خون کا سرطان کیا ہے

7

خون کا سرطان کیا ہے


خون جیسے سیال مادے کا ایک حصہ مائع اور دوسرا ٹھوس شکل میں ہوتا ہے۔ اس مادے میں تین طرح کے خلئے یا جسیمے پائے جاتے ہیں جنہیں سرخ خلئے ‘سفید خلئے اور پلیٹ لیٹس کہا جاتا ہے۔ خون کے سرطان کی کئی اقسام ہیں جن میں سے زیادہ عام قسم لیوکیمیا ہے جو زیادہ تر سفید خلیوں میں تبدیلی سے پیدا ہوتا ہے۔ کینسر کی دیگر اقسام کے برعکس اس میں رسولی پیدا نہیں ہوتی۔


جسم کی بڑی ہڈیوں میں ایک خالی نالی ہوتی ہے جس میں سفید خلیے بنتے ہیں۔ ان کی ابتدائی شکل کو ناپختہ سیلز یا بلاسٹ کہا جاتا ہے جو عموماً ہڈیوں کے اندر ہی ہوتے ہیں۔ جب وہ مکمل طور پر تیار ہو جائیں تو خون میں شامل ہو کر مختلف کام سرانجام دیتے ہیں۔بلڈکینسر کی صورت میں قدرتی طور پر انجام پانے والا یہ عمل بدل جاتا ہے اور خون کے خلیے بلاضرورت اور جلدی جلدی بن کر اپنی ابتدائی شکل (بلاسٹ) میں ہی خون میں شامل ہونے لگتے ہیں حالانکہ اس وقت تک وہ کام کے لئے مکمل طور پر تیار نہیں ہوئے ہوتے۔ یہ خلیے کینسر زدہ بھی ہو سکتے ہیں اور نہیں بھی لہٰذا خلیوں میں ہر تبدیلی کو خون کا کینسر نہیں سمجھنا چاہئے۔


کینسر کی دیگر اقسام میں رسولی ایک جگہ پیدا ہونے کے بعد جسم کے دیگر اعضاء تک بھی پہنچ جاتی ہے جس سے کینسر کے مرحلے یا سٹیج کا تعین کیا جاتا ہے۔ خون چونکہ پورے جسم میں گردش کرتا ہے اس لئے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہوتا ہے کہ بیماری کس سٹیج پر ہے۔ بلڈکینسر چونکہ بیک وقت پورے سسٹم میں موجود ہوتا ہے لہٰذا اسے سسٹم کی بیماری بھی کہتے ہیں۔ اس کی بہت سی اقسام ہیں تاہم اسے دو بنیادی اقسام میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:۔


قلیل المیعاد بلڈکینسر

یہ عموماً بچوں اور نوجوانوں میں زیادہ ہوتا ہے۔ اس میں متاثرہ خلیوں کی نشو و نما بہت تیز ہوتی ہے لہٰذا اس کا علاج نسبتاً مشکل ہوتا ہے۔ قلیل المیعاد کینسر کی شرح 40 فی صد ہے۔


 طویل المیعاد بلڈکینسر

 اس کی شرح بڑی عمر کے لوگوں میں زیادہ ہے۔ یہ چونکہ آہستہ آہستہ پھیلتا ہے لہٰذا اس کا علاج قلیل المیعاد کینسر کی نسبت آسان ہوتا ہے۔ طویل المیعاد کینسر کی شرح 60 فی صد ہے۔

 acute leukemia, chronic leukemia, Blood cancer, White blood cells, red blood cells, platelets

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x