دودھ کیوں نہیں قبول

234

    دودھ ایک ایسی غذا ہے کہ جس کے بارے میں سوچتے ہی ذہن میں اچھی صحت ‘ ہڈیوں کی مضبوطی اور بہتر نشوونما جیسے خوش کن تصورات گردش کرنے لگتے ہیں۔ میرے ان تصورات کو اس وقت شدید جھٹکا لگا جب میں نے اپنی نند طوبیٰ کے بیٹے ابوذر کو دیکھا جسے دودھ بالکل راس نہیں آتا تھا۔ اس کی حالت یہ تھی کہ دودھ اس کے معدے میں پہنچا نہیں کہ اُلٹیاں شروع ہو گئیں۔ اسی طرح کبھی اس کے جسم پر دھپڑ پڑجاتے تو کبھی سوزش ہو جاتی ۔ یوں دودھ ‘ ابوذر کے لئے جادوئی اثرات کی حامل غذا کی بجائے وبال جان بن کر رہ گیا۔

ہم نے مسئلے کے حل کے لئے آغاز میں وہی کیا جو ہمارے ہاں دستور ہے یعنی گھریلوٹوٹکوں کا سہارا لیا مگر اس کا کوئی نتیجہ نہ نکلا۔ ایک دن حسن نے ہم سے کہا کہ’ گھریلو نسخے یقیناًاچھے ہوتے ہیں لیکن جب نتیجہ نہ نکل رہا ہو تو آپ لوگوں کو چاہئے کہ کسی ڈاکٹر کے پاس جائیں ۔ آخرآپ لوگ کب تک اسے تجربہ گاہ بنائے رکھیں گے ۔‘

ان کی بات معقول تھی لہٰذا ہم نے جلدازجلدماہرامراض ِاطفال ڈاکٹر مقبول حسین سے وقت لیا اور ان کے پاس پہنچ گئے ۔ انہوں نے ہماری بات تفصیل سے سننے کے بعد ایک ٹیسٹ لکھ کر دیا اور جب اس کا رزلٹ آیا تو معلوم ہوا کہ ابوذر کو دودھ سے الرجی ہے۔
”دودھ سے الرجی…؟“ طوبیٰ‘حسن اور میری زبان سے بیک وقت اور بے ساختہ نکلا۔
”جی ہاں!آپ کے بچے کا جسم دودھ کو قبول نہیں کر رہا۔ شیرخوارگی میں جب بچہ نہیں بولتا‘تو اس کا جسم بولتا ہے یعنی مختلف علامات ظاہر کرکے اپنا پیغام دیتا ہے ۔ ہمیں اس پیغام کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔“ ڈاکٹر نے جواب دیا۔

”مگر ہمارا ذہن یہ بات قبول کرنے کو تیار نہیں کہ کسی فرد کو دودھ سے بھی الرجی ہوسکتی ہے۔ یہ بتائیے کہ ایسا کیوں ہوتاہے ۔“ میں نے حیرت اور پریشانی کے ملے جلے جذبات کے ساتھ کہا۔
”بات یہ ہے کہ بعض بچوں یابالغوںکے جسم کا دفاعی نظام دودھ میںموجود ایک پروٹین کیسین(Casein) اور دودھ کے پانی (whey)کو غلطی سے بیرونی حملہ آور سمجھ بیٹھتا ہے جس کی وجہ سے خون کے سفید خلئے ان کے خلاف اینٹی باڈیز بنانا شروع کر دیتے ہیں۔یوں سمجھ لیں کہ یہ دودھ کے خلاف جسم کے دفاعی نظام کاردعمل ہے۔“
”اچھا! طوبیٰ کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا:”لیکن کسی کو کیسے معلوم ہوگا کہ بچے کو دودھ سے الرجی ہے یا اسے ویسے ہی بدہضمی ہے؟“

ڈاکٹر مقبول نے جواب میں کہا کہ یہ الرجی عموماً جلد‘ نظام انہضام اور سانس لینے کے نظام کے ذریعے اپنا آپ ظاہر کرتی ہے:
”دودھ یا اس کی مصنوعات کے استعمال پر ان کے خلاف ردعمل کبھی فوری طور پریعنی چند لمحوں یاگھنٹوں میں ظاہر ہوجاتا ہے جبکہ بعض اوقات کافی دیر سے ظاہر ہوتا ہے ۔ اس الرجی کی بنیادی علامات میںدھپڑ‘سوزش‘متلی‘ قے‘ سانس لیتے وقت خرخراہٹ ‘آنکھوں سے پانی نکلنا‘ناک بہنا‘ پیٹ میں درد ‘کھانسی اور ڈائریا شامل ہیں۔“

انہوں نے بتایا کہ یہ الرجی بچوں میں زیادہ پائی جاتی ہے اور بالعموم جب وہ چار یا پانچ سال کی عمر تک پہنچتے ہیں تو ان کا معدہ اسے قبول کرنے لگتا ہے۔ جن بچوں کو دودھ سے الرجی ہو‘ انہیں ہر طرح کے دودھ سے الرجی ہوتی ہے اور اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ دودھ گائے کا ہے‘ بکری کا یا کسی اور جانور کا۔ مزید براں بعض اوقات شدید ردعمل بھی ظاہر ہوتا ہے جو اینا فائلیکس (Anaphylaxis) کہلاتا ہے۔ ایسا اگرچہ ایک سے دو فی صد لوگوں میں ہوتا ہے مگر جب ہو تو جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے۔
”دودھ کی الرجی کا توڑ کیا ہے؟“طوبیٰ نے بے چینی سے پوچھا؟

” دودھ اور اس سے بنی دیگر چیزوںسے پرہیز!“ انہوں نے ایک جملے میں جواب دیااور پھر بولے:
”دودھ سے متعلق ایک اور مسئلہ اس میں قدرتی طور پر پائی جانے والی شکر (لیکٹوز) کا برداشت نہ ہونا ہے جسے ایل آئی (Lactose Intolerance) کہا جاتا ہے۔ اگرچہ یہ مسئلہ بھی دودھ ہی سے متعلق ہے لیکن اس کا تعلق الرجی سے نہیں بلکہ نظام انہضام سے ہے۔ اس کی علامات کافی حد تک دودھ کی الرجی سے ملتی جلتی ہیں لہٰذا لوگ ابہام کا شکار ہو جاتے ہیں۔“

ڈاکٹر مقبول چونکہ مصروف تھے لہٰذا ان سے مزیدبات نہ ہو سکی۔ بعد میں ایک اور ماہر امراض ِ اطفال ڈاکٹر فرزانہ بتول سے اس پر بات کی توانہوں نے کہا کہ ”لیکٹوز “دودھ اور ڈیری کی دیگر مصنوعات میں پائی جانے والی قدرتی شکر ہے۔ ایل آئی اس وقت ہوتا ہے جب چھوٹی آنت ایک خامرہ لیکٹیز(lactase)مناسب مقدار میں پیدا نہیں کرپاتی۔یہ خامرہ لیکٹوز کو ہضم کرنے میں مدد دیتاہے۔جب ”لیکٹیز“ پیدا نہیں ہوتا تو ”لیکٹوز“ ہضم ہونے کی بجائے آنت میں ہی رہ جاتی ہے جس سے معدے اور آنت کے مسائل جنم لیتے ہیں۔
ان کے مطابق اگر دودھ صحیح طرح ہضم نہ ہو تو ریح (گیس) خارج ہونے ‘ ڈائریا‘مروڑ‘متلی اور قے کی شکایت بھی ہو سکتی ہے۔قبل ازوقت پیدا ہونے والے بچوں میں یہ عام ہے۔اس کے علاوہ یہ موروثی بھی ہے ‘ یعنی والدین سے بچوں میں منتقل ہوتا ہے۔

”لیکن ہمیں کیسے پتہ چلے گا کہ بچے میں’ ایل آئی‘ ہے یا دودھ کی الرجی؟ “طوبیٰ کے سوال کے جواب میں ڈاکٹر مقبول نے کہا کہ علامتوں کو دیکھنے اور خون کے ٹیسٹ کی مدد سے اس کی تشخیص کی جاسکتی ہے:
”دودھ پینے کے دوگھنٹے بعد خون کا ٹیسٹ کیاجاتا ہے تاکہ خون میں شکر کی مقدار کو جانچا جاسکے ۔پاخانے میں تیزابیت کے ٹیسٹ (Stool Acidity Test) کے علاوہ جلد کاایک ٹیسٹ بھی ہوتا ہے جو شیرخوار بچوں میں کیاجاتا ہے۔”ایل آئی“کے شکاربعض افراد کم مقدار میں دودھ کسی ٹھوس شے کے ساتھ استعمال کرسکتے ہیں جبکہ کچھ افراد اسے بالکل نہیں پی سکتے۔

”ایسے میں کیلشیم کی کمی کیسے پوری ہو گی؟“ میرے سوال پر ڈاکٹر صاحبہ نے کہا کہ کیلشیم بزرگوں‘خواتین، خصوصاًحاملہ‘دودھ پلانے والی اور سن یاس(menopause)کو پہنچ جانے والی خواتین کے لئے انتہائی ضروری ہے ۔جو لوگ دودھ نہیں پی سکتے‘ وہ متبادل ذرائع سے کیلشیم حاصل کر سکتے ہیں۔ “
کیلشیم کی حامل غذاﺅں میں پالک‘ بروکلی‘کیل (Kale)‘ شلجم‘ گوبھی‘مالٹے‘ سفید لوبیا‘ انجیر‘ بادام‘سالمن مچھلی ‘ گہرے سبز پتوں والی سبزیاں‘یخنی ( مرغی ‘بکری یا گائے کے گوشت کی ) شامل ہیں۔
ڈاکٹر فرزانہ بتول کے مطابق دودھ اور اس سے بنی ہوئی اشیاءکے علاوہ کھانے پینے کی بہت سی چیزیں ”کیسین“ اور ”وے“ سے بنی ہوتی ہیں لہٰذا انہیں خریدنے سے پہلے ان کے لیبل ضرور پڑھیں۔ یہ ایسی چیزوں مثلاًٹیونا مچھلی کے کین ‘ساسیج (sausages)اور انرجی ڈرنکس سمیت بہت سی چیزوں میں پائی جاتی ہیں۔بازار میں بادام کا دودھ‘ ناریل کا دودھ اور چاول کا دودھ عام دودھ کے متبادل کے طور پردستیاب ہیںجنہیں استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔

ڈاکٹر فرزانہ نے بتایا کہ” ایل آئی“ ہو یا دودھ کی الرجی‘ دوونوں صورتوں میں بہت سے افراد کو ڈیری مصنوعات سے مکمل اجتناب کرنا پڑتا ہے تاہم جب لیکٹوز کی برداشت کچھ بڑھ جائے تو وہ پکا کر خشک کی ہوئی چیزیں مثلاً کیک‘ بریڈ اور مفنز وغیرہ تھوڑی مقدار میں کھاسکتے ہیں۔

اس سیشن کے بعد جب ہم گھر واپس آرہے تھے تو میں سوچ رہی تھی کہ خدا کی کتنی ہی نعمتیں ایسی ہیں جو بن مانگے ہمیں دستیاب ہیں لیکن ہم ان کی قدر اورپھر ان پر شکر ادانہیں کرتے۔ہم روزانہ ‘ بغیر کسی تردد کے دودھ کا گلاس پی لیتے ہیں اور وہ کوئی مسئلہ پیدا کئے بغیر جزو بدن بن کر ہمیں طاقت اور توانائی دیتا ہے۔جن لوگوں کو ”مطلوبہ سہولت“ میسر نہیں، ان کے لئے بھی اس کے متبادل ذرائع موجود ہیں۔اس لئے ہمیںچاہئے کہ نعمتوں پر شکرادا کریں اورمشکل میں صبر کریں۔

مزید پڑھیں/ Read More

متعلقہ اشاعت/ Related Posts