• Home
  • ادب
  • کا مختصر جائزہ ’’The 7 Habits of Highly Effective People‘‘ اسٹیفن آر کوے کی کتاب

کا مختصر جائزہ ’’The 7 Habits of Highly Effective People‘‘ اسٹیفن آر کوے کی کتاب

392

زندگی کے سفر میں ہرانسان کامیاب ہونا چاہتا ہے لیکن بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو نہ صرف اپنے مقاصدکو حاصل اور خواہشات کو پورا کر لیتے ہیں بلکہ ان کی چوٹی تک سرکر لیتے ہیں ۔ بہت سے لوگ راستے میں ہی کہیں ہانپ جاتے ہیں۔ لوگ کیسے اپنے مقاصد کو حاصل کرسکتے ہیں؟ اس کے لئے ’’اسٹیفن آر کوے‘‘ اپنی کتاب ’’موثر ترین افراد کی سات عادات‘‘ میں کچھ ایسی عادات اور اصولوں پر روشنی ڈالتے ہیں جس کی وجہ سے کوئی بھی انسان اپنی پسند کی زندگی، کاروبار اور ملازمت میں کامیابی حاصل کرسکتا ہے۔
ان سات عادات کا مختصر جائزہ پیش کرنے سے قبل اسٹیفن آر کوے کا مختصر تعارف ہوجائے۔
مسٹر کوے امریکہ کے معروف بزنس مین، لکھاری اور موٹیویشنل سیپکر تھے۔ 1932ء میں امریکی ریاست یوٹا میں پیدا ہونے والے مسٹر کووے ایک اتھلیٹ تھے لیکن کولہے کی ہڈی میں آنے والے ایک نقص کی وجہ سے انہیں اپنی زندگی کارخ کھیل سے تعلیم کی طرف موڑنا پڑا۔ انہوں نے ہارورڈ سے اپنا ایم بی اے کیا اور بعد میں مذہبی تعلیم میں پی ایچ ڈی کی۔ اس کے علاوہ انہیں اپنی زندگی میں ڈاکٹریٹ کی10 اعزازی ڈگریاں عطا کی گئیں۔
موثر ترین افراد کی سات عادات لکھنے کا خیال انہیں اس وقت آیا جب وہ امریکی موٹیویشنل کتابوں پر اپنا پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھ رہے تھے۔ ان کتابوں کو پڑھتے ہوئے انہیں اندازہ ہوا کہ کامیابی کے حوالے سے دستیاب لٹریچر میں بہت ساری باتیں یا تو ناقابلِ عمل تھیں یا پھر سرے سے کسی فائدے کی نہیں تھیں۔
اس مضمون کا مقصد ان لوگوں کے لئے سٹفن آر کوے کی مذکورہ بالا بیسٹ سیلر کتاب کا مختصر ساجائزہ پیش کرنا ہے جو پوری کتاب پڑھنے کے متحمل نہیں ہوسکتے‘ اگرچہ راقم پوری کتاب مکمل دلجمعی سے پڑھنے کا حامی ہے۔ اس کتاب کی شہرت کا اندازہ اس بات سے لگالیں کہ 1989ء سے اب تک اس کی اڑھائی کروڑ سے زائد کاپیاں فروخت ہوچکی ہیں۔
اب اس کتاب میں موجود عادات کا جائزہ لیتے ہیں۔
عادت نمبر 1 :پہل قدمی
موثر ترین لوگ اپنے حالات کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ وہ زندگی کے جس بھی مقام پر کھڑے ہوتے ہیں‘ معاشی طور پر جس اسٹیٹس کے حامل ہوتے ہیں‘ اس کے لئے وہ کسی اور کو نہیںبلکہ اپنے آپ کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ ان لوگوں کے پاس زندگی گزارنے کا اپنا ایک سکرپٹ ہوتا ہے۔ یہ ہر ایرے غیرے کی بات کو اپنے اعصاب پر سوار نہیں کرتے۔ مثال کے طور پر اگر ان سے کہا جائے کہ آپ میں ترقی کرنے کی صلاحیت نہیں تو یہ اس بات کو ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دیتے ہیں کیونکہ انہیں لوگوں کی باتوں سے زیادہ اپنی صلاحیتوں پر یقین ہوتا ہے۔
عادت نمبر 2 : انجام کو ذہن میں رکھ کر آغاز کرنا
ان لوگوں میں یہ خاص بات ہوتی ہے کہ وہ کام شروع کرتے ہوئے اس کا نتیجہ پہلے سے ذہن میں رکھتے ہیں‘ یعنی یہ جو میں کام کر رہا ہوں اور یہ کوشش کر رہا ہوں یہ سب چیزیں کہاں جا رہی ہیں۔ یہ لوگ اپنے مقصد کے شروع سے اختتام تک کی تصویر اپنے ذہن میں رکھتے ہیں۔ ان کے پاس ایک واضح روڈ میپ ہوتا ہے۔ یہ زندگی کو حالات کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑتے۔ سادہ لفظوں میں یہ فتوحات کے پیچھے ایک واضح مقصد رکھتے ہیں۔ یہ لوگ کامیابی صرف کامیابی کے لئے نہیں بلکہ کسی مقصد کے تحت حاصل کرتے ہیں۔
عادت نمبر :3اہم چیزیں سب سے پہلے
عام لوگوں کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ ہنگامی اور فوری معاملات کو نپٹانے میں ہی سارا وقت لگا دیتے ہیں اورزندگی میں زیادہ اہم چیزیں مثال کے طور پرصحت، اچھے تعلقات اور ذاتی مقاصد کے حصول جیسے معاملات کو پسِ پشت ڈال دیتے ہیں۔ کامیاب لوگ فوری نوعیت کے کاموں کو بھی نپٹاتے ہیں لیکن ان کی ایک عادت یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ اپنی زندگی کے اہم مقاصد کو ہنگامی معاملات کی دھول میں گم نہیں ہونے دیتے۔یہ زندگی میں ایسا توازن پیدا کرلیتے ہیں کہ ہنگامی اور اہم معاملات‘ دونوں بطریقِ احسن نپٹتے جائیں۔
عادت نمبر:4فتح، سب کی
کامیاب لوگ اس طریقے سے معاملات کو حل کرتے ہیں کہ جس سے ایک کی جیت اور دوسرے کی ہار نہ ہو۔ یہ اپنے ماتحتوں اور دیگر لوگوں کے درمیان مقابلے کا نہیں بلکہ تعاون کا ماحول پیدا کرتے ہیں۔ اگر کہیں پر کوئی ایسی صورتِ حال بن جائے کہ جس سے ایک کو زک اٹھانی پڑے اور دوسرے کو فائدہ مل رہا تو اس صورت ِ حال کا ایسا حل نکالتے ہیں کہ دونوں فریقوں کو جیت کا احساس ہو۔ ان کی زندگی اور اداروں میں کسی کے لئے ہار نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی۔
عادت نمبر:5 پہلے سمجھیں، پھر سمجھائیں
ان لوگوں کی ایک عادت یہ ہوتی ہے کہ وہ پہلے لوگوں کی بات کو پوری توجہ سے سنتے ہیں اور اس کے بعد انہیں اپنی بات سمجھاتے ہیں۔ یہ اوروں کی جگہ خود کو رکھ کر ان کے مسائل، تحفظات اور مشکلات کو سمجھتے ہیں اور پھر انہیں کوئی مشورہ یا احکامات دیتے ہیں۔ یہ اوروں پر اپنے تجربات اور خیالات نہیں تھوپتے۔ یہ ان سے پہلے ان کے خیالات جانتے ہیں، انہیں ہمدردی سے سنتے ہیں اور پھر انہیں پیار محبت سے اپنا نقطہ ِ نظر سمجھاتے ہیں۔
عادت نمبر 6: تعاونی عمل
ان لوگوں کی نظر میں ایک جمع ایک دو نہیں بلکہ تین ہوتے ہیں۔ اردو میں ہم اسے ایک اور ایک گیارہ بھی کہتے ہیں۔ کامیاب لوگوں کی نظر میں 10 ماتحتوں یا ساتھیوں کے خیالات اور کام میں اگر ہم آہنگی اور مقاصد کے حوالے سے پوری آگہی ہو تو ان کے کام کا مجموعی نتیجہ 10 لوگوں کی محنت کے برابر نہیں بلکہ15یاس سے بھی زیادہ لوگوں کے کام کے برابر ہوگا۔
عادت نمبر 7 :آری تیز کرنا
کامیاب لوگوں کی ساتویں عادت یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنی جسمانی، روحانی، معاشرتی اور معاشی حالات کا مستقل بنیادوں پر جائزہ لیتے رہتے ہیں اور اپنے آپ کو مزید بہتر کرتے رہتے ہیں۔ وہ نئے حالات اور رجحانات کو مد نظر رکھتے ہیں اور خود کو ان کے لئے تیار بھی کرتے رہتے ہیں۔ وہ جسمانی طور پر فٹ رہنے کیلئے اچھا کھاتے ہیں اور مناسب آرام کرتے کرتے ہیں۔ جسم کو مزید موثر رکھنے کے لئے مستقل بنیادوں پر ورزش کرتے ہیں۔ اسی طرح وہ زندگی کے دیگر معاملات میں بھی خود کو فٹ رکھنے کے لئے روزانہ کی بنیاد پر تیاری کرتے ہیں۔ ساتویں عادت مجموعی طور پر تمام عادات کو ایک آرڈر میں لانے اور انہیں پریکٹس کرنے کا بھی نام ہے۔ اس کا مقصد خود کو نہ صرف موجودہ چیلنجز کے لئے تیار کرنا بلکہ مستقبل کی ذمہ داریوں کے لئے بھی تیار کرنا ہے۔
ان تمام عادات کا مجموعہ ہی ایک کامیاب شخصیت کو بنانے میں کردار ادا کرتا ہے۔ اب آپ اپنا جائزہ لیجے اور دیکھئے کہ آپ ان میں سے کون کون سی عادات کی مشق کررہے ہیں اور کن عادات کو اپنانے کی ضرورت ہے۔ آخر میں ایک کامیاب زندگی کے لئے میری نیک تمنائیں قبول کریں۔
حفیظ درویش

مزید پڑھیں/ Read More

متعلقہ اشاعت/ Related Posts