اُف! یہ تھکن

217

’امی! میں تھک گیا ہوں۔‘، ’بیگم ! آج تو کہیں جانے کی ہمت ہی نہیں ہے ۔‘،’ میں تو آج اتنی تھک گئی ہوں کہ لگتا ہے جیسے تھکاوٹ میرے پور پور میں رچ بس گئی ہو…“یہ اور اس طرح کے دیگر جملے آج کل بڑی عمر کے افراد ہی نہیں، نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں‘ حتیٰ کہ بچوں کی زبانی بھی صبح وشام سننے کو ملتے ہیں۔

تھکاوٹ کی اقسام
ہمارے ہاں ایسے لوگوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے جو مسلسل تھکن کی شکایت کرتے رہتے ہیں۔ ایسے افراد بھی ہیں جن کی تھکن پوری نیند لینے اور مناسب آرام کرنے کے باوجود نہیں جاتی۔ بہت سے لوگ تو فارغ رہنے کے باوجود تھکے رہنے کی شکایت کرتے ہیں۔اعوان کلینک فیصل آباد کے میڈیکل سپیشلسٹ ڈاکٹر قمراعوان سے جب اس کا سبب پوچھا گیا تو انہوں نے کہاکہ اس کا تعلق تھکن کی دو بڑی اقسام یعنی جسمانی اور مرضیاتی تھکن سے ہے:
عام جسمانی تھکن: یہ تھکن شدید محنت کے بعد پیدا ہوتی ہے۔ ڈاکٹر قمر اعوان کے مطابق ایسی صورت میں خون میں کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دودھ کا تیزاب (lactic acid) جمع ہوکر توانائی کو چوس لیتے ہیں۔ اس سے تھکاوٹ کا احساس ہوتا ہے۔ مناسب آرام کے بعد صورت حال ٹھیک ہوجاتی ہے‘ اس لئے کہ اعصاب کو سستانے اور مناسب آرام کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔
مرضیاتی تھکاوٹ: اس قسم کی تھکاوٹ جسمانی نظام میں کسی خلل کی نشاندہی کرتی ہے۔ ذیابیطس‘سرطان‘امراض قلب اور سانس کی بیماریاں مریض کی توانائیاں مسلسل ضائع کرتی رہتی ہیں جن سے اس میں تھکاوٹ اور کمزوری کے آثار نمایاں ہونے لگتے ہیں۔اس کی کچھ مثالیں درج ذیل ہیں:
٭خون کی کمی کے باعث انیمیا (anemia)کے مریضوں کے اعصاب کو آکسیجن بہت کم پہنچتی ہے لہٰذا وہ اکثر تھکے تھکے سے رہتے ہیں۔
٭پیٹ کے کیڑے بھی جسمانی تھکاوٹ کی وجہ بن جاتے ہیں‘ اس لئے کہ وہ خون کے سرخ ذرات پر پلتے ہیںاور انسانی جسم کو بہتر نشوونمااور توانائی کے اہم ذخیرے سے محروم کردیتے ہیں۔
٭ ہمارے گلے میں ایک چھوٹا سا غدہ ہے جسے ”تھائی رائیڈ گلینڈ“ کا نام دیا جاتا ہے۔ یہ غذا کو جذب اور ہضم کرنے کے نظام کو بھی کنٹرول کرتا ہے۔ جب یہ گلینڈ پوری طرح سے متحرک نہیں ہو پاتا تواس نظام میں سُستی آ جاتی ہے۔ اس سے تھکن بھی ہوجاتی ہے۔
٭ گردوں پر ایک اور غدہ ”ایڈرینل گلینڈ“ پایا جاتا ہے جوبیماریوں اور بیرونی عناصرسے لڑنے میں معاون ہوتا ہے۔ غصہ، ذہنی دباﺅ ، پریشانیاں‘خوف‘زہریلے مادے اورانفیکشن اسے ہمہ وقت مصروف رکھتے ہیں جس کی وجہ سے وہ بہت زیادہ تھک جاتا ہے۔ اسے ایڈرینل تھکاوٹ(adrenal fatigue)کہا جاتا ہے۔
٭ شدید تھکاوٹ کی شکایت کرنے والے بعض افراد اصل میں ڈپریشن کے شکارہوتے ہیں، تاہم تھکاوٹ کی وجہ سے وہ اپنی اصل بیماری کو سمجھ نہیں پاتے۔
خواتین کی تھکن: بہت سی گھریلو خواتین کوبظاہر کوئی جسمانی تکلیف نہیں ہوتی لیکن پھر بھی وہ خود کو بہتر محسوس نہیں کرتیں۔ وہ اکثر سردرد‘ کمردرد‘ بیزاری‘ اعصابی تناﺅ اور تھکاوٹ کی شکایت کرتی ہیں۔ ڈی ایچ کیو ہسپتال فیصل آبادکی ماہر نفسیاتی علاج ڈاکٹر عاصمہ ارشد باوجوہ کہتی ہیں:
” جس تھکن سے انہیں زیادہ تکلیف پہنچتی ہے‘ وہ جسمانی نہیں بلکہ ذہنی ہے۔ انسان جب اپنی فکریں اور پریشانیاں کسی سے نہیں کہہ پاتا تو اس کے پیدا کردہ ذہنی دباﺅ کی وجہ سے اس کے اعصاب اندر ہی اندر تھکنے لگتے ہیں۔ تھکاوٹ کی شکایت کرنے والی اکثر گھریلو بیویوں کااصل مسئلہ یہی ہے۔ “
ڈاکٹر باجوہ کے بقول ماہانہ ایام کے دوران بعض خواتین کا خون زیادہ بہتا ہے جس سے ان میں خون کی کمی ہوجاتی ہے۔ یوں خلیوں اور بافتوں (ٹشوز) کو آکسیجن فراہم کرنے کی رفتار بھی سست ہو جاتی ہے جس سے وہ تھکی تھکی سی رہتی ہیں۔

غذا اور تھکاوٹ
ہمارا جسم غذاﺅں میں سے ایسے اجزاءحاصل کرتا ہے جن کی مدد سے ہم چاق چوبند رہتے ہیں۔ فیصل آباد یونیورسٹی کے شعبہ فوڈٹیکنالوجی کے سربراہ اور ماہر غذائیات ڈاکٹر عمیر ارشد باجوہ کہتے ہیں:
”تھکن دورکرنے کے لئے سکون آور گولیاں ‘ شراب‘ سگریٹ‘چائے کافی‘چاکلیٹ اورانرجی ڈرنکس جیسی بیساکھیاں استعمال نہ کریں‘ اس لئے کہ وہ عارضی طور پر چُستی پیدا کرنے کے بعد پہلے سے زیادہ شدید تھکاوٹ پیدا کرتی ہیں۔ سفید چینی‘چھلکا اترا اناج‘ سفید آٹے کی مصنوعات اور ڈبہ بند غذائیں ہمیں پائیدار بنیادوں پر توانائی فراہم نہیں کر سکتے۔ اس لئے ان کی بجائے ثابت اناج‘ پھل اور سبزیاں قدرتی حالت میں کھائیں۔“

ورزش‘ تھکن کا علاج
تھکاوٹ کی ایک وجہ دوران خون کی کمی بھی ہوتی ہے جس کا ازالہ جسمانی ورزش سے کیاجاسکتا ہے۔ اس سے تازگی ملتی ہے اور توانائی بحال ہوتی ہے۔ تاہم اگر تھکے ماندے شخص کومزید ورزش کا کہا جائے تو شاید وہ اس پر قائل نہ ہو۔ یوگاسینٹر جڑانوالہ روڈ‘فیصل آباد کے یوگی نعیم وجاہت انہیں عام ورزش کی بجائے تھکن سے نجات کی ورزشیں تجویز کرتے ہیں۔ان میں سے کچھ درج ذیل ہیں:
1۔کسی آرام دہ کرسی پر بیٹھ جائیں اور آنکھیں بند کرکے ذہنی طور پر پُرسکون ہونے کی کوشش کریں۔ اب دائیںہتھیلی کو دائیں آنکھ اور بائیں ہتھیلی کو بائیں آنکھ پر رکھیں اور دونوںبازوﺅں کی کہنیاں میز پر ٹکادیں۔ اپنی سہولت کے مطابق 10سے20منٹ تک اسی کیفیت میں رہیں۔ اس سے آنکھوں کا تناﺅ کم ہوگا۔
2۔کسی ہوادار جگہ پر سیدھے کھڑے ہوجائیں اورگہرے سانس لیں۔ سر کو جس قدر ہوسکے‘ پہلے بائیں جانب موڑیں اور پھر واپس سیدھی پوزیشن میں لے آئیں۔ اس کے بعد بائیں جانب یہی عمل دہرائیں۔ اس ورزش کو 5سے10منٹ تک کریں۔اس سے گردن اور پٹھوں کا کھچاﺅ کم ہوتاہے۔
3۔اپنے بازوﺅں کو کندھوں کے برابر اوپر اٹھاکر آگے کی طرف بڑھائیں اور آہستگی سے اپنی مٹھیاں بھینچ لیں۔ اس کے بعد گہرا سانس اندرکی جانب لیتے ہوئے دائیں بازو کواس طرح اکڑا کر آرام سے واپس کھینچ لیں کہ کہنی جسم کے ساتھ لگی ہوئی ہو۔ اس حالت میں رک کر تین تک گنیں۔اب سانس نکالتے وقت دائیں بازو کو دوبارہ اصلی حالت میں لے آئیں۔ اس کے بعد یہی عمل بائیں بازو کے ساتھ کریں۔ ایسا10 دفعہ کریں۔
4۔گہراسانس لیتے ہوئے ہتھیلیاں اُوپر کی جانب کر کے دونوں بازو ایسے کھولیں جیسے عقاب اُڑنے کے لئے پر پھیلاتا ہے۔ انہیں تھوڑا اُوپر اُٹھا کر نظریں چھت پر جمادیں۔ اب تین تک گنیں۔ اس کے بعد سانس آہستگی سے خارج کرتے ہوئے کمر کو آگے کی جانب جُھکالیں‘ بازوﺅں کو واپس سمیٹتے ہوئے ایک دائرے کی شکل دیں اور ٹھوڑی کو سینے کے ساتھ لگا لیں۔یہ عمل پانچ بار دہرائیں۔
5۔زمین پراپنے سامنے ٹانگیں سیدھی پھیلا کر بیٹھیں۔اب دائیں ٹانگ کو بائیں ٹانگ پر رکھ لیں۔اس کے بعد آگے کی جانب جھک کر دائیں ٹانگ کواس طرح پکڑیں کہ کمر سیدھی رہے۔ اُوپر کی طرف دیکھتے ہوئے گہراسانس اندرکی جانب کھینچیں۔ یہی عمل بائیں ٹانگ کے ساتھ دہرائیں۔یہ ورزش 5سے10منٹ تک کریں۔
6۔سیدھے کھڑے ہوجائیں۔ اب کمر کو پیچھے کی جانب خم دیں اور ٹھوڑی کو ذرا اُوپر اُٹھا کر چھت کی طرف دیکھتے ہوئے 10 تک گنیں۔ اس کے بعد سانس کو خارج کرتے ہوئے سر کو آگے کی جانب جھکائیں اورٹھوڑی سینے سے لگا کر نظریں فرش پر جمادیں۔ ہرورزش پانچ دفعہ کریں۔ یہ ورزش دوران خون کو بہتر بنانے کے علاوہ گردن اور کمر کی تھکاوٹ دورکرنے میں موثر ہے۔
آج سائنسی ایجادات کی بدولت جو سہولیات ہمیں حاصل ہیں، ماضی میں ان کا تصور بھی محال تھا۔ اس کے باوجود اگر ہم تھکے تھکے سے رہتے ہیں توہمیں اس کے اسباب پر غور کر کے انہیں دور کرنا چاہئے۔

مزید پڑھیں/ Read More

متعلقہ اشاعت/ Related Posts