جھک جھک کے ہو گئی ہے اپنی کمر کمانی

جھک جھک کے ہو گئی ہے اپنی کمر کمانی

164

بزرگی عمر کا ایسا حصہ ہے جس میں جسمانی قویٰ کمزور پڑجاتے ہیں لہٰذا بزرگ افراد کی قوت مدافعت بھی کمزور پڑجاتی ہے۔ ایسے میں انہیں بیک وقت بہت سی بیماریاں لاحق ہو سکتی ہیں۔ جب وہ ہسپتال جاتے ہیں تو انہیں ایک شعبے سے دوسرے شعبے اور ایک ڈاکٹر سے دوسرے ڈاکٹر کے پاس جانا پڑتا ہے۔ بزرگی‘ بیماری اور بعض اوقات معذوری کی وجہ سے یہ کام انہیں بہت مشکل لگتا ہے لہٰذا وہ ہسپتال جانے سے ہچکچاتے ہیں۔ ایسے میں ایک ایسے شعبے کی ضرورت محسوس ہوئی جہاں ان کے بیشتر مسائل کو ایک ہی ڈاکٹر دیکھ سکے۔ یوں جیریاٹرکس(Geriatrics) کے شعبے نے جنم لیا۔ بزرگوں کی صحت پر شفا انٹر نیشنل ہسپتال اسلام آباد میں اس شعبے کے ڈاکٹر شہزاد صدیق سے گفتگو کی روشنی میں ایک معلوماتی تحریر
nq4DpUi
بڑھاپا جسمانی نشوونما کے مسلسل عمل کا نام ہے۔ ہمارے جسم کے خلیوں اورنظاموں میںوقت کے ساتھ ساتھ تبدیلیاں رو نما ہوتی ہیں جن کے باعث بعض خلئے مر جاتے ہیں اور بعض کمزور ہو جاتے ہیں۔ کچھ خلیوں میں ےہ صلاحےت ہوتی ہے کہ جب وہ مرجاتے ہیں تو ان کی جگہ نئے خلےے لے لیتے ہیں‘ تاہم کچھ میں یہ صلاحیت موجود نہیں ہوتی۔ اس لےے ان کی خرابی کے باعث ہونے والی جسمانی تبدیلی یا نقصان مستقل ہوتا ہے۔اس کے علاوہ بڑی عمر میں میں جسم کے اندر کچھ کیمیائی رد عمل بھی پےداہوتے ہیں جو بڑھاپے کا باعث بنتے ہیں۔
بظاہر60 سال کی عمر کو بڑھاپے کی حدود کا آغاز مانا جاتا ہے لےکن ایسا ہونا ضروری نہیں ہے۔ ایک شخص 65سال کی عمرمیں صحت مند اور توانا لگتا ہے جبکہ دوسرا 50 سال کاہونے کے باوجود کئی بےمارےوں میں مبتلاہونے کی وجہ سے بوڑھا لگتا ہے۔
بزرگوں کی بیماریاں
جوانی میں انسان تندرست اورطاقتور ہوتاہے۔جب بڑھاپے کی طرف سفر شروع ہوتا ہے تو فرد کی جسمانی قوت میں کمی آجاتی ہے‘ مختلف نظام کمزور ہوجاتے ہیں اور قوت مدافعت کم ہو جاتی ہے۔ اسی لےے بزرگوں کو مختلف بیماریاں لگنے کا امکان زیادہ ہو جاتا ہے۔
بعض بیماریاں اےسی ہیں جن کا زےادہ تعلق بڑھاپے کے ساتھ ہوتا ہے۔ان میں جوڑوں اور ہڈیوں کی بیماریاں اورفالج وغیرہ شامل ہیں۔ بزر گ افراد ذیابیطس،ہائی بلڈ پریشر اور امراض قلب کا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔ مزید براں ان میں انفیکشن، شرےانوں کا (چکنائی جمنے کی وجہ سے )تنگ ہوجانا، سانس کی بیماریاں(خصوصاً ان لوگوں میں جو حقہ یا سگرےٹ نوشی کے عادی ہوں ) زےادہ ہوتی ہےں۔ان میں سفید اور کالا موتیا‘ پیشاب پر کنٹرول نہ رہنا ، لرزہ (Parkinson’s Disease) ،ڈپریشن اوربھولنے کی بیماری بھی عام ہےں۔ کچھ بیماریوں کی تفصیل درج ذیل ہے:
اعصابی بیماریاں :    اعصابی امراض میں سب سے زیادہ عام فالج ہے جس کی دو بڑی قسمیں ہیں۔ایک میں دماغ کی شریانیں تنگ ہونے یا ان میں خون جمنے کے باعث دماغ کے کسی حصے کوخون نہیں پہنچتا لہٰذا اس حصے میں خرابی پیدا ہو جاتی ہے اور وہ کام کر نا چھوڑدیتاہے۔ دوسری وجہ ہائی بلڈ پریشر کی وجہ سے دماغ کی رگ کاپھٹ جانا ہے جس کے باعث وہ کام نہیں کرپاتا۔ اس سے بچاو¿ کے لےے ضروری ہے کہ ہائی بلڈ پریشر کا باقاعدہ علاج کرائیں،وزن نہ بڑھنے دیں،کھانے میں چکنائی کااستعمال کم کریں اور باقاعدگی سے ورزش کریں۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر کے مشورے سے ضروری ادوےات استعمال کریں۔ لرزے کی بیماری بھی اس عمر میں عام ہے جس کا علاج دواو¿ں اور فزیوتھراپی کی مدد سے کیا جاتا ہے۔
بھولنے کی بیماری:    عمر کی زیادتی کی وجہ سے بھولنے کی بیماری ہوسکتی ہے لیکن اسے بڑی عمر کالازمی حصہ سمجھ کر نظر انداز کر دینا غلط ہے۔ اس کا باعث بننے والی کچھ وجوہات کا علاج ممکن ہے جس سے اس بیماری میں کافی بہتری آسکتی ہے اوروہ مزید بڑھنے سے رک جاتی ہے ۔اس لےے ضروری ہے کہ بزرگوں کا علاج کراےا جائے۔
چڑچڑاپن:    بزرگ افراد چڑچڑے ہوجاتے ہیں اور ایک ہی بات کو بار بار دہراتے رہتے ہیں۔ کوئی ذہنی و نفسےاتی مسئلہ بھی اس کا سبب ہوسکتاہے لیکن عموماًعمر بڑھنے کے ساتھ بزرگوں کی قوت برداشت کم ہوجاتی ہے۔ لواحقین کو چاہئے کہ ڈاکٹر کے ساتھ ان کے مسائل کو کھل کر بیان کرےں تاکہ اگر کوئی نفسیاتی بیماری(مثلاً ڈپریشن) اس کی وجہ ہو تو اس کا علاج کیا جا سکے۔
نیند کیوں نہیں آتی :    عمر بڑھنے کے ساتھ نیند نہ آنے کی مختلف وجوہا ت ہیں جن میں سے کچھ ایسی ہیں جن کاعلاج ممکن ہے۔بعض بزرگ رات کے وقت پیشاب کے لےے بار باراٹھتے ہیں۔اس کی وجہ پیشاب آور دواو¿ں کا استعمال ہو سکتا ہے جو دل کے مریضوں کو دی جاتی ہیں۔ ان دواو¿ں کو لینے کے اوقات تبدیل کےے جا سکتے ہیں۔اسی طرح مردوں میںمثانے کے غدود(prostate)کا مسئلہ ہو تو پیشاب زیادہ آتا ہے جسے دواو¿ں کی مدد سے کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ نےند کے اصول صحت (Sleep Hygiene)میں جو تدابیربتائی جاتی ہےں‘ ان میں کھانے کے فوراً بعد نہ سونا،روزانہ ہلکی پھلکی ورزش کرنا اوردن کے وقت زیادہ دیرتک نہ سوناشامل ہیں۔ایک اور اہم چیز دن کے وقت ہلکی دھوپ میں بیٹھنابھی ہے۔بعض زےادہ ضعےف ےا بےمار بزرگ صرف اپنے کمرے تک محدود ہو کر رہ جاتے ہیں۔ شام کے وقت تازہ ہوا اور ہلکی دھوپ میں بیٹھنے سے بزرگوںکی نیندبہتر ہو جاتی ہے۔
ہڈیوںکے امراض :    بڑ ھاپے میں ہڈیوں کے امراض سے بچنے کےلئے ضروری ہے کہ ہم جوانی میں باقاعدہ ورزش اور چہل قدمی کو اپنی عادت بنائےں‘ اس لئے کہ اس سے ہڈیاں مضبوط رہتی ہیں۔اس کے علاوہ کیلشیم کی ضرورت کو پورا کرنے کے لےے روزانہ دودھ دہی کا استعمال کریں۔خواتین خاص طور پراس کا خیال رکھےں‘ اس لئے کہ انہیں مردوں کی نسبت ہڈیوں کے امراض کا امکان زیادہ ہوتاہے۔ ہڈیوں کی کمزوری جانچنے کے لےے اےک ٹےسٹ(Dexa Scan) بھی کراےا جاسکتاہے ۔ اس سے بروقت تشخیص میں مدد ملے گی اور بیماری کو مزید بڑھنے سے روکا جاسکے گا۔
پیشاب پر کنٹرول :    پیشاب پر کنٹرول نہ رہنے کی بہت سی وجوہات ہیں جن میں مثانے کے غدودکابڑھ جانا،مثانے کی بیماریاںاور انفیکشن شامل ہیں۔ ان کاعلاج دواو¿ں کے ذریعے کیا جاتاہے اور بعض صورتوں میں سرجری کی ضرورت بھی پڑتی ہے جو یورولوجسٹ کرتے ہیں۔
بڑھاپے میںمعاشرتی تعلقات اور جسمانی طور پر متحرک رہنا جسمانی و ذہنی صحت کے لےے بہت ضروری ہے۔ اس لےے بزرگوں کوچاہےے کہ تھوڑی بہت ورزش ےا چہل قدمی ضرورکریںاورمتوازن غذااستعمال کریں۔ بہت سے بزرگ علاج کے اخراجات نہیں اٹھا سکتے‘ اس لئے اےسے انتظامات ہونے چاہئےں جن کے تحت ان کا مناسب علاج ہو سکے۔ ہسپتالوںمیں بزگوں کے لےے الگ کاﺅنٹر بنائے جانے چاہئےں تا کہ انہیں ہجوم کے باعث انتظار نہ کرنا پڑے۔ بینکوں اور پبلک ٹرانسپورٹ میں ان کے لےے مخصوص انتظامات ہونے چاہئےں۔ انفرادی سطح پر بھی ہمیں بزرگوں کی صحت کےلئے ہر ممکن کوشش کرنی چاہئے ۔
ایک نیا شعبہ‘ ضرورت و اہمیت
پوری دنےا میں لوگوں کی زیادہ عرصے تک زندہ رہنے کی شرح بڑھ رہی ہے جس کی وجہ سے معاشروں میں بزرگ افراد کی تعداد بھی بڑھتی جارہی ہے۔بڑھاپے میں چونکہ بیک وقت بہت سی بیماریاں فرد کو گھیر لیتی ہیں لہٰذاانہےں باربار ہسپتال کے مختلف شعبوں میںجانا پڑتا ہے۔ بزرگی‘ بیماری اور بعض اوقات معذوری کی وجہ سے یہ کام مشکل ہوتا ہے جس کی وجہ سے بہت سے بزرگ ہسپتال جانے سے کتراتے ہیں۔ ایسے میں ایک ایسے شعبے کی ضرورت پیدا ہوئی جس میں ایک ہی ڈاکٹر ان کی صحت سے متعلق اکثر مسائل کو دیکھ سکے ۔یوں جیریاٹرکس (Geriatrics)کا شعبہ سامنے آیا۔ یہ اصطلاح دو یونانی الفاظ ”جیراس“(Geras) یعنی بڑھاپا اور” ایاٹراس“(Iatros) یعنی ڈاکٹر سے مل کر بنی ہے ۔اس شعبے کا ڈاکٹر جیریاٹریشن (Geriatrician) کہلاتا ہے ۔
    امریکہ اورےورپ وغیرہ میں یہ شعبہ کافی مستحکم ہے۔امریکہ میں اس وقت بزرگوں کی صحت کے ماہر 7000سے زائد ڈاکٹر موجود ہیں جبکہ پاکستان میں اس شعبے میں تربیت یافتہ ڈاکٹروں کی تعداد شاید پانچ سے بھی کم ہے۔پاکستان میں شفا انٹرنیشنل ہسپتال نے 2012ءمیں اس شعبے کا آغاز کیااور لوگوںکی توجہ اس طرف مبذول کرانے کے لئے ایک کانفرنس بھی منعقدکرائی گئی ۔