یورک ایسڈ، علاج بالغذا ء

1

 یورک ایسڈ، علاج بالغذاء

یورک ایسڈ کے علاج میں غذائی پرہیزکا کردار بہت زیادہ ہے۔ گوشت‘ٹماٹر‘ تیز مصالحہ جات‘ اچار‘ ماش کی دال‘ مسور کی دال‘ ڈبل روٹی ‘پھلیاں‘چائے‘ چاول‘ انڈہ بھنڈی‘ مچھلی اورگوبھی وغیرہ سے ایک ماہ تک مکمل پرہیز کریں ۔اس کے بعد بھی اپنی غذا میں ان کا استعمال کم ہی رکھیں ۔یونانی طب کے ماہرین درج ذیل اشیاء کو بھی اس کے علاج میں مفید بتاتے ہیں

٭ لیموں یورک ایسڈ کے جمع ہونے والے ذروں کو تحلیل کرتا ہے۔ اس لیے ایک گلاس پانی میں ایک عددلیموں نچوڑ کر روزانہ استعمال کریں۔

٭تربوزجسم سے زہر یلے مادوں کے اخراج میں اپنا ثانی نہیں رکھتا۔ یورک ایسڈ کے مریض صبح ناشتے میں پلیٹ بھر کر تربوزکھائیں تو 15 دن کے اندرہی اُن کے یورک ایسڈ کی سطح معمول پر آجاتی ہے۔

٭چیری اور اسٹابری بھی اس کے لیے مفید ہیں اور یورک ایسڈ کی سطح کو تیزی سے معول پر لانے میں نہایت معاون ہیں۔

٭ایک مولی باریک کاٹ کر اس پر لیموں کا رس ڈالیں اور سات دن نہارمنہ کھائیں ۔ اسے کھانے کے ایک گھنٹہ بعد ناشتہ کریں۔ اس کے علاوہ اپنی غذا میں پھل اور ہرے پتوں والی سبزیاں بھی شامل کریں۔

یورک ایسڈ کی زیادتی

اس صورت میں درج ذیل نسخے مفید ثابت ہوتے ہیں

٭اجوائن اور سونٹھ ہم وزن لے کر پیس لیں اور آدھاچمچ تین بار دن میں پانی کے ساتھ کھائیں۔

٭سیب کا سرکہ بھی اس کے لیے نہایت مفیدہے۔ایک گلاس پانی میں ایک چمچ سیب کا سرکہ اور شہد ملا کر پندرہ دن تک پینے سے یورک ایسڈ کی سطح جلد معمول پر آجاتی ہے۔

uric acid, treatment, dietary changes, excessive uric acid

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x