹھے ہی بیٹھے اپنی پوزیشن بدلنا پڑتی۔“
انہوں نے بتایا کہ یہ 70 سالہ بزرگ خاتون تعلیم کے شعبے سے ریٹائرڈ تھیں اوراب یونیورسٹی میں اعزازی طورپرپڑھا رہی تھیں۔ وہ اگرچہ رضاکار تھیں لیکن یونیورسٹی انتظامیہ نے انہیں نہ صرف اس بات کی اجازت دے رکھی تھی کہ وہ وقت بے وقت کلاس یا لائبریری میں طلبہ کی مصروفیت میں دخل اندازی کریں، بلکہ طالب علموں کے ساتھ بے تکلفی کا یہ عمل ان کی باقاعدہ ذمہ داری میں شامل تھا۔بظاہر یہ بات بڑی عجیب تھی۔ ”آخر اس کا مقصد کیاتھا؟“جب ان سے استفسارکیا گیا تو جواباً وہ بولے:
”اس کا مقصد طالب علموں میں یہ شعورپیداکرنا تھا کہ ایک خاص انداز میں مسلسل بیٹھے رہنے سے پٹھے اکڑ جاتے ہیں۔ وہ انہیں سمجھانا چاہتیں کہ عمر کے اس حصہ میں، جب وہ (طلبہ )ابھی جوان ہیں، قوت و توانائی بھرپور ہوتی ہے۔ ایسے میں عدم تحرک اور اٹھنے بیٹھنے کے غلط انداز کے منفی اثرات کافوری اندازہ نہیں ہوتا،تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ صورت حال بہت سے اعصابی امراض کاسبب بن سکتی ہے۔ “
وہ خاتون طالب علموں کو یہ بات سمجھاتیں کہ پڑھائی یاکام کا دباﺅ خواہ کتنا ہی کیوں نہ ہو، کچھ دیر بعد انہیں اپنی نشست اور کیفیت کوتبدیل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ جسم اور اس کے مختلف عضلات کوحرکت دینے سے ایک طرح کی ورزش ہوجاتی ہے اور وہ کسی دباﺅ یاذہنی تناﺅ کاشکار نہیں ہوتے۔
آغاز میں جس شخصیت کا ذکر ہوا‘ تعلیم کے اعلیٰ ترین مراحل کی تکمیل کے بعد انہیں دودہائیوں سے زیادہ وقت پڑھاتے ہوئے گزر چکا ہے۔ ان کی گفتگو میں خاتون ٹیچر(جو شاید اب اس دنیا میں نہ رہی ہوں گی) کے حوالے سے احسان مندی کے جذبات کا اظہار واضح تھا۔ انہیں بجاطور پر اس بات کا احساس تھا کہ اپنی ہی عمر کے دیگر بہت سے لوگوں کے مقابلے میں وہ زیادہ سرگرم ہیں۔ان کے خیال میں اس کی ایک بڑی وجہ انہیں متحرک زندگی کے تناظر میں ملنے والی بروقت ہدایات اور توجہات تھیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ دورحاضر میں صحت کی بہت سی پیچیدگیوں اور الجھنوں کاایک سبب ایسا طرز زندگی ہے جس میںروزمرہ معمولات کچھ اس طرح سے ترتیب پارہے ہیں کہ جسم وجان کی لازمی ضروریات پوری ہونے کے فطری انتظامات نظرانداز ہوجاتے ہیں۔ صورت حال یہ ہے کہ بچے بھی‘ جو فطری طورپر بھاگ دوڑ اورکھیل کود میں دلچسپی رکھتے ہیں‘ اپنا بہت سا وقت ٹی وی،کمپیوٹر اورموبائل فون پرگزار دیتے ہیں۔ اگرغیر متحرک زندگی کے ساتھ ساتھ ان کی غذائی عادات بھی ’جنک فوڈ‘ پرمبنی ہوں تو نوعمری سے ہی ان کی اٹھان غیرمتوازن ہوجاتی ہے۔جن لوگوں کو اس حوالے سے بروقت راہنمائی مل جائے وہ اپنی خوراک ، راتوں کی بھرپور نیند اور فطری ماحول میں جسمانی ورزش کاخصوصی اہتمام کرتے ہیں۔ ا ور اگر مصروفیات اور کام کے دباو¿ کی بناءپرکسی وقت یہ ممکن نہ ہو تو وہ کاموں کے دوران ہی کسی نہ کسی طرح اس کا اہتمام کرلیتے ہیں۔
یہ بات فطری ہے کہ زندگی کے تجربات ومشاہدات جوں جوں آگے بڑھتے ہیں‘ ان مسائل کے بارے میں آگہی زیادہ ہوتی چلی جاتی ہے۔ مذکورہ یونیورسٹی اور بزرگ خاتون محض ایک مثال ہیں۔ اگرمتحرک طرز زندگی کے بارے میں شعور اجاگر کیا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ صحت عامہ کی مجموعی صورت حال کو بہت زیادہ بہتر بنایاجاسکے۔