بچے کی تربیت

1

بچے کی تربیت

بچوں کو کامیاب اورمہذب بنانے کے شوق میں اکثروالدین حد سے گزرجاتے ہیں۔ان کی تربیت کا عام انداز یہی ہوتا ہے کہ ایسے کرو،ویسے نہ کرویعنی وہ اپنی نفی اورتحکم سے بچوں کی تربیت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اعظم مجید میڈیکل سنٹر‘ فیصل آباد کی ماہرنفسیات ڈاکٹرحفصہ اخترکہتی ہیں

نفی اورتحکم دونوں اجزاء تعمیرنہیں، تخریب سے تعلق رکھتے ہیں اور تربیت کے لئے سخت مضر ہیں۔ یہ انسانی جبلت میں ہے کہ وہ اپنی کامیابیوں کو تواکثر بھول جاتا ہے لیکن ناکامیاں اس کے اعصاب پرسواررہتی ہیں۔ خاص طور پربچے چونکہ ناپختہ ذہن کے مالک اورزندگی کی تلخ حقیقتوں سے نا آشنا ہوتے ہیں ‘ اس لئے اُن کے لئے شکست کو قبول کرنا انتہائی دشوارہوتا ہے۔ رہی سہی کسر ہمارے رویے پوری کر دیتے ہیں۔ انہیں کامیابی کی راہ پرگامزن رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ شکست سے لڑنا سکھایا جائے۔انہیں بتایا جائے کہ ناکامی کومثبت رخ کیسے دیا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر حفصہ کے بقول اس مقصد کے لئے درج ذیل تجاویز پرغورکرنا ضروری ہے۔

بچے کووقت دیں

یہ بات ذہن میں رکھیں کہ بچے کی تعلیم وتربیت اوراس کی شخصیت کی تعمیر سے زیادہ کوئی چیزاہم نہیں۔آپ دفترجائیں‘دوستوں کو وقت دیں‘ ٹی وی دیکھیں‘ موبائل پریا گھر کے کاموں میں مصروف رہیں مگربچے کے لئے آپ کے پاس وقت نہ ہو تو آپ اپنے فرائض میں کوتاہی کررہے ہیں۔

بچوں کو بھی سنیں

 صبروتحمل کا مظاہرہ کریں، بچے کا مسئلہ توجہ سے سنیں اوراس کے ساتھ دوستی کریں تاکہ وہ بلا جھجک بات کرسکے۔ گفتگو میں بچے کی حوصلہ افزائی کرنے سے اس میں اعتماد اورجرأت پیدا ہوتی ہے۔ اگر بچہ شورمچاتا ہے تو اُسے بولنے دیں۔ اس سے اس کی بولنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔ اس طرح وہ اپنے خوف‘ اپنی ناکامیاں اوراپنی کامیابیاں بلا جھجھک آپ سے بیان کرسکے گا۔ اسی طرح آپ کو نہایت سمجھداری سے کام لے کراس کی اظہاررائے کی صلاحیت بڑھانی ہوگی۔

ہربارنہ مت بولیں

حد سے زیادہ روک ٹوک بچے کے لئے نقصان دہ ہوتی ہے۔ اس سے بچے ذہنی طورپرہراساں ہوجاتے ہیں۔ ہربات پرنہ سن کران کی شخصیت متاثر ہوتی ہے، فکرمفلوج اورقوتِ فیصلہ مفقود ہوجاتی ہے۔ منفی رویے سے بچے میں منفی خیالات جنم لیتے ہیں۔ وہ سوچتا ہے کہ وہ کچھ بھی کہے‘ والدین نے نہیں ماننااوراسے ڈانٹ ہی پڑنا ہے۔

بچوں کی حوصلہ افزائی کریں

ناکامی کی صورت میں بچے کو پیارسے سمجھائیں۔ اسے بتائیں کہ اگرآج کم نمبرحاصل کئے ہیں تواگلی باروہ بہت اچھے نمبر بھی لے سکتا ہے۔ والدین بچوں کو اُمید دلائیں‘ ان میں حوصلہ پیدا کریں اورانہیں بہتری کی یقین دہانی کرائیں۔ انہیں بتائیں کہ حالات ہمیشہ ایک سے نہیں رہتے اوروقت بدلتا رہتا ہے۔

اس کی تعریف کریں

تعریف سن کر بچے خوش ہوتے ہیں اوران کا حوصلہ بڑھتا ہے۔ ہر بچہ اپنی خوبیوں کو کامیابی کے لئے استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اگراس کی چھوٹی چھوٹی کامیابیوں پردل کھول کرداد دیں گے تو وہ لگن اور شوق سے پڑھے گا اورتعریف کی خواہش میں مزید محنت کرے گا۔

اپنا اندازبدلیں

بچوں کی اچھی تربیت کے لئے اُن پر کچھ پابندیاں لگانا پڑتی ہیں‘ لیکن یہ سب کچھ اچھے اندازمیں کرنا زیادہ بہتر نتائج لاسکتا ہے۔ مثلاًغلط کام سے روکنا ہو تو بجائے یہ کہنے کہ ’’یہ کیا کردیا؟ تمہیں عقل نہیں‘‘ یوں کہیں کہ’’ بیٹے! اگر آپ ایسے نہیں بلکہ ایسے کرلیں توزیادہ بہتر رہے گا۔‘‘ کوشش کریں کہ گفتگو میں تحکم کی بجائے مشورے کا انداز اپنائیں۔ نرم اورمحبت بھرے الفاظ ذہن میں نقش ہوجاتے ہیں۔

بچے کی شخصیت کو اُبھرنے کا موقع دیں

بچے کو اپنی ذات اورپسند سے متعلق پوری آزادی دیں۔ اُس کی صلاحیتوں اوررجحانات کا مکمل تحفظ کریں۔ اسے جائز بات سے صرف اس لئے نہ روکیں کہ وہ آپ کے مزاج کے خلاف ہے۔ اگراس چیز یا کام میں اس کی بہتری ہے اوروہ اپنی صلاحیتوں کو بہترطریقے سے بروئے کارلاسکتا ہے تواس کی شخصیت کا گلا نہ گھونٹیں۔

upbringing of children, role of parents in children’s upbringing

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x