لطف‘صحت اور سکون

119

صبح سویرے اٹھ کرسیر کو جانا ایک خوبصورت اور پرلطف تجربہ تو ہے مگر اس کے لئے نیند کی تھوڑی سی قربانی دینا پڑتی ہے۔اس کے بدلے میں وہ آپ کو نہ صرف تازہ دم کرتی اورصحت بخشتی ہے بلکہ آپ کو ذہنی سکون‘ طمانیت اور خوشی بھی دیتی ہے ۔اس لئے صبح جلدی اٹھنے کے لئے الارم لگائیے‘اس کے بجتے ہی بستر چھوڑ دیجئے اورواک کونکل جائیے۔ اس کا صحیح طریقہ اور فوائد جانئے صباحت نسیم کی اس معلوماتی تحریرمیں

آج سے تقریباً10سال پہلے کی بات ہے کہ چکوال کے رہائشی تنویر کی ملازمت ختم ہوگئی جس کی وجہ سے اسے تقریباً ایک ماہ تک بے روزگار رہنا پڑا۔ اس کے پہلے چنددن یوں گزرے کہ وہ سارا دن سویا رہتا جس کا نقصان یہ ہوتا کہ اسے رات بھر نیند نہ آتی۔اس نے اس کا حل یہ نکالا کہ صبح سویرے واک کی جائے اوردن کوصرف تھوڑا سا سویا جائے تاکہ رات کو بھرپور نیند آ سکے۔ یوں پہلی دفعہ صبح کی سیر اس کا معمول بنی اوریہ ایسا تجربہ تھا جس نے اسے ششدر کردیا:
’’ ہمارا گھر شہر کے آخری سرے پر ہے جس کے بعدتاحدنگاہ کھیت ہی کھیت ہیں۔ جب پہلے دن واک کے لئے نکلا تو ہوا میں ذرا سی خنکی تھی لیکن وہ اتنی صاف تھی کہ اس نے مجھے تازہ دم کر دیا۔ تقریباً دوکلومیٹر کے فاصلے پر ایک بزرگ کی درگاہ ہے۔ وہاں پہنچ کرچشمے کا ٹھنڈا پانی پیا تو اس کی تازگی اور ذائقے نے مجھے ایک عجیب سے احساس سے سرشار کردیا۔ ابھی وہیں بیٹھا کہ مشرق سے سورج سرخ رنگ کے ایک گولے کی طرح بلند ہونا شروع ہوا۔ یہ سب کچھ اتنا پرلطف تھا کہ میں حیران رہ گیااور مجھے اس بات پر افسوس ہوا کہ میں اتنا عرصہ‘ اتنی بڑی نعمت سے محروم رہا۔ اس کے ساتھ ہی مجھے ان تمام لوگوں پر ترس آیا جو اتنے خوبصورت وقت کو بستر میں پڑے ضائع کردیتے ہیں۔ واک کا یہ سلسلہ تقریباً ایک ماہ چلا جس کے بعد مجھے ملازمت مل گئی اور یہ معمول بھی ٹوٹ گیا۔‘‘
جو لوگ بھی صبح کی سیر کرتے ہیں‘ ان میں سے تقریباً سبھی کے احساسات ایسے ہی ہوتے ہیں‘ اس لئے کہ یہ انہیں صحت‘ تازگی اور لطف سبھی کچھ دیتی ہے۔ پارک ہو یا کھلا میدان‘ گھر کی چھت ہویااس کا لان گھر کی گلی ہو یا کھلی سڑک‘ صبح کی سیر کسی بھی جگہ کی جا سکتی ہے۔ اس کے لئے صرف ایک چیز کی ضرورت ہے‘ اور وہ ہے قوت ارادی اور نیند کی تھوڑی سی قربانی۔ دوسری طرف اس کے فوائد بے شمار ہیں جو اس تحریر کا موضوع بھی ہیں۔

واک کیسی ہو
ڈاکٹر ضیا ء الدین یونیورسٹی کراچی کے فیزیوتھیراپسٹ ڈاکٹر شکیل احمد کا کہنا ہے کہ جس واک کو صحت کے لئے ضروری قرار دیا جاتا ہے‘ وہ خراماں خراماں ٹہلنے سے بالکل مختلف چلنا ہے۔ یہ ایسی چہل قدمی ہے جس میں کچھ مشقت ہو‘ چلنے والے کو تھکاوٹ کا احساس ہو‘کچھ پسینہ آئے اور دل کی دھڑکن معمول سے تیز ہوجائے۔‘‘
شفا انٹر نیشنل اسلام آباد کی فز یوتھیراپسٹ ام البنین کا کہنا ہے کہ بہت سی بیماریوں کے امکان کو صرف اس ایک عادت یعنی تیز قدمی (brisk walking) سے کم کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق اگر آپ ایک سیکنڈ میں دو قدم اٹھا رہے ہوں تویہ تیز چلنے میں شمار ہوگا۔ آغاخان ہسپتال کراچی کی فیزیوتھراپسٹ ناہید کپاڈیہ اسی بات کو یوں بیان کرتی ہیں کہ ’اگر آپ 10منٹ میں ایک کلومیٹر سفر کر رہے ہوں تو اسے تیز چلنا کہا جا سکتا ہے۔‘ ان کے مطابق یہ ایک تسلیم دہ حقیقت ہے کہ آپ کو ہفتے میں 150منٹ پیدل ضرور چلنا چاہئے ۔اگر آپ دو دن آرام کرنا چاہیں تو اس حساب سے ہفتے کے پانچ دنوں میں روزانہ کم از کم 30منٹ بنتے ہیں جوفوائد کے مقابلے میں زیادہ بڑی قربانی نہیں ہے۔
ناہید کپاڈیہ کا کہناہے کہ واک خواتین کے لئے بھی مردوں جتنی ہی ‘ بلکہ اس سے زیادہ ضروری ہے‘ اس لئے کہ ان میں موٹاپے کی شرح مردوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ اس حوالے سے جب خواتین سے بات کی جائے تو اکثراوقات ان کا جواب یہ ہوتا ہے کہ گھریلو کام کاج کچھ کم ہیں جو اب ورزش بھی کریں۔ وہ گھریلو کاموں کو ورزش کا متبادل سمجھتی ہیں جو غلط تصورہے:
’’گھریلو کام کاج کے دوران خواتین ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں چلی جاتی ہیں‘کچن میں جا کر گلاس رکھ آتی ہیں یا چند بار سیڑھیاں چڑھتی ہیں۔ چونکہ اس دوران وہ وقفہ بھی لے رہی ہوتی ہیں‘ اس لئے اسے تیز قدمی میں شمار نہیں کیا جاسکتا ۔‘‘

تیز قدمی کے فوائد
اکثرلوگوں کی طرف سے واک نہ کرنے کے کئی جواز پیش کئے جاتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ اگر انہیں موٹاپے کے نقصانات اور واک کے فوائد معلوم ہوں تو وہ مشہور کہاوت ’’جہاں چاہ وہاں راہ‘‘ کے مصداق کوئی راہ نکال ہی لیں۔ مشہور یونانی معالج اور مفکر ہیپوکریٹس (Hippocrates) نے آج سے دوہزار سال قبل پیدل چلنے کے بارے میں کہا تھا کہ ’یہ عمل انسان کے لئے بہترین دوا ہے۔‘اسی بات کاخلاصہ یونیورسٹی آف کیمبرج کی ایک تحقیق میں یوں بیان کیا گیا ہے کہ روزانہ 20منٹ کی تیزقدمی قبل ازوقت موت کے خطرے کو ایک تہائی حد تک کم کرتی ہے۔ہم تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ اسے یوں کہہ سکتے ہیں کہ موت پر ہمارا اختیار نہیں البتہ اس کی کوالٹی بڑی حد تک ہمارے ہاتھ میں ہوتی ہے جسے تیز قدمی کی عادت سے بہتر کیا جا سکتا ہے۔ اس کے فوائد مندرجہ ذیل ہیں:
وزن میں کمی
ڈاکٹر شکیل احمد کا کہنا ہے کہ وزن کم کرنے کے خواہش مند افراد کو چاہئے کہ دن میں کم از کم 60منٹ ضرورتیز قدمی کریں اور اس کے ساتھ اپنی خوراک کو بھی متوازن رکھیں:
’’ اگر کوئی شخص یہ سمجھتا ہے کہ ورزش جاری رکھتے ہوئے وہ مرغن غذائیں بھی کھاتا رہے اوراس کا وزن بھی نہ بڑھے تو ایسا ممکن نہیں۔ متوازن غذا اور مناسب ورزش سے کم وقت میں زیادہ فوائد حاصل کئے جا سکتے ہیں‘ یہاں تک کہ تین ماہ میں 5 سے 10کلو تک وزن سے نجات حاصل کی جاسکتی ہے۔
دل کی صحت
دل کی صحت کے لئے تیز قدمی کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے ہارٹ انٹرنیشنل راولپنڈی کے ماہرِ امرض ِقلب ڈاکٹر اسد اسلام کا کہنا ہے :
’’تیز پیدل چلنے سے دل کا پٹھے مضبوط اوردھڑکن تیز ہوتی ہے۔ اس طرح شریانوں میں خون کی گردش بھی بہتر ہوتی ہے جس سے آپ کامیٹا بولزم بھی ٹھیک ہوتا ہے۔جو لوگ تیزقدمی نہیں کرتے‘ انہیں سب سے پہلے موٹاپا آگھیرتا ہے جس کے بعد شوگر‘ بلڈ پریشر اور آخر میں دل کی بیماریاں لاحق ہو جاتی ہیں۔‘‘
موڈ پر مثبت اثر
کے آر ایل ہسپتال اسلام آباد کے شعبہ نفسیاتی علاج کی معالج ڈاکٹرسنعیہ اخترکا کہنا ہے کہ جب آپ ورزش کرتے ہیں تو دماغ میں کچھ کیمیکلز خارج ہوتے ہیں جنہیںانڈورفنز (Endorphins) کہا جاتا ہے۔ ان کی وجہ سے موڈ بہتر ہوتا ہے۔
اچھی دماغی صحت
ڈاکٹرسنعیہ اخترکے مطابق جم میں ورزش کرنے کا اپنا اثر ہے لیکن سرسبز جگہوں پر تیز قدمی یا ورزش سے آپ کی نیند بہتر‘ ذہنی دبائو میں کمی اورموڈ پر اچھا اثر پڑتا ہے:
’’ تیز قدمی دماغی صحت اور ذہنی سکون کے لئے نہایت ضروری ہے اور اگر یہ عمل صبح کے وقت کیا جائے تو دوگنا فائدہ ہوتا ہے ۔ا س کی وجہ یہ ہے کہ صبح کی فضا گردوغبار سے پاک ہوتی ہے اور جب صاف اور تازہ آکسیجن پھیپھڑوں میں جاتی ہے تو آنکھیں روشن،چہرہ سرخ اور دماغی و جسمانی پٹھے مضبوط ہوتے ہیں۔اس کی وجہ سے ہم سارا دن کام کرنے کے بعد بھی تھکاوٹ اور اکتاہٹ کا شکار نہیں ہوتے اور سماجی و گھریلوذمہ داریاں احسن طریقے سے ادا کرپاتے ہیں۔

مریض اور واک
دل کے مریض
ڈاکٹر اسد اسلام کا کہنا ہے کہ دل کے مریضوں کو علاج کے بعدڈاکٹر کے مشورے سے تیز قدمی یاورزش ضرورکرنی چاہئے جس کا دورانیہ اور شدت متعین ہونا چاہئے ۔ بہتر یہ ہے کہ چلنے کے دوران دل کے مریض اپنی دوا اپنے ساتھ رکھیں۔ان کے مطابق :
’’ دل کے مریضوں کوچاہئے کہ ٹریڈمل کے استعما ل میں احتیاط برتیں‘ اس لئے کہ اس سے دل کی دھڑکن اچانک زیادہ تیز ہوجاتی ہے۔ ایسے میں دل کو زیادہ خون کی ضرورت ہوتی ہے۔ چونکہ ان لوگوں کی خون کی نالیوں میں رکاوٹ آئی ہوتی ہے‘ اس لئے انہیں اچانک دل کا درد بھی ہو سکتا ہے۔ جن لوگوں کے جوڑوں میں تکلیف ہو‘ ان کے لئے بھی مینول ٹریڈمل موزوں نہیں ہے۔‘‘

ذیابیطس کے مریض
دبئی ہسپتال،دبئی کے ماہرذیابیطس ڈاکٹر شاہد حمید کا کہنا ہے کہ جن مریضوں کو ذیابیطس کے ساتھ دل کا مرض بھی لاحق ہو‘ انہیں چاہئے کہ واک کے دوران ڈاکٹر کی تجویز کردہ ادویات ضرور اپنی جیب میں رکھیں تاکہ بوقت ضرورت استعمال کرسکیں۔مزیدبرآں انہیں ا تنا ہی پیدل چلنا چاہئے جس سے انہیں سینے میں دباؤ یا درد محسوس نہ ہو۔جونہی درد یا دبائو محسوس ہو‘ فوراً چلناترک کر دیں اور اپنے معالج سے رجوع کریں۔
ڈاکٹر شاہد کا مزید کہنا ہے کہ ذیابیطس کے مریضوں میں گلوکوز کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ جب وہ ورزش کرتے ہیں تو توانائی کی اضافی ضرورت کی وجہ سے وہ استعمال ہو جاتی ہے۔ نتیجتاً اُن کا شوگر لیول نیچے آ جاتا ہے اور کبھی کبھی وہ اتنی کم ہوجاتی ہے کہ ہنگامی صورت حال پیدا ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ اس لئے ایسے مریضوں کو خاص طور پر تجویز کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے ساتھ پانی کی بوتل،شربت ‘ میٹھی چیز یا دوا ضرور رکھیں۔ ان کے مطابق مریضوں کے لئے بہتر ہے کہ وہ اپنے موبائل میں قدم شماری کی کوئی ایپ ڈائون لوڈ کرلیں اور اس کی مدد سے دن میں 10,000قدم لازمی مکمل کریں۔ میرا مشورہ یہ ہے کہ ذیابیطس کے مریض صبح کی سیر کو ترجیح دیں تاکہ ان کی ذہنی اور جسمانی صحت دونوں پر مثبت اثرات مرتب ہوتے رہیں۔

حاملہ خواتین
شفا انٹرنیشنل فیصل آباد کی ماہر امراض زچہ و بچہ ڈاکٹر کنیز فاطمہ کا کہنا ہے کہ جن حاملہ خواتین نے پہلے کبھی تیز قدمی یا کوئی جسمانی ورزش نہ کی ہو‘ وہ ایک دن چھوڑ کر ایک دن 15سے20منٹ تیز قدمی کریں اور جب ان کا جسم اس کا عادی ہوجائے توپھر وہ 20 سے 30منٹ تک کی تیزقدمی ہفتے میں پانچ دن کرسکتی ہیں۔البتہ جن کا جسم پرمشقت ورزش کا عادی ہے‘ وہ ہفتے میں چھ دن 30سے40 منٹ تک تیز چلنے کا معمول اپنا سکتی ہیں۔ ان کے بقول ہر حاملہ عورت کا تجربہ دوسری عورت سے مختلف ہوتا ہے‘ اس لئے اپنی طاقت،حالت اور معالج کے مشورے سے تیز قدمی کرنی چاہئے تاکہ پیچیدگیوں سے محفوظ رہاجاسکے۔مزیدبرآںپیدل چلنے کے دوران سب سے ضروری چیز اپنا توازن برقرار رکھنا ہے:
’’ حاملہ خاتون کا وزن بڑھا ہواہوتا ہے اور جسم کا مرکزثقل (centre of gravity) بھی تبدیل ہوا ہوتا ہے لہٰذا ان کے گرنے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔اس لئے کوشش کریں کہ ہموار سطح پر اور آرام دہ جوتے پہن کر پیدل چلا جائے۔ جوخواتین گھر سے باہر نہیں نکل سکتیں‘ انہیں چاہئے کہ ٹریڈمل استعمال کریں لیکن اس دوران ہاتھوں کو اس کے ہینڈل پر مکمل سہارا دسے کر آہستہ آہستہ چلنا شروع کریں اور اپنی برداشت کے مطابق 20سے25منٹ تک چلیں۔‘‘

حاملہ خواتین کو پیدل چلنے کی ہدایت اس لئے کی جاتی ہے کہ وہ صحت مند رہیںاوران کی زچگی کا مرحلہ آسانی سے گزر جائے۔ مزیدبرآںواک سے حاملہ خواتین کا بلڈبریشر،دوران حمل ہونے والی ذیابیطس اور پیدائش کے بعد ہونے والے ڈپریشن سے بچاؤ اور اس کے علاج میں بھی مدد ملتی ہے۔
جان ہے تو جہان ہے اور اگر آپ بیمار پڑ گئے تو زندگی کا ہر لطف پھیکا پڑ جائے گا۔ اس لئے اپنے روزانہ کے معمول میں تقریباً آدھا گھنٹہ ضرور نکالئے تاکہ آپ خوش اور تندرست رہ کر وہ ذمہ داریاں ادا کر سکیں جن کی وجہ سے آپ کو واک اور ورزش کے لئے وقت نہیں ملتا۔

Leave a Reply

Leave a Reply

  Subscribe  
Notify of