• Home
  • فیچر
  • جسمانی یا ذہنی مشقت کے بغیر تھکاوٹ کیوں؟

جسمانی یا ذہنی مشقت کے بغیر تھکاوٹ کیوں؟

403

رات کو سونے سے پہلے اکثر لوگ گھڑی پر الارم لگاتے ہیں تاکہ صبح بروقت اٹھ کر اپنے معمولات ِزندگی شروع کر سکےں۔وقت مقررہ پر الارم انہیں خبردار کرتا ہے کہ انہیں اب اٹھ جانا چاہئے ۔ اگر وہ اس کی آواز پر کان نہ دھریں توانہیں وہ مقصد حاصل نہیں ہو پاتا جس کی خاطر الارم لگایا گیا تھا۔ اگر ہم تھوڑی دیر کے لئے جسم کو گھڑی تصور کریں تو تھکاوٹ اس کا ایک الارم ہے جو ہمیں متنبہ کرتا ہے کہ آپ کے جسم کو آرام کی ضرورت ہے۔ جب ہم مناسب حد تک آرام کر لیتے ہیں تو تازہ دم ہو جاتے ہیں ۔اگر بات یہیں تک رہے تو یہ معمول کی ہے لیکن بعض اوقات ہم جسمانی یا ذہنی مشقت کئے بغیر بھی خود کو تھکا تھکا سا محسوس کرتے ہیں۔اگر ایسا ہو تو پھر اسے سنجیدہ لینے کی ضرورت ہے‘ اس لئے کہ یہ اس بات کی علامت ہے کہ ہمارے جسم میں کوئی گڑبڑ ہے جس کی تشخیص لازماً ہونی چاہئے۔اس کے مندرجہ ذیل اسباب ہو سکتے ہیں:

کسی بیماری کی علامت
شفا انٹر نیشنل ہسپتال فیصل آباد کے میڈیکل سپیشلسٹ ڈاکٹر محمد رضوان کا کہنا ہے کہ تھکاوٹ متعدد امراض اور کیفیات کی ایک علامت کے طور پر بھی ظاہر ہوتی ہے۔ ڈاکٹر حضرات اسے کچھ اور عوامل کے ساتھ ملا کر دیکھتے ہیں اور پھر لیبارٹری ٹیسٹوں کی مدد سے اصل مرض کی تشخیص کرتے ہیں۔اس لئے اگر آپ لمبے عرصے تک خودکو تھکا تھکا محسوس کرتے ہوں تو کسی معالج سے ضرور رابطہ کریں تاکہ اس کی اصل وجہ کو تلاش کیا جا سکے ۔ اس کی عمومی وجوہات میں ذیابیطس، امراض قلب‘ خون کی کمی (اینیمیا)،موٹاپا،تھائی رائیڈ غدود کا ضرورت سے کم یا زیادہ متحرک ہونا‘ پیشاب کے مسائل‘جسم میں پانی کی کمی اور ٹائیفائیڈ شامل ہیں۔

اہم غذا ئی اجزاءکی قلت
نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ سروسز(امریکہ) کے مطابق تھکاوٹ یاجسمانی کمزوری اصل میںتوانائی کی کمی کے احساس کا نام ہے۔ توانائی ہمیں غذا سے حاصل ہوتی ہے اوراگر وہ میسر نہ ہو‘ ضرورت سے کم ہو یا وہ مناسب اور متوازن نہ ہو تو ہم دیگر مسائل کے ساتھ ساتھ تھکاوٹ کا بھی شکار ہو سکتے ہیں۔شفا انٹرنیشنل ہسپتال اسلام آباد کی میڈیکل سپیشلسٹ ڈاکٹرارم شاکرکا کہنا ہے کہ نوجوان لڑکیوں میں بھی تھکاوٹ کی شکایت بکثرت ملتی ہے ۔ اس کے اسباب میں ان کی غذا کا متوازن نہ ہونا ، ناشتے اور رات کے کھانے کے اوقات میں بے قاعدگی اور خون کی کمی نمایاں ہیں۔

یونیورسٹی آف لاہور کے اسلام آباد کیمپس میں شعبہ غذائیات کے اسسٹنٹ پروفیسرعبدالمومن کا کہنا ہے کہ نوجوان بچے اور بچیاں جنک فوڈ(کیلوریز میں زیادہ لیکن غذائیت میں کم) زیادہ کھاتے ہیں لہٰذا اہم غذائی اجزاءسے محرومی کی وجہ سے وہ جلدی تھکاوٹ کاشکار ہوجاتے ہیں۔ اس کی وضاحت کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ تھکاوٹ سے بچاو¿ کے لئے جسم میں ضروری وٹامنز، معدنیات اور کاربوہائیڈریٹس کی سطحوں کا متوازن ہونا ضروری ہے:

”جسم کو توانائی فراہم کرنے کا بنیادی ذریعہ کاربوہائیڈریٹس ہیںجو پاستا،روٹی،اناج،چاول اور ڈبل روٹی سے حاصل ہوتے ہیں ۔دیکھا گیا ہے کہ بچیاں کاربوہائیڈریٹس کی حامل غذائی اشیاءسے خاص طور پر پرہیز کرتی ہیں جس کی ان کے نزدیک وجہ یہ ہے کہ ان کے استعمال سے جسم پھیل جاتا ہے اوروہ سڈول نہیںرہتا۔“

ان کے بقول ہمیں روزانہ کی سرگرمیاں سرانجام دینے کے لئے جو توانائی درکار ہوتی ہے‘ اس کا55فی صدحصہ کاربوہائیڈریٹس، 30فی صد چکنائیوں اور 15فی صد پروٹینز سے ملنا چاہئے۔ اگرہماری توانائی کا تناسب یہ نہیں تو پھرہماری غذاکو متوازن نہیں کہا جا سکتا۔آئرن کی کمی بھی تھکاوٹ کاسبب بنتی ہے اور قومی اقتصادی سروے برائے 2017ءکے مطابق ہمارے ملک کی 51فی صد خواتین آئرن کی کمی کا شکار ہیں۔ان میں اس کمی کا بڑا سبب ان کی خوراک میں گوشت،مرغی ، انڈے اور مچھلی کا کم ہونا ہے۔مچھلی پکانے کا طریقہ بھی غذائی کمی کا ایک سبب ہے۔ ڈبہ بند یا منجمد مچھلی کو تلنے کی بجائے کوئلے کی ہلکی آنچ پر سینک کر سلاد،کچی سبزیوں یا بیکڈ آلوو¿ں کے ساتھ کھائیں ۔مزیدبرآںجب بھی آئرن سے بھرپور غذا کھائیں ‘ اس پر لیموں ضرور نچوڑیں‘ اس لئے کہ اس میں وٹامن سی کی وافر مقدار جسم میں آئرن کو جذب ہونے میں مدد دیتی ہے ۔وٹامن سی کی کمی جسمانی تھکاوٹ کا باعث بنتی ہے لہٰذا جسم میں اس کی کمی سے بچاو¿ کے لئے ترش پھل اور سٹرابیریز کوبھی اپنی خوراک کا حصہ بنائیں۔

فولیٹ ‘پوٹاشیم اور مگنیشیم کی کمی بھی اس کا سبب بنتی ہے ۔ فولیٹ کی کمی پوری کرنے کے لئے کلیجی اور ہری سبزیاں‘پوٹاشیم کی کمی کے لئے کیلے اور آلو جبکہ مگنیشیم کی کمی ہو تو مٹر اور لوبیا کا استعمال زیادہ کر دیں ۔ تھکاوٹ محسوس ہو تودوکیلے کھانے سے آپ کو واضح فرق محسوس ہو گااوردو سے تین گھنٹے تک آپ کو توانائی ملتی رہے گی۔ ہماری زیادہ تر سرگرمیاں ناشتے اور دوپہر کے کھانے کے درمیانی وقفے میں ہوتی ہیں لہٰذا ہمیں ناشتے میں پھل شامل کرنے چاہئیں لیکن بدقسمتی سے ہم اس کے عادی نہیں ۔جب ہم متوازن غذا کھائیں گے تو جسم کی غذائی ضروریات پوری ہوتی رہیں گی اور ہم تھکاوٹ کے شکار نہیں ہوں گے۔

نیند کی کمی یا رت جگا
جو لوگ رات کو پرسکون نیند نہیں سو پاتے‘ انہیں دن بھر غنودگی کے ساتھ ساتھ اپنے جسم میں تھکاوٹ بھی محسوس ہوتی ہے۔ اس سے ان کی کارکردگی بری طرح متاثر ہوتی ہے جبکہ ان عوامل کو ٹریفک حادثات کا ایک بڑاسبب بھی قرار دیا جاتا ہے ۔

یونیورسٹی آف ساو¿تھ ایشیاءلاہورکے اسسٹنٹ پروفیسر فزیوتھیراپی ڈاکٹرو سیم جاوید کے مطابق روزانہ چھ سے سات گھنٹے کی بھرپور نیند تازہ دم ہونے کے لئے کافی ہے ۔اگر یہ اس سے زیادہ(8 سے10گھنٹے ) ہو جائے تو صبح کے وقت ہم تازہ دم نہیں بلکہ خود کو تھکا تھکا محسوس کریں گے ۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اس سے دماغ اور جسم کے پٹھے ڈھیلے ہو جاتے ہیں۔ اس لئے زیادہ سونے سے بچیں اور اگر کسی وجہ سے نیند پوری نہ ہو تو دن کی سرگرمیوں کے دوران” پاور نیپ “ یعنی قیلولہ کرلیں‘ خواہ اس کادورانیہ 10سے15منٹ ہی کیوں نہ ہو۔ اس کی افادیت پر گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا ہے:

”جب ہم زیادہ دیر تک کھڑے رہتے ہیں تو کشش ثقل کی وجہ سے ریڑھ کی ہڈی کے مہروں میں مائع جات کی سطح کم ہوجاتی ہے جس کے باعث کمر اور گردن میں درد محسوس ہوتا ہے۔ اس کے برعکس جب ہم لیٹتے ہیں تو جسم کے تمام پٹھے پرسکون ہوجاتے ہیں اور مہروں میںکم ہونے والے مائع جات دوبارہ بھر جاتے ہیں اور اعصابی نظام توانا ہوجاتا ہے۔“
شریف میڈیکل کالج لاہور کی نفسیاتی معالج (سائیکاٹرسٹ) ڈاکٹر ثمن چودھری کا کہنا ہے کہ نیند نہ آنے کے شکار افراد کو چاہئے کہ مندرجہ ذیل اصولوں پر عمل کریں:

٭ باقاعدہ ورزش کریں۔
٭ رات کے وقت چائے، کافی یانشہ آور چیزوں کے استعمال سے پرہیز کریں۔
٭ بستر کومطالعے‘ موبائل فون پرگیمز کھیلنے وغیرہ جیسی سرگرمیوں کی بجائے صرف سونے کے لئے استعمال کریں۔
٭ صبح اٹھنے کا وقت مقرر کرلیں۔ رات کو جتنی بھی جلدی یا دیر سے سوئیں‘ صبح اٹھنے میں اس وقت کی پابندی کریں جو آپ نے مقرر کر رکھا ہے۔
٭ اگر آپ سونے کے لئے لیٹے ہیں اور 20 سے30 منٹ تک نیند نہیں آئی تو بستر سے اٹھ کر دوسرے کمرے میں چلے جائیں اورمطالعے یا کسی ایسے کام میں مصروف ہوجائیں جو آپ کو اچھا لگتا ہے۔
٭ سونے سے پہلے ڈائری لکھنے کی عادت ڈالیں جس میں پورے دن کے کاموں کی تفصیل ،نیند نہ آنے کی ممکنہ وجوہات اور آرام کرنے کا دورانیہ تفصیل سے قلمبند کریں۔ ایسا کرنے سے نہ صرف آپ بے خوابی کے اسباب سے آگاہ رہےں گے بلکہ ڈاکٹرکو بھی مرض کی وجہ جاننے میں آسانی ہوگی۔
٭کچھ لوگ پرسکون نیند کے لئے خواب آور ادویات بھی استعمال کرتے ہیں جو ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر بالکل استعمال نہیں کرنی چاہئیں۔
گفتگو کو سمیٹتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیںکہ اگر آپ کو تھکاوٹ محسوس ہوتی ہو تو کام میں وقفہ لیں‘ ورزش کو اپنی عادت بنائیں‘ متوازن غذا کھائیں‘ ذہنی دباﺅ سے بچیں اور اپنی نیند کا خیال رکھیں۔ اس کے باوجود یہ دور نہ ہو تو کسی معالج سے رابطہ کریں‘ اس لئے کہ یہ کسی مرض کی علامت بھی ہو سکتی ہے ۔


 

تھکاوٹ دور کرنے کے لئے ورزشیں
(ڈاکٹرو سیم جاوید‘اسسٹنٹ پروفیسرفزیوتھیراپی یونیورسٹی آف ساو¿تھ ایشیا ءلاہور )
تھکاوٹ ہونے کی بڑی وجہ جسم پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ ڈالناہے۔ تھکاوٹ کی بھی دو اقسام جسمانی اور ذہنی تھکاوٹ ہیں ۔ جسمانی تھکاوٹ میں پٹھوں اور ہڈیوں میں درد محسوس ہوتا ہے جبکہ ذہنی تھکاوٹ میں انسان یکسوئی سے کسی نکتے پر اپنی توجہ مرکوز نہیں کرپاتا ۔ اگر آپ دفتر یا کام کی جگہ پر کام کرتے کرتے تھک گئے ہیں تو تھوڑی دیر کے لئے آنکھیں بند کر کے دماغ کو ہر طرح کی سوچوں سے خالی کر لیں اورکرسی پرکمر سیدھی کر کے ٹانگیں پھیلادیں‘ آپ کو راحت محسوس ہوگی۔ مندرجہ ذیل ورزشیں بھی تھکاوٹ دور کرنے میں مفید ثابت ہوتی ہیں :

گردن کی ورزشیں
سیدھے کھڑے ہوجائیں ۔ گردن کو اوپر،نیچے،دائیں اوربائیں کی جانب پوری طرح سے گھمائیں۔ایساہر طرف پانچ مرتبہ کریں۔

ہاتھوں کی ورزشیں
سیدھے کھڑے ہوجائیں ۔اپنے دونوں ہاتھوں کو سامنے کی جانب سیدھا کریں۔اس عمل کو پانچ بار کریں ۔اب ہاتھوں کو اوپر کی جانب سیدھا کرلیں اور اسے دہرائیں۔اب بائیں ہاتھ کو سیدھا رکھتے ہوئے دائیں ہاتھ کو سائیڈ کی طرف پھیلائیں ۔ بائیں ہاتھ پر بھی اسے دہرائیں۔

ٹانگوں کی ورزشیں
٭سیدھے کھڑے ہوجائیں ۔اپنی دائیں والی ٹانگ آگے کو ایسے موڑیں کہ کمر سیدھی رہے۔کچھ دیر اسی حالت میں رہیں اور پھر پہلی حالت میں لوٹ آئیں۔یہی عمل بائیں ٹانگ پر بھی دہرائیں۔
٭سیدے کھڑے ہوجائیں ۔کمر کو سیدھا رکھتے ہوئے دونوںگھٹنوں کو موڑیں۔کچھ دیر اسی حالت میں رہیں اور پھر پہلے والی پوزیشن پر لوٹ آئیں۔اسے پانچ بار کریں۔