ہاتھ کی صفائی

ہاتھ کی صفائی

195

’ہاتھ کی صفائی‘ کا محاورہ سنتے ہی ذہن میں کچھ خاص لوگوں کا تصور اُبھرتاہے۔ ان میں سرفہرست جیب کترے ہیں جو اس مہارت سے لوگوں کی جیبیں خالی کرتے ہیں کہ لٹنے والوں کو اس کی خبر تک نہیں ہوتی ۔ دوسرا گروہ شعبدہ بازوں کا ہے جو ایسے کرتب دکھاتا ہے کہ ان پر جادو کا گماں ہوتا ہے ۔ اگر اسے محاورے کی بجائے لغوی معنوں میں لیا جائے تو یہ ایک حقیقت ہے کہ ہاتھ دھونے کا حفظان صحت کے ساتھ بہت گہراتعلق ہے ۔ ایک اندازے کے مطابق 80فی صدمتعدی بیماریاں ہاتھوں کی صفائی کو نظرانداز کرنے کی وجہ سے پھیلتی ہیں ۔اگر اس کا خیال رکھا جائے تو ہر سال پانچ سال سے کم عمرکے 18-10لاکھ بچوںکی جانیں بچا سکتی ہیں۔
17ویں صدی میں خوردبین کی ایجاد اور نتیجتاًجراثیم کی دریافت ہاتھوں کی صفائی کے رجحان میں اضافے کا سبب بنی، تاہم زمانہ قدیم میں بھی لوگوں کو اندازہ تھا کہ متعدی بیماریوں کا کسی ایسی چیز سے ضرور تعلق ہے جسے محسوس تو کیاجاسکتا ہے لیکن دیکھانہیں جاسکتا۔ ڈاکٹر اگینزسیمیل ویز(Dr.Ignaz Semmelweis)کا نام اس تناظر میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے جو 1847ءمیں ویانا( آسٹریا) کے ایک ہسپتال میں تعینات تھے ۔ وہاں زچگی سے متعلق دووارڈ تھے جن میں سے ایک میں زیرتربیت ڈاکٹراور دوسری میں دائیوں کی عملی تربیت کا انتظام تھا ۔ہسپتال میں زچگی کے عمل سے گزرنے والی خواتین میں موت کی شرح دیگر ہسپتالوں سے زیادہ تھی۔اس کا سبب انفیکشن تھا جو انہیں زچگی کے تین یا چار دن کے دوران ہوجاتا تھا۔اس بیماری کو بستر بچگان کے بخار (child bed fever)کا نام دیا گیا۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ ڈاکٹروں والی وارڈ میں اموات کی شرح 5 سے 30فی صد تھی جو دائیوں والی وارڈ کی نسبت بہت زیادہ تھی ۔ ڈاکٹر سیم (سیمیل ویز کامختصرنام )نے نوٹ کیا کہ ڈاکٹر‘ انفیکشن کی وجہ سے مرنے والے مریضوں کا پوسٹ مارٹم کرنے کے بعد ہاتھ دھوئے بغیر زچگی والے وارڈ میں چلے جاتے تھے۔ڈاکٹر سیم نے انہیں اس سے قبل کلورین ملے پانی سے ہاتھ دھونے کی ہدایت کی جس کے بعد وہاں اموات کی شرح دوفی صد تک آ گئی جو دائیوں والے وارڈ سے بھی کم تھی۔ ڈاکٹروں نے ڈاکٹر سیم کی اس رائے سے اتفاق نہ کیا کہ وہاں اموات کا سبب اس شعبے کے ساتھ وابستہ لوگوں کا ہاتھ نہ دھونا ہے ۔ فلاڈیلفیا (امریکہ) کے ایک پروفیسرڈاکٹر چارلس میگز(Charles Meigs) نے واشگاف انداز میںکہا کہ ”تمام ڈاکٹر،جنٹل مین ہیں اورجنٹل مینوں کے ہاتھ صاف ہوتے ہیں۔“مخالفانہ مہم سے ڈاکٹر سیم نفسیاتی طور پر اتنا متاثر ہوا کہ اسے ذہنی امراض کے ایک ہسپتال میں داخل ہونا پڑا جہاں وہ چند ہی دنوں میں فوت ہو گیا ۔ جب لوئی پاسچر اور ڈاکٹر کاچ (Louis Pasteur & Ludwig Koch)نے دنیا کے سامنے ’جراثیم کا نظریہ‘ پیش کیا تو لوگوں کو ڈاکٹر سیم کی قدر آئی اور اس کے نام کے یادگاری ڈاک ٹکٹ اور سونے کے سکے جاری کئے گئے۔اب لوگوں کومعلوم ہوا کہ ہرمتعدی بیماری مخصوص جراثیم سے ہوتی ہے جوسائز میں اتنے چھوٹے ہوتے ہیں کہ سوئی کی نوک پر لاکھوں کی تعداد میں سماسکتے ہیں۔ انہیں بیکٹیریا کہاجاتا ہے جبکہ وائرس تو ان سے بھی سینکڑوں گنا چھوٹے ہوتی ہیں۔
اس حوالے سے میری میلن( Mary Mallon)کی کہانی بھی دلچسپی سے خالی نہیں جو 19ویں صدی کے آخر میں آئر لینڈ سے ہجرت کر کے نیویارک (امریکہ) آگئی ۔وہ ایک غریب عورت تھی جو لوگوں کے گھروں میں کام کاج کرتی تھی ۔1900ءسے 1907ءکے درمیانی عرصے میں یہ بات سامنے آئی کہ وہ جس گھر میں کام کرتی‘ اس میں معیادی بخار(ٹائیفائیڈ ) پھیلنے لگتا تھا۔ اس کی وجہ سے کم از کم 51افراد کویہ مرض ہوا جن میں سے تین انتقال کرگئے۔ دلچسپ بات یہ تھی اسے خود یہ بیماری نہ تھی۔جب کسی علاقے میں اس کے مریض سامنے آنے لگتے تو وہ اسے چھوڑ کرنئی جگہ کام شروع کر دیتی لیکن کچھ ہی عرصے بعد وہاں بھی یہ بیماری سر اٹھانے لگتی جس سے وہ لوگوںنظروں میں آ جاتی ۔اگرچہ20صدی کے آغاز میں صحت کے حوالے سے سخت قوانین موجود نہیں تھے لیکن پھر بھی اسے حراست میں لے کر نیویارک کے ایک خاص حصے تک محدود کردیا گیا۔اس نے اپنی زندگی کے آخری کئی سال اس حال میں گزارے کہ اسے ”ٹائیفائیڈ میری“ کے نام سے مخاطب کیا جاتا اور اس کے نام کے ساتھ یہ دھبہ آج تک برقرار ہے ۔بہت بعد میں معلوم ہوا کہ یہ بخار لیٹرین کے استعمال کے بعد ہاتھ اچھی طرح سے صاف نہ کرنے سے پھیلتا ہے۔
سانس کی بیماریوں (مثلاً نزلہ‘زکام‘ کھانسی اورنمونیاوغیرہ )کے جراثیم کھانسی اور چھینک کی حامل پھوار(جس میں بلغم اور تھوک کی رطوبت شامل ہوتی ہے) کے ذریعے پھیلتے ہیں۔ اس طرح پھیلنے والی بیماری کو قطروں کا انفیکشن (droplet infection)کہا جاتاہے۔بڑے اوربھاری قطرے چند میٹر کی دوری پر گرجاتے ہیں جبکہ ننھے قطرے ہوا میں کئی گھنٹوں تک معلق رہتے ہیں ۔ اگر کوئی شخص اس فضاءمیں سانس لے تو وہ اس کے پھیپھڑوں میں جا کر انہیں بیمار کر سکتے ہیں۔ پھوار کے قطرے بعض اوقات دیگر چیزوں پر بمع جراثیم جمع ہوجاتے ہیں اور جب کوئی شخص ان چیزوں کو چھوتا ہے تو وہ اس تک منتقل ہوجاتے ہیں ۔بہت سے لوگ ارادی اور غیر ارادی طور پر کھانسی اور چھینک کو بندمٹھی میں روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔اس سے جراثیم ان کے ہاتھوں پر منتقل ہو جاتے ہیں اور پھر ہاتھ ملانے یا ان ہاتھوں سے کوئی چیز پکڑنے سے دوسروں تک پہنچ جاتے ہیں۔ اس لئے ہتھیلی پر کھانسنے اور چھینکنے کی بجائے یہ کام کہنی کے قریب یا آستین میں کریں۔ زیادہ بہتر صورت ٹشو پیپرکا استعمال ہے جسے بعد میں کسی محفوظ جگہ پر پھینک دیا جائے ۔ہسپتالوں اور کلینکوں میں فلو اوردیگر متعدی بیماریوں میں مبتلا افراد کی بھرمار ہوتی ہے۔یہاں پائے جانے والے جراثیم بعض اوقات اتنے طاقتور ہوتے ہیں کہ ان پر اینٹی بائیوٹکس اثر نہیں کرتےں۔اس مسئلے کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ صرف امریکہ میںہر سال 20لاکھ افراد ہسپتالوں سے لگنے والے انفیکشنز(nosocomial infections)کا شکار ہوتے ہیں جن میں سے تقریباً 90ہزار جاں بحق ہو جاتے ہیں۔ اس مسئلے کو بالکل ختم کرنا تو شایدمشکل ہو تاہم ہاتھوں کو صاف رکھنے اور دھونے کی عادت سے ان اعدادوشمار میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے ۔
شادیوں کی تقریبات میں بعض جگہوں پر کھانے سے پہلے اور بعد میں ہاتھ دھونے کا انتظام نہیں ہوتا۔اگر ایسا ہو تو کھانے کی چیزوں کو ہاتھ سے چھونے کی بجائے چمچ اور کانٹا استعمال کریں۔مختصر یہ کہ ہاتھ دھونے کی عادت اپنائیں اور بچوں کو بھی اس کی عادت ڈالیں۔