بخار کیوں ہوتا ہے

259

    ”ماما!اِدھر آئیں، میرے ماتھے پر ہاتھ لگائیں۔“ نومی نے اپنی امی کوپکارا۔
”کیوں، کیا ہوا میرے بچے کو؟“ وہ فوراًسمجھ گئیں کہ اُس کا دل سکول جانے کو نہیں چاہ رہا لہٰذا وہ بخار کا بہانہ بنانے کی معصوم سی کوشش کر رہا ہے ۔امی نے بھی اپنے چہرے پر تشویش کامصنوعی تاثرقائم کیا ‘ تیزی سے بچے کی طرف بڑھی اور اس کی پیشانی پر ہاتھ رکھ دیا۔
” دیکھیں ماما، یہ گرم ہے ناں!“ نومی نے پریشان صورت بناتے ہوئے کہا۔
”نہیں تو، یہ تو بالکل ٹھنڈا ہے۔“ امی نے مسکراتے ہوئے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔ ٹکے سے جواب پر پانچ سالہ نومی کا منہ بن گیا۔
”ماما، کل میرا ماتھا گرم ہوجائے گا، سرگول گول گھوم رہا ہو گااور مجھے کھانسی بھی آئے گی۔ پھر مجھے سکول سے چھٹی کرنا پڑے گی‘ اس لئے کہ مجھے بخار ہو جائے گا۔“ نومی نے اپنا معصوم سا دماغ لڑایا۔ اس کی نرالی منطق پر سب ہنس پڑے۔

”دو یا تین ہفتوں بعد آپ کو گرمیوں کی بہت ساری چھٹیاں ہو جائیں گی۔ ان کے لئے آپ کو بیمار بھی نہیںہونا پڑے گا۔“ ماں نے اس کے گال پر بوسہ دیا اور اس کے سر میں کنگھی کرنے لگی :” یہ بتاﺅ کہ تمہیں یہ عقل کی باتیں کون بتاتا ہے؟“
”میں خود…“ نومی معصومیت سے مسکرایااور اپنا بھاری بھرکم بیگ اٹھاتے ہوئے مین گیٹ کی طرف چل پڑا۔
”ماما! جب بخار ہوتا ہے تو ہمارا ماتھا گرم کیوں ہوجاتا ہے ؟“ نومی کی بہن پنکی نے پانی کی بوتل اٹھاتے ہوئے پوچھا۔
” جلدی چلو، گاڑی نکل جائے گی۔ شام کو اپنے پاپا سے پوچھنا یہ باتیں۔“ ماما نے اس سے کہا۔ وہ جلدی سے باہر نکلی اور بھائی سے باتیں کرتے ہوئے سٹاپ کی طرف بڑھنے لگی جہاں سے انہیں سکول وین پِک کرتی تھی۔
شام کوپاپا دفتر سے واپس آئے ۔ بیل کی آواز سنتے ہی بچے تیزی سے ان کی طرف لپکے:

”پاپا! ایک بات بتائیں…“ پنکی نے نومی کو پیچھے دھکیلتے ہوئے کہا۔
”نہیںپاپا، مجھے بتائیں کہ ماتھا گرم کیوں ہوتا ہے ؟نومی تیزی سے آگے بڑھا۔
”پاپا کو سانس تو لینے دو۔ سلام ، نہ دعا، چھوٹتے ہی…“ ماما نے انہیں پیچھے سے پکارا۔ اس پر دونوں بیک زبان بولے :” السلام علیکم ، پاپا، وہ ماتھا…“
پاپا نے اپنی جھنجلاہٹ کو دبایا، پورچ میں زمین پر پاﺅں کے بل بیٹھ گئے۔ انہوں نے نومی کو اپنے دائیں زانو پر بٹھایا اور دوسرا بازو پنکی کی گردن میں ڈالتے ہوئے دونوں کوپیار کیا: ” بھئی! مجھے تو اس کانہیں پتہ، اس لئے کہ یہ تو ڈاکٹروںکی باتیں ہیں۔ شام کو آپ کے ماموں آرہے ہیں‘ انہی سے پوچھ لینا۔ اچھا ہے، میرے علم میں بھی اضافہ ہو جائے گا۔“
شام کو ماما‘ پاپا اور دونوں بچے ڈاکٹر افتخار کے ساتھ ٹی وی لاﺅنج میں بیٹھے تھے۔
”ماموں! بخار کیا ہوتا ہے اور اس کی وجہ سے ہمارا جسم گرم کیوں ہوجاتا ہے۔“ پنکی کب سے ضبط کئے بیٹھی تھی۔”ماموں، میرا ماتھا کب گرم ہوگا؟“ نومی کہاں پیچھے رہنے والا تھا۔
”اللہ نہ کرے ،نومی۔تم نے ماتھا گرم کروا کر کیا کرنا ہے ۔“ ماموں نے پوچھا۔
” مجھے سکول سے چھٹی کرنی ہے…“ اس پر سب ہنس پڑے۔

ماموں نے کچھ دیر سوچااورپھر گویا ہوئے:
”بخار کے معاملے کوسمجھنے کےلئے ضروری ہے کہ ہم جسم کے گرم اور سرد ہونے کے قدرتی نظام کو اچھی طرح جان لےں۔ ائےرکنڈےشنر کی مثال اس سلسلے میں ہماری بہت مدد کر سکتی ہے۔“
”وہ کیسے؟“ پنکی نے آنکھیں پھیلائیں۔
”گرمیوں کے موسم میں جب ہمیںاپنے کمرے کواےک خاص حد تک ٹھنڈا رکھنا ہوتا ہے تو ہم اس کے تھرمو سٹےٹ کوایک خاص سطح پر سےٹ کر دےتے ہےں۔اس پر اے سی اپنے اندر کچھ سرگرمیاں شروع کرتا ہے جس کی بدولت کمرے کا درجہ حرارت مطلوبہ سطح پر آجاتا ہے اور ہم سکون محسوس کرتے ہےں۔“
”ماموں، یہ تو مجھے پتہ ہے ۔“ پنکی نے سرہلایا:” لیکن ہمارا جسم تو اے سی نہیں۔“
”اللہ تعالیٰ نے ہمارے جسم کو کچھ اس طرح سے بناےا ہے کہ وہ اپنے معمول کے کام98.4ڈگری فارن ہائےٹ پرہی بہتر طور پر انجام دے سکتا ہے۔ جسم کو اس درجہ حرارت پر رکھنے کےلئے ہمارے دماغ میں ہائپوتھلمس(Hypothalamus)کی شکل میں اےک تھرموسٹےٹ لگا ہوتا ہے جوقدرتی طور پر اسی درجہ حرارت پر فکس ہوتا ہے۔اگر وہ اس سطح سے کم ہو توہائپوتھلمس جسم میں کچھ اےسی سرگرمیاں شروع کرتا ہے جس سے خون گرم ہوجاتا ہے اور جسم کا درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے۔ “
” یہ تو بہت ہی دلچسپ نظام ہے!“ نومی کی آپی مریم چائے لئے کمرے میں داخل ہوئی۔
”کبھی ایسا ہوا کہ شدید سردی میں آپ کا جسم کانپنا شروع ہو گیا ہو؟“ ماموں نے پوچھا۔

”جی ہاں!سردیوں میں سکول جاتے ہیں توایسا ہوتا ہے۔ لیکن کیوں؟“ پنکی بولی ۔
”جب جسم کانپتا ہے تو ہمارے پٹھوں کی حرکت کے سبب خون میں گرمی بڑھ جاتی ہے اور جسم نارمل ٹمپرےچر پر آجاتا ہے۔گرمیوں کے موسم میں جب جسمانی درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے توایک قدرتی نظام کے تحت ہمیں پسےنہ آتا ہے۔ جب ہوا جلد پر موجود نمی سے ٹکراتی ہے تو جلد کی گرمی اپنے ساتھ لے جاتی ہے۔ اس سے ہمیں ٹھنڈک کا احساس ہوتا ہے۔“
”ہوں…تو پھر بخارکیا ہے؟“ پنکی نے پوچھا۔
”عام حالات میںہائپو تھلمس اےک خودکار نظام کے تحت جسمانی درجہ حرارت کو موزوں سطح پرہی رکھتا ہے لےکن بعض اوقات کچھ عوامل کی وجہ سے اس کا تھرمو سٹےٹ زےادہ سطح پر سےٹ ہوجاتا ہے۔ اب ہائپو تھلمس درجہ حرارت کی نئی سطح کو نارمل سمجھ کر جسم کو اس پر لانے کیلئے کچھ سرگرمیاں شروع کر دےتا ہے۔ےوں ہمارا ٹمپرےچر نارمل سے زےادہ بڑھ جاتا ہے۔دوسرے لفظوں میں ہمیں بخار ہو جاتا ہے۔ کیا سمجھے؟“ ماموں نے پنکی کی طرف دیکھا۔
”ماموں ! اگر جسم تھوڑا سا گرم ہوجائے تو اس کا نقصان کیا ہے؟ “ مریم نے سوال کیا۔
” بخار میں ہمیں کمزوری ہو جاتی ہے‘ اس لئے کہ مفےد کاموں میں استعمال ہونے والی توانائی جسم کو گرم کرنے میں استعمال ہو جاتی ہے۔“ ماموں نے جواباً کہا۔
” یہ بتائیں کہ جسم کتنا گرم ہو تو ہم اسے بخار کہیں گے؟“ نومی کی امی نے پوچھا۔
” بعض اوقات ہمیں اپنے ہاتھوں ےا پاﺅں میں بخار کی سی کیفےت محسوس ہوتی ہے لےکن جب تھرما میٹر سے درجہ حرارت چےک کیا جاتا ہے تو وہ نارمل نکلتا ہے۔ ایسے میں ہم اسے بخار نہےں کہہ سکتے ۔ بخار وہی ہو گا جو تھرما میٹر سے چےک کرنے پر 98.4ڈگری فارن ہائےٹ سے زیادہ آئے ۔اگر وہ99ڈگری پر ہو تو عمومی بخار ہے لےکن اگر لمبے عرصے تک اس سطح پر رہے توےہ خطرناک ہو سکتا ہے۔بالعموم104 سے106ڈگری تک بخارکو شدید یعنی ہائی گرےڈ شمارکیا جاتا ہے۔اگر وہ 106ڈگری سے اوپرچلا جائے تو دماغ سمےت دےگر اعضا ءکے عمومی افعال متاثر ہونا شروع ہو جاتے ہےں۔ 107 ڈگری کا بخاراگرکچھ عرصہ تک رہے توےہ کسی شخص کومارنے کےلئے کافی ہوتا ہے۔ اسی طرح جسمانی درجہ حرارت کم ہو جائے تو ےہ بھی نقصان دہ ہے۔ اگر وہ 92ڈگری سے نےچے چلا جائے توجسمانی افعال رک جاتے ہےں۔“
”اگر بخار ہو تو ہمیں کون سی میڈیسن لینی چاہئے ؟“ ماما نے پوچھا۔
”بخارمیں فوراً ہی کوئی دواکھانے سے بہتر بات ہے کہ آپ اپنے جسم کو کھولےں‘ اس پرگےلا کپڑاپھےرےں اور پنکھے کے نےچے آ جائےں۔ اس سے جسم کی حرارت کم ہو جائے گی۔ آپ ےوں سمجھ لےں اس طرح ہم جسم کو مصنوعی طور پر پسےنہ فراہم کر رہے ہوتے ہےں۔ ٹمپرےچر کم کرنے کا سب سے بہتر طرےقہ جسم کو پانی سے گےلا کرنا ہے۔ بخارمیں برف کی ٹکور درست نہےں‘ اس لئے کہ اس سے جلد پرخون کی نالےاں جم جاتی ہےں اوران میں خون نہےں آتا۔ اگر آرام نہ آئے تو …“
”ڈاکٹر سے رجوع کریں…“ پنکی نے جملہ اچک لیا:”اشتہارات میںیہی بتاتے ہیں۔ ماموںیہ بتائیں کہ ہمیں بخار کیوں ہو تا ہے۔ دوسرے لفظوں میںہائپو تھلمس اپنے تھرموسٹےٹ کو نئی سطح پرکیوں اےڈجسٹ کردےتا ہے۔“ مریم نے پوچھا۔
” سائنسی انداز میں بات کی جائے تو اس کا سبب خاص طرح کے کیمےکلز ہوتے ہےں جنہےں طبی زبان میں پائرو جنز (Pyrogens) کہا جاتا ہے۔ پائےرو کا مطلب ”بخار“ اور جنز کا ”پےدا کرنے والے“ ہےں۔ےوں پائےروجنز ‘ بخار پےدا کرنے والے کےمیکلز ہےں۔“
”ماموں ، آسان لفظوں میں سمجھائیں ناں۔“ پنکی بولی۔
” بخار پےدا کرنے والے عوامل کی دو بڑی اقسام ہےں۔ اےک وہ جو باہر سے جسم میں داخل ہو کراس کے تھرموسٹےٹ کو اوپری سطح پر سےٹ کر دےتے ہےں۔ اس قسم میں تمام طرح کے جراثےم یعنی وائرس اور بےکٹےرےا شامل ہےں۔کچھ وائرس آلودہ پانی میں ہوتے ہےں جسے پےنے سے گےسٹرو‘ ہےپاٹائٹس اے‘ ٹائےفائےڈ وغےرہ ہو سکتا ہے۔کچھ وائرس ہوا میں موجود ہوتے ہےں جن میں فلو اور ٹی بی کا وائرس وغےرہ شامل ہےں۔کچھ خون میں براہ راست داخل ہوتے ہےں۔اس کی مثال ڈےنگی اور ملےرےا ہےں جن کا وائرس مچھر کے ڈنک کے ذرےعے انسانی جسم میں داخل ہوتا ہے۔“
”اور دوسری قسم کے عوامل…؟“ پاپا نے پوچھا۔
”وہ ہےں جو جسم کے اندرہی پےدا ہوتے ہےں۔ان میںسے اےک جسم کے اندر بننے والے کےنسر زدہ خلئے ہےں جو غےرفطری کےمےائی مادے پےدا کرتے ہےں۔بےمارےوں کے خلاف ہمارے دفاعی نظام میں خرابی بھی پائےروجنز میں شامل ہے۔ تمام طرح کے بخاروں کی اےک چوتھائی وجہ انفےکشنزیعنی وائرس اوربےکٹےرےا سے لگنے والی بےماریاں‘اےک چوتھائی کےنسر زدہ خلئے ےا رسولیاں‘ اےک چوتھائی دفاعی نظام میں گڑبڑ اور باقی اےک چوتھائی وجہ میںدےگر عوامل شامل ہےں۔ 80سے 90فی صدبچوں میںبخار کی وجہ انفےکشنزہےں۔انہےں بخار زےادہ بار ہونے کی بڑی وجہ ےہ ہے کہ وہ صفائی کازےادہ خیال نہےں رکھتے اور مضرصحت چےزےں کھاتے پےتے رہتے ہےں۔“ انہوں نے تفصیل سے بتایا۔
”یہ بتائیے کہ کون سابخارمعمولی اور کون سا خطرناک ہے؟“ مامانے سوال کیا۔
”کچھ بخاراےسے ہےں جن میں چھےنکےں آتی ہےں‘ نزلہ ہوتا ہے اور گلا خراب ہوجاتا ہے۔اگر اےسا ہو تو عموماً اس کی وجہ موسمی وائرس ہوتے ہےں جنہوں نے اپنا وقت پورا کر کے چھ ےا سات دنوں میں خود ہی ٹھےک ہوجانا ہوتا ہے۔ اےسے میں آپ دوا نہ بھی لےں توکوئی حرج نہےں۔ اگر اس کے ساتھ ڈائےرےا‘ کھانسی‘ پےلیا (Jaundice) کی شکاےت بھی ہو جائے تو پھر لازماً اور بروقت علاج کراناچاہئے ورنہ اس کے نقصانات بھی ہو سکتے ہےں۔“
”میراخیال ہے کہ اب ہمیں کھانے کے لئے اٹھنا چاہئے۔“ پاپانے نے امی کی طرف دیکھا ۔
”جی ہاں، تقریباً 10منٹ کے بعد۔“ امی نے وال کلاک کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
”ایک بات یاد رکھنے کی ہے۔“ ماموں نے صوفے پر دراز ہوتے ہوئے کہا۔
”وہ کیا بھائی… ؟“ ماما، جو کچن کی طرف بڑھ رہی تھیں، مڑتے ہوئے بولیں۔
”بخار کوئی بےماری نہےںبلکہ اےک علامت ہے۔ اصل بےماری کو ڈھونڈے بغےر اس علامت کو دواﺅں سے دبا دےنا درست نہےں۔ اس لئے بخار میں خود علاجی سے پرہےز کرےں اور مرض کی باقاعدہ تشخیص کروائےں۔“
”جی ہاں، ہم ایسا ہی کریں گے۔“ امی نے کہا اور بچوں سے مخاطب ہوئیں:” چلو بچو، اب برتن لگانا شروع کرو۔“ پنکی اور مریم کچن کی طرف بڑھ گئیں جبکہ نومی نے ٹی وی پر اپنا پسندیدہ کارٹون دیکھنا شروع کر دیا۔