یورک ایسڈ، جوڑ جوڑ میں درد

1

یورک ایسڈ، جوڑ جوڑ میں درد

ٹانگوں‘ خصوصاً گھٹنوں‘ ٹخنوں اورکولہے کے جوڑوں میں درد کی ٹیسیں وہ شکایت ہے جوآج کل لوگوں میں بڑی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔اس کی ایک وجہ جسم میں یورک ایسڈ کی زیادتی بھی ہے۔

یورک ایسڈ خون کی نالیوں کی صحت کے لیے ضروری عامل ہے۔ یہ ہماری غذا میں شامل پیورین نامی مادے کے جسم میں جذب ہونے کے نتیجے میں بنتا ہے۔  یہ بنیادی طورپرایک اینٹی آکسیڈنٹ ہے جومفید شے ہے ‘ تاہم اس کی زیادتی مختلف امراض کا سبب بن سکتی ہے جن میں جوڑوں کا درد نمایاں ہے۔ اس کاسبب یہ ہے کہ جسم کی ضرورت سے زائد یورک ایسڈ ہڈیوں کے جوڑوں میں چھوٹے چھوٹے ذروں کی شکل میں جمع ہونے لگتا ہے۔ اس کے نتیجے میں جوڑ سوج جاتے ہیں،چھونے پر گرم محسوس ہوتے ہیں اوران میں شدید درد ہوتا ہے۔ یہ درد عموماً چبھتاہوا اورتیز جلن کی طرح محسوس ہوتا ہے۔ یہ کسی ایک جوڑ یا جسم کے سارے جوڑوں کو متاثر کرسکتا ہے۔عموماً پاؤں کے انگوٹھے کے جوڑ سب سے پہلے متاثر ہوتے ہیں۔

یورک ایسڈ کی زیادتی کیوں

٭گوشت کا زیادہ استعمال‘وزن کی زیادتی‘قبض‘ذیابیطس‘ پانی کی کمی اورہائی بلڈ پریشر وغیرہ اس کی زیادتی کا سبب بن سکتے ہیں۔

٭بعض لوگوں میں جینیاتی طورپربھی یورک ایسڈ زیادہ ہوتا ہے یا جسم سے اس کا اخراج بہت ہوتا ہے۔

٭سافٹ ڈرنکس کا زیادہ استعمال بھی اس کی سطح معمول سے زیادہ بڑھا دیتا ہے۔اس لئے کہ ان میں ہائی فرکٹوز کارن سیرپ پایاجاتا ہے۔

٭ہائپوتھائیرائیڈ میں جسم کا میٹابولزم سست ہوجاتا ہے اوریورک ایسڈ جسم سے صحیح طور پر خارج نہیں ہوپاتا۔

٭گردوں کے امراض اورپیشاب آورادویات کا استعمال بھی اس کی زیادتی کا باعث بن سکتا ہے۔

٭عورتوں میں ماہانہ ایام بند ہونے کے بعد ہارمونل سسٹم بگڑ جاتے ہیں اوریورک ایسڈ جسم سے ٹھیک طرح خارج نہیں ہو پاتا۔

علاج اور پیچیدگیاں

یورک ایسڈ کی زیادتی کی صورت میں علاج پر جلد از جلد توجہ دینی چاہیے تاکہ اس کی پیچیدگیوں سے بچاجاسکے۔ جوڑوں کے درد کو اگرنظر اندازکر دیا جائے تواس میں اضا فہ ہوتا جاتا ہے۔ بعض اوقات یہ اس حد تک بڑھ جاتا ہے کہ مریض کا اٹھنا بیٹھنا بھی مشکل ہوجاتاہے۔اس کی وجہ سے انسان چلنے پھرنے سے بھی معذور ہوسکتاہے۔ سردیوں میں خاص طور پرانسان کا جسم اس حد تک اکڑ جاتا ہے کہ اُسے لگتا ہے جیسے وہ مفلوج ہوگیا ہو۔ مزید برآں یہ گردوں کی خرابی اوران میں پتھری کے علاوہ دماغ اورجگر کو بھی نقصان پہنچاسکتا ہے۔

بچاؤ کی تدابیر

کوشش کریں کہ دن میں تین لیٹر تک پانی ضرور پئیں اوراپنی غذا میں زیتون کا تیل شامل رکھیں۔اس لئے کہ دوسرے تیلوں میں موجود تیزابی چکنائیاں وٹامن ای کو ختم کرتی ہیں جو یورک ایسڈ کی زیادتی کو کنٹرول کرتا ہے۔ اپنی غذا میں ہائی فائبروالی اشیاء جیسے جئی‘ پالک‘ اسپغول‘ گندم وغیرہ شامل کریں۔ فائبر ایسا غذائی جزو ہے جو خون سے یورک ایسڈ جذب کرکے گردوں کے ذریعے خارج کرتا ہے۔ اس کے علاوہ وٹامن سی بھی اس کی سطح کو معمول پرلانے میں نہایت اہم کردارادا کرتا ہے۔ روزانہ وٹامن سی کی مقدار 500ملی گرام تک ہونی چاہیے۔ اس کے لیے ترش پھل اپنی غذا میں شامل کریں۔

purines, high fructose corn syrup, Estrogen, uric acid, complications, prevention 

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x