سوات۔۔۔پاکستان کا سوئٹرزرلینڈ

43

دیہات کی نسبت شہروں کی زندگی تیز ہوتی ہے اور بالعموم لوگ ایک ہی معمول پر اتنی سختی سے کاربند ہوتے ہیں کہ ان پر کولہو کے بیل کی کہاوت صادق آتی ہے ۔یہ صورت حال اپنے ساتھ بہت سے تفکرات‘ الجھنیں اور پریشانیاں لاتی ہے۔ ایسے میں انسان سوچتا ہے کہ وہ کچھ دنوں کے لئے کسی دور دراز علاقے میں چلا جائے۔اگر ایسا کر لیا جائے تو ہماری ذہنی اور جسمانی صحت پر بہت اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ہمارا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی تھا ۔ذہنی طور پر تازہ دم ہونے اور چھوٹی بہن کی گرمیوں کی چھٹیوں کا صحیح استعمال کرنے کے لیے ہم دونوں نے پاکستان کے سوئٹرزرلینڈ یعنی سوات جانے کا پروگرام بنا لیا ۔گرمیوں میں ہر سال یہاں جشنِ سوات منعقد کیا جاتا ہے جس میں موٹر سائیکل سے چھلانگ‘گھڑ سواری‘ گھوڑوں کا رقص‘پیرا گلائیڈنگ اور آتش بازی کے شاندار مظاہرے دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس سال ہم بھی اس کا حصہ بنے۔

اسلام آباد سے شمال مشرق کی جانب مینگورہ(سوات)تک فاصلہ تقریباً 247 کلومیٹر ہے جسے طے کرنے میں تقریباًپانچ گھنٹے لگتے ہیں۔اگرچہ موٹروے سے سوات کا روٹ سارا سال ہی کھلا رہتا ہے تاہم سیاحوں کی سب سے زیادہ تعداد اپریل سے اکتوبر تک کے دوران ہی سوات کا رخ کرتی ہے۔پشاور سے یہ سفر 171کلومیٹر ہے جسے طے کرنے میںچار گھنٹے لگتے ہیں ۔ سوات پہنچانے کے لیے بہت سی بس سروسز موجود ہیں جو آپ کو آسانی سے مینگورہ تک پہنچا سکتی ہیں۔
وادی سوات اپنے قدرتی حسن ‘پانی کے ان گنت جھرنوں‘برف پوش چوٹیوں‘ گلیشیئرز‘چراگاہوں‘گھنے جنگلات اور نہروں کی وجہ سے مشہور ہے ۔اگرچہ اس وادی کی خوبصورتی کا بہت چرچا سنا تھا لیکن وہاں جا کر احساس ہواکہ جتنا سنا تھا‘ یہ جگہ اس سے کہیں زیادہ خوبصورت ہے ۔اس کا پرانا نام ’’سوات سُو‘‘ تھا جس کا اردو ترجمہ ’’چمکتا ہوا پانی‘‘ ہے۔ اسے پرانے وقتوں میں اُڈیانہ (Uddiyana)یعنی باغ بھی کہا جاتاتھا۔ اب لازوال حسن کے باعث اسے ’ـ’پاکستان کا سوئٹرزرلینڈ‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔

مینگورہ اور سیدو شریف
مینگورہ اور سیدو شریف سوات کے جڑواں شہرہیں جو ایک دوسرے میں تقریباً ضم ہیں۔ مینگورہ‘سوات کا تجارتی مرکزہے جہاں بازار‘ہوٹل‘سرائے ‘بسیںاورگاڑیاں باآسانی دستیاب ہیں۔سیاح یہاں سے ہی دیگر علاقوں اور وادیوں کی جانب سفر کرتے ہیں۔اگر آپ کو سوات کی سوغاتوں مثلاًاونی شالوں‘ جیکٹوں‘ ٹوپیوں‘لکڑی سے بنی خوبصورت اشیاء ‘ سلور کی پرانی جیولری اور شہدوغیرہ کی تلاش ہو تو وہ مینگورہ کے مین بازار میں باآسانی مل جائیں گی۔ سیدو شریف میں سیدو بابا کا مزار‘سوات سرینا ہوٹل‘والی سوات کی پرانی رہائش گاہ‘ سوات میوزیم اور آثارِ قدیمہ سے متعلق دیگر عمارات موجود ہیں۔
سوات کی خاص سوغاتیں
یہاں کی آبادی کا زیادہ تر دارومدار گھریلو صنعتوں پر ہے۔گرم شالیں (جو اٹلی اور فرانس تک میں فروخت ہوتی ہیں)‘نوادرات ‘قیمتی پتھر(زمرد )اور پھل یہاں کی خاص چیزیں ہیں۔ یہاں کے سیب‘ انار ‘ آلوبخارے اور آڑو وغیرہ پاکستان کی60فی صد ضروریات پوری کرنے کے علاوہ دنیا بھر میں برآمد بھی کئے جاتے ہیں ۔ ڈرائی فروٹ اور تازہ اخروٹ بھی سوات کی سوغاتوں میں شامل ہیں۔اگر کھانوں کی بات کی جائے تو سوات کے بیگمی چاول (سواتی چاولوں کا نام) وہاں کی مشہور ڈشوں میں سے ایک ہے ۔وہاں آپ کو گھونگری (Ghoungri) کے سٹالز بھی جا بجا ملیں گے۔یہ ایک خاص ڈِش ہے جو بیگمی چاول‘لوبیے‘اناج اور چنوں سے تیار کی جاتی ہے۔اگر آپ سوات جائیں تو بیگمی چاول اور گھونگری ضرور کھائیے گا۔

سفید محل اور رام تخت
یہ محل سوات کے والی نے 1941ء میں گرمیوں کی چھٹیاں گزارنے کے لیے تعمیر کروایا تھا۔ اس کے اس نام کا سبب محل میں آگرہ سے منگوائے گئے اعلیٰ سفید ماربل کا استعمال ہے۔ محل میں دیواروں کے علاوہ کرسیاں‘میز اور بینچ بھی سفید ماربل سے تیار کیے گئے ہیں۔
محل کے ساتھ موجود پھلوں کے باغات‘دوسری منزل پر رانیوں اورشہزادیوں کے کمرے اور جابجا لگے فوارے دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔سفید محل کی دوسری منزل کے باہر ٹیرس پر کھڑے ہو کر آپ پوری وادی کا نظارہ کر سکتے ہیں۔سردیوں میں سفید محل جب برف کی چادر اوڑھتا ہے تو اس کی خوبصورتی کو چار چاند لگ جاتے ہیں۔سفید محل لیاقت علی خان اور ملکہ وکٹوریہ کی میزبانی کا شرف بھی حاصل کر چکا ہے۔ اسے اب ہوٹل میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ہلکی ہلکی بارش میں سفید محل گھومنے کا اپنا ہی مزہ ہے۔ آپ جب کبھی سوات آئیں تو سفید محل ضرور جائیں ۔
سیدو شریف سے 13کلومیٹر کے فاصلے پر’’مرغزار‘‘ کے نام سے ایک چھوٹا سا گائوں آباد ہے۔سفید محل بھی اسی گائوں میں واقع ہے۔اس محل کے ساتھ سیدو ندی کا جھرنا پہاڑی کی چوٹی سے نیچے کی جانب بہتاہے۔جھرنے کے ساتھ ہندوئوں کی قدیم عبادت گاہ ’’رام تخت‘‘ واقع ہے۔پہاڑی کی چوٹی پر واقع رام تخت تک پہنچنے کے لیے پورے دن کی ہائیک درکار ہے۔

دریائوں کی سرزمین
سوات کو دریائوں کی سرزمین کہا جائے تو غلط نہ ہو گا‘اس لئے کہ اس میںصرف دریائے سوات ہی نہیں‘ کئی دریا اورخوبصورت ندیاں بہتی ہیں۔زیادہ تر دریا سوات کے دور دراز گائوں میں ہیں جن تک پہنچنے میں عموماًتین سے سات گھنٹے کی ٹریکنگ درکار ہوتی ہے۔باشی گرام (Bashigram)‘ درال(Daral)‘ماہودند(Mahodand)‘ سدگائی (Sadgai) ‘ پری اور اِزمس (Izmis))سوات کے چندمشہور دریا ہیں۔درائے درال (مقامی زبان میں درال ڈندا)سطح سمندر سے11,500 فٹ کی بلندی پر واقع ایک خوبصورت دریاہے جو سوات کی وادی بحرین میں قراقرم اور کوہ ہندوکش کے سنگم پر واقع ہے۔ بحرین سے تقریباًچارگھنٹے کی ٹریکنگ آپ کو درال ڈنڈا تک پہنچاتی ہے۔یہ ٹریک قدرتی نظاروں‘رنگ برنگے خوشبودار پھولوں ‘گھنے جنگلات اور گنگناتے جھرنوں سے بھرا ہوا ہے۔ اگرچہ اس پر مسلسل چلنا انسان کو تھکا دیتا ہے تاہم دریائے درال تک پہنچنے کی چاہت اور قدرتی نظارے سیاحوں کو آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتے رہتے ہیں ۔

سنہری پروں والی مخلوق
درال دریا کے متعلق کچھ دلچسپ کہانیاں بھی سننے کو ملیں۔ ہمارے گائیڈ نے دریا کے نیلگوں پانی کے قریب بیٹھتے ہوئے ہمیں بتایا کہ مقامی لوگوں کے خیال کے مطابق درال پر فرشتوں رہتے ہیں۔ان کے مطابق اس کی تہہ میں سونے کا خزانہ دفن ہے جس کی حفاظت سونے کے پروں والی مخلوق کرتی ہے۔مزیدبرآںدرال دریا سے روز انہ رات کے وقت سونے کے گھوڑے پر سوار ایک شخص نکلتا ہے جسے صرف مخصوص علوم کے ماہرافراد ہی دیکھ سکتے ہیں۔

سلطان محمود غزنوی مسجد
مینگورہ سے چھ کلومیٹر مغرب کی جانب دریائے سوات کے دائیں کنارے پر سلطان محمود غزنوی سے منسوب ایک قدیم مسجد موجود ہے جس کے بارے میں گمان کیا جاتا ہے کہ اسے تقریباًہزار سال پہلے تعمیر کیا گیا تھا۔1985ء میں اٹلی کے آثارِقدیمہ کے ماہرین نے اس مسجد کو دریافت کیا۔ہزاروں سال پرانی اس مسجد کامحر اب دیکھنے والوں کو حیران کردیتے ہیں۔اس کی تعمیر میں زیادہ تر لکڑی کا استعمال کیا گیا ہے۔ مسجد اپنے منفرد طرزِ تعمیر اورغیر معمولی قدامت کی وجہ سے سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے۔
مہاتما بدھ کے قدم
سوات قدیم تہذیب و تمدن‘ثقافت اور آثارِ قدیمہ سے دلچسپی رکھنے والے افراد کے لیے بھی توجہ کاخاص مرکز ہے۔یہاں مولا مولئی (Mola Molai)کے مقام پر ایک چٹان پر انسانی پائوں کے نشانات ہیں جن کے متعلق خیال کیا جاتا ہے کہ وہ مہاتما بدھ کے ہیں۔اس کے قریب ہی ایک اور چٹان کے متعلق مشہور ہے کہ اس پر گوتم بدھ نے اپنے گیلے کپڑے خشک کئے تھے۔یہاں اگر ایک جانب سوات کے قدیم قبائل کی گمشدہ کڑیاں ملتی ہیں تودوسری جانب ایسے آثار بھی موجود ہیں جن سے بدھ مت اور آریائی تہذیب کے متعلق معلومات میں اضافہ ہوتا ہے۔یہاں بہت سی چوٹیاں اورسیرگاہیں موجود ہیں۔ چوٹیوں کی بلندی1000فٹ سے لے کر15000فٹ تک ہے۔ہماری چھٹیاں ختم ہو چکی تھیں اور ہمیں واپس لوٹنا تھا لہٰذا ہم ان پر جانے سے محروم رہے۔
مالم جبہ
ہمارا اگلا پڑائو مالم جبہ ہل سٹیشن تھاجو ہندوکش پہاڑی سلسلے میں ہے۔یہ سیدوشریف سے تقریباً40کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔سوات میں ہمیں سب سے زیادہ خوشی مالم جبہ جاتے ہوئے ہوئی ‘ اس لیے کہ یہ جگہ باقی سیرگاہوں کی نسبت الگ اور منفرد تھی۔چہار سو برف سے ڈھکی اس وادی میں ہمیںبہت سے لوگ برف پر اسکیٹنگ (skating) کرتے نظر آئے۔ ہمیں بھی یہاں زندگی میں پہلی مرتبہ اس کا عملی تجربہ ہوا۔اس کے لیے ڈھلوان کی لمبائی800میٹر تھی جسے پاکستان ٹورازم کارپوریشن اور آسٹریلین ٹورازم کی جانب سے تیار کیا گیا تھا۔یہاں اسکیٹنگ کے لئے درکار تمام سامان‘چئیرلفٹ اور برف ہٹانے کے جدید آلات موجود تھے ۔ امن و امان کی صورت حال خراب ہونے سے یہاں کی سیاحت بھی متاثر ہوئی تاہم حالات بہتر ہونے کے بعد دیگر سیاحتی مقامات کی طرح مالم جبہ کا یہ ریزورٹ (resort)بھی سیاحوں کے لیے کھول دیا گیا ہے اور اس میں پہلے کی طرح ان کی آمدورفت کا سلسلہ چل نکلا ہے۔
سوات کا سفر ‘چند اہم امور
٭سوات پاکستان میں سیاحت کا خاص مرکز ہے جس میں گھومنے پھرنے کے قابل بہت سے مقامات ہیں۔اس لیے جب بھی سوات آنے کا پروگرام بنے تو کوشش کریں کہ زیادہ وقت نکال کر اور اچھی طرح منصوبہ بندی کرکے گھر سے نکلیں ورنہ آپ بہت سی جگہوں پر جانے سے محروم رہ جائیں گے۔ یہاں زیادہ تر جگہوں تک پہنچنے کے لیے پیدل چلنا پڑتا ہے جس کے لیے زیادہ وقت اور جسمانی صحت کااچھا ہونا بہت ضروری ہے۔
٭سفر کے دوران ضرورت سے زیادہ کھانے سے طبیعت خراب ہو سکتی ہے۔اس لیے صرف مناسب مقدار میںاور معیاری خوراک ہی کھائیں۔
٭اپنے ساتھ فرسٹ ایڈ کا سامان ضرور رکھیں‘ اس لئے کہ اس کی کسی بھی وقت ضرورت پڑ سکتی ہے ۔
٭کسی بھی جگہ پر ٹریکنگ کرنے سے پہلے تازہ دم ہو کر نکلیں۔بہتر یہ ہے کہ اس کے لئے صبح سویرے نکلیں ‘اس لیے کہ زیادہ تر ٹریک دو گھنٹے سے زیادہ وقت لیتے ہیں۔
٭ٹریکنگ کے دوران اپنے ساتھ پانی کی بوتل ضرور رکھیں۔
٭سوات کا موسم پل میں تولا پل میں ماشہ کے مصداق ہے جہاں دھوپ اور بارش ساتھ ساتھ چلتی ہیں ۔اس لیے اندرون شہر سفر کے لیے بھی اپنے ساتھ چھتری اور چادر وغیرہ ضرور رکھیں۔
٭گرمیوں میں بھی سوات میں سوئیٹر یاچادر کی ضرورت پڑ سکتی ہے لیکن اگر آپ مالم جبہ جانا چاہیں تو پھر آپ کووہاں گرم کپڑوں اور برف سے بچنے کے لیے دیگر انتظامات کر کے جانا ہو گا۔
٭پہلی مرتبہ اسکیٹنگ سے پہلے کسی کی نگرانی میں پریکٹس کریں‘ وارم اَپ کے بغیریہ نہ کریں اور شروع میں اس کی رفتار آہستہ رکھیں۔ اسکیٹنگ ہیلمٹ اور چشموں کا استعمال مت بھولیں۔
٭برف پر چلنے کے لیے ایسے جوتوں کا استعمال کریں جومضبوط ہوں اور آپ کو پھسلنے نہ دیں۔

Leave a Reply

Leave a Reply

  Subscribe  
Notify of