پان، صحت کا نقصان

691

پان کھانانہ صرف ماضی میں ہماری تہذیب اور رہن سہن کا خاصہ رہا ہے بلکہ بہت سے علاقوں اور افراد میں آج بھی بہت مقبول ہے۔ ادبی اورثقافتی سرگرمیوں مثلاً مشاعروں وغیرہ میں اس کا خاص اہتمام کیاجاتا ہے۔ شادی بیاہ کی رسموں اور دیگر تقریبات میں چاندی کے ورق لگے پان پیش کرنے کا رواج کچھ طبقوں میں آج بھی ہے۔ پرانے وقتوں میں تو پاندان جہیز میں بھی شامل ہوتا تھا مگر اب گھروں میں پان رکھنے اوربنانے کا رواج نہیں رہا لہٰذا یہ سلسلہ اب تقریباً ختم ہو گیا ہے۔
خوردنی تمباکو کااستعمال دنیا بھر میں تشویشناک حد تک بڑھ رہا ہے۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق28فیصد خواتین بھی اس لت میں مبتلا ہیں ۔پاکستان میں بھی13سے 15سال کے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں خوردنی تمباکو کے نشے کا شکار ہو رہی ہیں ۔پان سپاری اور گٹکے کا استعمال سماجی عادت اور نوجوانوں کا فیشن بن گیا ہے۔ بعض پان فروش اس میں بھنگ اور افیون بھی ملاتے ہیں جس سے کھانے والے اُن کے بتدریج عادی ہوجاتے ہیں۔پاکستان میں پان کے استعمال میں اضافے کا اندازہ اس کی دکانوں کی بڑھتی ہوئی تعدادسے لگایا جاسکتا ہے۔ کم آبادی والے علاقوں میں جہاں اکا دکا دکانیں ہوتی ہیں‘ وہاں بھی اس کا کوئی نہ کوئی کھوکھا مل ہی جاتا ہے جبکہ بڑے شہروں میں تو اس کی دکانیں 24 گھنٹے کھلی رہتی ہےں۔ اس کی طلب اتنی بڑھ گئی ہے کہ اکثر بازاروں میں اب پان کی ریڑھیاں اورخوانچہ فروش عام نظر آنے لگے ہیں۔
پان میں کیا کچھ ہے
پان میں استعمال ہونے والے اجزاءاور ان کے خواص درج ذیل ہیں:
پان کا پتا: پان کئی چیزوں سے مل کر بنتا ہے جن میں اہم ترین جزو اس کا پتہ ہے۔ یہ تنبول یا ناگ بیل نامی پودے سے حاصل کیاجاتا ہے۔ اس کا پتا طبی طور پر مثبت پہلو بھی رکھتا ہے۔ ستیانہ روڈ فیصل آباد کے ماہر یونانی طب حکیم نور الحق کے مطابق:
”پان کا پتا کھانا جلد ہضم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ سینے کی جلن اور تیزابیت دور کرنے کی بھی موثر دوا ہے تاہم اسے جن چیزوں کے ساتھ کھایاجاتا ہے، وہ اسے مضرصحت بنا دیتے ہیں۔“
کتھا: پان کا دوسرا اہم جزو کتھا ہے۔ اس کی تیاری میں گڑ‘ لونگ‘ الائچی اور خوشبو کا استعمال کیا جاتا ہے۔گوند، اسپغول کا چھلکا اور میدہ بھی اس میں شامل کیا جاتا ہے۔ آج کل جہاں دیگر چیزوں میں ملاوٹ عام ہے وہاں ناجائز منافع خوری کے لئے پان میں چمڑے کا رنگ اور مردہ جانوروں کا خون بھی استعمال ہورہا ہے۔
چونا: چونے کا پتھر پیس کر اس میں دودھ یا ناریل کا تیل شامل کیاجاتا ہے۔
چھالیہ: یہ ”اریکاپام“ نامی ایک درخت کی چھال سے حاصل کی جاتی ہے جو بحرالکاہل میں پایاجاتا ہے۔یہ جتنی زیادہ پرانی ہو‘ اتنی ہی قیمتی تصور ہوتی ہے اور مہنگے داموں بِکتی ہے۔
تمباکو: ایک اندازے کے مطابق پان کھانے والوں میں سے 95فی صد لوگ اس میں تمباکو استعمال کرتے ہیں۔ عام تاثر یہ ہے کہ خوردنی تمباکو صحت کےلئے نقصان دہ نہیں ہوتا۔ یہ درست نہیںاور اس کا استعمال ہرصورت میں مضرصحت ہے۔
گٹکا: یہ چونا‘تمباکو‘چھالیہ‘زعفران اور کتھاوغیرہ کو ملا کر بنتا ہے۔ اسے الگ بھی کھایاجاتا ہے اور بعض خواتین وحضرات اپنی پسند سے اسے پان میں بھی ڈلواتے ہیں۔
مضر صحت اثرات
پان کھانے والے اکثر لوگ اس خوش فہمی میں مبتلا رہتے ہیں کہ یہ اُن میں چستی پیداکرتا ہے اور مضر صحت نہیں ہے۔ماہرین صحت کے مطابق یہ بہت سی ایسی بیماریوں کا باعث بن رہا ہے جو فوری طور پر سامنے نہیں آتیں تاہم مستقبل میں شدید پریشانی کا باعث بنتی ہیں ۔ ان میں سے کچھ تو جان لیوا بھی ثابت ہوتی ہیں۔
پان کے کچھ نقصانات درج ذیل ہیں:
منہ کا السر اور سرطان: پان اور خصوصاً تمباکو والے پان کے استعمال سے زبان اور تالو پر چھالے بن جاتے ہیں۔ اس کے زیادہ استعمال سے رفتہ رفتہ منہ کے اندر کی جلد سخت ہونے لگتی ہے جس کی وجہ سے بعض اوقات منہ کھولنا بھی مشکل ہوجاتا ہے۔ منہ میں زخم ہونے سے السر ہوجاتا ہے جو کینسر میں بھی تبدیل ہوسکتا ہے۔ سوساں روڈ فیصل آباد کے ڈینٹسٹ ڈاکٹر عمران علی کے مطابق:
”پان اور چھالیہ سے مسوڑھے سوجتے اور سکڑتے ہیں۔ ان کے مسلسل استعمال سے منہ کے اندر تکلیف دہ ابھاربن جاتے ہیں جو پانچ سال کے اندر کینسر میں تبدیل ہوسکتے ہیں۔ پان‘ چھالیہ وغیرہ کے استعمال سے دانتوں کے گلنے سڑنے اور ٹوٹنے کے امکانات 40فی صد بڑھ جاتے ہیں۔ ایسے میں منہ سے بدبو آتی ہے‘ دانتوں کا رنگ خراب ہوجاتا ہے اور وہ کالے ہو کر گرنے لگتے ہیں۔
امراض قلب کا سبب: پان اور گٹکے میں موجود تمباکو اور دیگر مضر صحت اجزاءدل اورخون کی ترسیل کے نظام کو بری طرح متاثر کرتے ہیں۔ اس سے دل کی دھڑکن اور نبض بے ترتیب ہوجاتی ہے۔ امراض قلب کے ماہرین کے مطابق اس سے خون کی نالیاں سکڑ کر تنگ ہوجاتی ہیں جس کی وجہ سے فالج اور دل کے دورے کے امکانات بہت بڑھ جاتے ہیں۔
گلا خراب، آواز متاثر: پان کے دیگر اجزاءاورخوردنی تمباکو کے استعمال سے گلا خراب اورآواز متاثر ہوسکتی ہے۔ فیصل آباد سے ماہرامراض ناک،کان اور گلا ڈاکٹر فواد قیصر کہتے ہیں:
”چونا اور تمباکو دونوں ہی مضر ہیں۔ یہ گلے کے پٹھوں اور اعصا ب کو نقصان پہنچاتے ہیں۔یہ گلے میں دانے‘خراش اور زخم کا باعث بھی بنتے ہیں جو بعد میںحلق کا کینسر بھی بن سکتا ہے۔“
معدہ اور آنت : پان میں موجود چونا معدے اور آنتوں میں کٹ لگا دیتا ہے۔زیادہ پان کھانے سے معدے کے السر کے ساتھ ساتھ پیٹ میں درد‘ ڈائریا‘بھوک کی کمی‘ جلن اورتیزابیت جیسے مسائل جنم لیتے ہیں۔
لبلبے کو نقصان: ماہرین صحت کا خیال ہے کہ سپاری‘گٹکا اور پان کھانے سے منہ میں جو تھوک بنتا ہے‘ اسے نگلنے سے لبلبے کو نقصان پہنچتا ہے۔ اس وجہ سے لبلبہ انسولین نہیں بناپاتا جس سے ذیابیطس ہونے کا خطرہ لاحق ہوجاتا ہے۔
پھیپھڑوں کا کینسر: پان‘چھالیہ اور گٹکے میں موجود مضرصحت مرکبات پھیپھڑوں کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔ اس کی وجہ سے مریض کو کھانسی‘سانس کی کمی‘دمہ‘منہ‘گردن ،بازو اور ٹانگوں پر سوجن ہوسکتی ہے۔علاوہ ازیں پھیپھڑوں میں ٹیومر بھی بن سکتا ہے جو سرطان زدہ بھی ہو سکتا ہے۔
ماحول کی آلودگی: پان کی وجہ سے منہ میں لعاب بہت زیادہ بنتا ہے جسے بار بار تھوکنا پڑتا ہے۔ لوگ جگہ جگہ بنا سوچے سمجھے پان تھوک دیتے ہیںجو نہ صرف بد نمائی بلکہ جراثیم کو ماحول میں پھیلانے کا سبب بھی بنتاہے۔
پان کھانے کا شوق درمیانی اور کم آمدن والے طبقے میں زیادہ ہے۔ مزدور پیشہ اور اُجرت پر کام کرنے والے بہت سے لوگ پان کے لئے لوگوں سے ادھار لیتے رہتے ہیں۔ ایسے لوگ بھی ہیں جو اس شوق کی خاطر کھانے پینے تک کی ضروریات کو نظر انداز کرجاتے ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ لوگوں میں اس بارے میں آگاہی پیدا کی جائے۔ عوامی مقامات اور سڑکوں پر پان سپاری اورگٹکا تھوکنے پر پابندی عائد کی جائے اور خلاف ورزی پر بھاری جرمانہ عائد کیاجائے۔ اگر آپ کا کوئی عزیز یا دوست پان کھاتا ہے تو اسے بتایا جائے کہ وہ اپنے منہ میں پان نہیں، بیماریاں رکھ رہے ہیں۔ پرانی اور پکی عادتیں چھوڑنا مشکل کام ہوتا ہے، تاہم اپنی صحت کی خاطر اس کا بیڑ۱ ضرور اٹھایا جانا چاہئے۔