موسیٰ کی مسکراہٹ

موسیٰ کی مسکراہٹ

162

”مو’یٰ کیپیدائ“ کے بعدجب میں نے پہلی دفعہ ا’ے دیکھا تو مجھے ایک دھچکا ’ا لگا۔ میرے باقی دونوں بچے بالکل نارمل ہیں لیکن ا’ کا ہونٹ اور تالو کٹے ہوئے تھے۔ میرے لئے یہ ”ورت حال بہت پری“ان کن تھی۔“چکوال کے رہائ“ی محمد عمران نے “فانیوز کو بتایا۔ وہ ایک پرائیویٹ کمپنی میں ڈرائیور کے طور پر کام کرتے ہیں۔
اولاد کی ک’ی بھی تکلیف پروالدین کا پری“ان ہوجانا بالکل فطری بات ہے لیکن یہاں معاملہ محض تکلیف یا بیماری کا نہیں بلکہ ایک ج’مانی نق” کا تھا۔ وہ ا’ بات پر فکرمند تھے کہ ا’ کاعلاج کی’ے کرائیں گے اور اگر خدانخوا’تہ پی’وں کا انتظام نہ ہو ’کا تو کیا ان کا بچہ عمر بھر ای’ا ہی رہے گا؟دو’ری طرف مو’یٰ کی والدہ کو ہول اٹھ رہے تھے۔ انہوں نے حمل ٹھہرنے ’ے لے کر زچگی تک کا ہر م“کل لمحہ ا’ امید پر ہن’ی خو“ی گزارا تھا کہ آخر میں ان کی گود میں ایک خوب”ورت ’ا اور ”حت مند بچہ ہو گا۔ بچے کی حالت دیکھ کر ان کی امیدوں پر او’ پڑ گئی اور ’اری خو“ی ہوا ہو گئی:
”ا’ے ا’ حالت میں دیکھ کر مجھے “دید ”دمہ ہوااور رونے دھونے کے علاوہ میرے پا’ کوئی چارہ نہ تھا۔ میں ’وچ رہی تھی کہ ا’ نق” کے ’اتھ وہ ’اری زندگی کی’ے گزارے گا۔“
والدین پری“ان ضرور تھے لیکن نامید ہر گز نہ تھے۔ وہ اپنے بچے کا علاج کرانا چاہتے تھے لیکن انہیں کوئی راہ ’جھائی نہیں دے رہی تھی۔ عمران کے ایک دو’ت نے انہیں چکوال میں ڈ’ٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہ’پتال جانے کا م“ورہ دیاجہاںہر ماہ ڈاکٹروں کی ایک ٹیم آکر ا’ طرح کے آپری“ن کرتی تھی۔ وہ ہ’پتال گئے لیکن پتہ چلا کہ ابھی ا’ ٹیم کے آنے میں کچھ ہفتے باقی ہیں۔ انہوں نے وہاں موجودکچھ اور ڈاکٹروں ’ے م“ورہ کیا جنہوں نے انہیں بتایا کہ علاج میں تاخیر منا’ب نہیں لہٰذا وہ ک’ی اور ہ’پتال کے بارے میں معلومات حا”ل کریں۔ انہوں نے لوگوں ’ے پوچھنا “روع کیا۔ ا’ی دوران ’عودی عرب میں مقیم ان کے ایک دو’ت نے انہیں “فا انٹرنی“نل ہ’پتال ا’لام آباد کے بارے میں بتایا۔

14
عمران، مو’یٰ کو “فا لے آئے جہاں ا’ے ’ب ’ے پہلے پلا’ٹک ’رجری ڈپارٹمنٹ میں لایا گیا۔ یہاں ابتدائی معائنے کے بعد ا’ے ڈینٹل کلینک بھیج دیا گیا۔ ا’ کے ہونٹ کی مرمت ا’ وقت تک ممکن نہ تھی جب تک ا’ کے جبڑے کو ٹھیک نہ کردیا جاتا اور یہ کام ڈینٹل ’رجن ہی کر ’کتا تھا۔
ا’ کی پیدائ“ کو17دن ہو چکے تھے اورخو“ ق’متی ’ے یہ ا’ ق’م کی ’رجری کے لئے بہترین وقت تھا‘ ا’ لئے کہ ڈاکٹر نوئین ار“د کے مطابق ای’ے بچوں کو پیدائ“ کے دو ہفتوں بعد ہ’پتال لانا چاہئے۔ ڈاکٹر نوئین “فا انٹرنی“نل ہ’پتال میں بچوں کے دانتوںکے ڈاکٹر اور آرتھوڈنٹ’ٹ ہیں جو دانتوں کی ناہمواری کودر’ت کرتا ہے۔ این اے ایم (Naso Alveolar Molding) نامی عمل فوراً “روع کر دیا گیا ج’ میں ہونٹ یا تالو کی ’رجری ’ے قبل آپری“ن کے بغیر ہی م’وڑھوں، ہونٹوں اور نتھنوں کو ٹھیک کیا جاتا ہے۔ ’رجری عموماً بچے کی پیدائ“ کے تین ’ے چھ ماہ بعد ا’ وقت کی جاتی ہے جب یہ  عمل مکمل ہو چکا ہوتا ہے۔
ڈاکٹرنوئین کا کہناہے کہ ہمارے ہاں “عور کی کمی کی وجہ ’ے والدین براہ را’ت ا’ “عبے کے ڈاکٹر کے پا’ آنے کی بجائے ادھر اُدھرچکر لگانا “روع کر دیتے ہیں۔ ا’ وجہ ’ے وہ قیمتی وقت گزر جاتا ہے جو ا’ ق’م کی ’رجری کے لئے آئیڈیل ہے۔ ا’ کے بعد علاج بہت م“کل ہو جاتا ہے۔ مو’یٰ کے والدین اگرچہ غریب اور ناخواندہ تھے تاہم ا’ معاملے میں انہوں نے بروقت اور در’ت فی”لہ کیا۔
کٹے ہونٹوں اور تالو کے بارے میں ہمارے معا“رے میں بہت ’ے غلط مفروضے م“ہور ہیں۔ بعض والدین کا خیال ہے کہ ای’ا ا’ وقت ہوتا ہے جب حاملہ خاتون ’ورج گرہن کے وقت باہر جاتی ہے یا چھری/قینچی ’ے کوئی چیز کاٹتی ہے۔عمران اور ا’ کی بیوی نے بھی ای’ی بہت ’ی باتیں ’ن رکھی تھیں لیکن ڈاکٹر نوئین ا’ تاثر کو م’ترد کرتے ہیں۔ ان کے بقول:
” ’ورج گرہن کا ا’ معاملے ’ے ہر گز کوئی تعلق نہیں اور یہ ای’ی باتیں ہیں جنہیں ماننا تو دور کی بات، ’ننا بھی نہیں چاہئے۔“
جب ان ’ے ا’ م’ئلے کی ا”ل وجہ کی بابت ’وال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ا’ کی حقیقی اور حتمی وجہ ابھی تک معلوم نہیں ہو ’کی تاہم کچھ عوامل کا تعلق ان کے ’اتھ واب’تہ ’مجھا جاتا ہے۔ ان میں دوران حمل کچھ ادویات(تقریباً ہر ڈاکٹر کو ان کا علم ہوتا ہے ) کا ا’تعمال، “عاعوں ’ے علاج اور کچھ کیمیکلز “امل ہیں۔ ہمارے ہاں خاندان میں “ادیوں کا ت’ل’ل بھی ا’ کی بڑی وجہ ہے۔
مو’یٰ کے ہونٹ کی مرمت ہوجانے کے بعد اگلے چھ ہفتوں تک ا’ے ڈاکٹروں کی زیر نگرانی رکھا گیا۔ا’ کی والدہ بہت خو“ ہیں، ا’ لئے کہ آپری“ن مکمل طور پر کامیاب رہا:
”ا’ ’رجری نے ا’ کی “کل ہی بدل دی ہے اور میں ا’ کا ا”لی چہرہ دیکھ کر بہت خو“ ہوں۔ جن لوگوں نے ا’ے آپری“ن ’ے پہلے دیکھا تھا، وہ توا’ے پہچان ہی نہیں پاتے۔“ “اداں و فرحاں ماں نے “فانیوز کو بتایا۔        
لیکن کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی، ا’ لئے کہ علاج کو مکمل کرنے کے لئے مریض بچے کو مزید پانچ مراحل ’ے گزرنا پڑتا ہے۔ یہ مراحل ہونٹ کی مرمت، تالو کی مرمت، ’پیچ تھیراپی، دانتوں کا علاج اور ’البینوبون گرافٹنگ‘ ہے ج’ میں کولہے کی ہڈی کا ایک ٹکڑا لے کر دانتوں کے درمیان خلا کو پر کیا جاتا ہے۔ آخرمیں دانتوں کو ’یدھا کیا جاتا ہے۔بعض اوقات جبڑوں کی در’تگی کے لئے مریض کو دوبارہ ’رجری کرانا پڑتی ہے۔
 ڈاکٹر نوئین کے مطابق یہ تمام مراحل ایک ترتیب ’ے کرنا پڑتے ہیں اور ان میں ’ے ک’ی ایک کوبھی چھوڑا نہیں جا ’کتا۔ ا’ لئے والدین کو بروقت ا’ کے بارے میں بتا دیا جاتا ہے تاکہ وہ ثابت قدمی اور م’تقل مزاجی ’ے علاج کرا ’کیں۔ مو’یٰ کے والد کا کہنا ہے:
 ”میں گز“تہ چھ ماہ ’ے یہاں علاج کے لئے بچے کو لا رہا ہوں۔ اگرچہ یہ م“کل کام ہے لیکن ہر دفعہ جب بچے میں بہتری دیکھتا ہوں تو ’اری تکلیف بھول جاتی ہے۔“
ڈاکٹر نوئین کا کہنا ہے کہ خاندان میں “ادیوں کے رواج کو کم کیا جائے تو کٹے ہونٹ اور تالو ہی نہیں، تھیلی’یمیا ’میت دیگر موروثی امراض میں بھی نمایاں کمی لائی جا ’کتی ہے۔ عمران ’ے پوچھا گیا کہ انہوں نے اخراجات کا م’ئلہ کی’ے حل کیا؟ جواب میں ان کا کہنا تھا:
” جہاں چاہ، وہاں راہ۔ ڈاکٹر میرے لئے م’یحا بن کر آئے ہیں۔ یہاں میرا ایک دھیلا خرچ نہیں ہوتا۔ میرا خرچ ”رف وہی ہے جو چکوال ’ے ا’لام آباد آنے پر ہوتا ہے۔“
ڈاکٹر نوئین نے بتایا کہ “فا انٹرنی“نل میں 12’ال ’ے کم عمر بچوں کے کٹے ہونٹ اور تالو کا علاج بالکل مفت ہے اور ا’ کے لئے مریض ’ے ایک پی’ہ نہیں لیا جاتا۔ یہ ’ب کچھ این جی اوزاور ہ’پتال کے تعاون ’ے ممکن ہوتا ہے:
” علاج کے بعد جب میں بچوں کو م’کراتے دیکھتا ہوں تو دلی خو“ی اورای’ا اطمینان حا”ل ہوتا ہے ج’ے لفظوں میں بیان نہیں کیا جا ’کتا۔ عموماً12’ال کی عمرتک یہ م’ئلہ حل ہو جاتا ہے لیکن کچھ ”ورتوں میں بعد میں بھی علاج کی ضرورت پڑتی ہے۔ “
ہونٹ ٹھیک ہونے ’ے مو’یٰ کا چہرہ کھل اٹھا ہے اور زیادہ خوب”ورت لگتا ہے۔ والدین پر امید ہیں کہ اگلے چند ماہ میں ا’ میں مزید بہتری آئے گی۔ا’ کے والد کا کہنا ہے :
”ہمیں علاج ’ے بہت مدد ملی ہے۔ اب میں چاہتا ہوں کہ میرا بچہ بالکل نارمل بچوں کی طرح ہو جائے۔اور مجھے یقین ہے کہ ایک دن ای’ا ہو جائے گا۔“
“فانیوز کی نیک تمنائیں مو’یٰ اور ا’ کی فیملی کے ’اتھ ہیں۔