جب احتیاط نہیں تو۔۔۔گلے سے گِلہ کیوں

885

گلا ہمارے جسم کا وہ عضو ہے جس سے گزر کر کھانے پینے کی تمام چیزیں معدے میں داخل ہوتی ہیں۔ یہیں سے سانس کی نالی بھی گزرتی ہے اور آواز بھی یہیں پیدا ہوتی ہے ۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا گلا، آپ کو گِلے کا موقع نہ دے تو اس کا خاص خیال رکھیں۔ گلے کے مسائل کی نوعیت‘ علامات‘ پرہیزاور علاج پرماہرین کی آراءکی روشنی میں محمد زاہد ایوبی کی ایک معلومات افزاءتحریر

ہمارے ہاں کچھ اشعارکوایسی مقبولیت حاصل ہوئی ہے کہ وہ ضرب المثل کی حیثیت اختیار کر گئے ہیں ۔ایسا ہی ایک شعر مرزا غالب کے شاگرد مرزا قربان بیگ سالک کابھی ہے۔ وہ کہتے ہیں:

تنگدستی اگر نہ ہوسالک
تندرستی ہزار نعمت ہے
تندرستی بلاشبہ بہت بڑی نعمت ہے جو اگر میسر نہ ہو تو فرد دستیاب نعمتوں سے بھی ٹھیک طرح سے لطف اندوز نہیں ہو سکتا ۔گلے کی خرابی ہی کو لیجئے ۔ عام حالات میں یہ کسی حد تک تکلیف ‘ پریشانی اور بے آرامی کا سبب بنتی ہے لیکن کبھی کبھار کسی بڑی بیماری کی علامت کے طور پربھی سامنے آتی ہے اوربعض صورتوں میں تو یہ جان لیوا تک ثابت ہوتی ہے ۔ اس لئے گلے کی خرابی کی مختلف حالتوں ‘ اس کے مدارج ‘ احتیاطی تدابیر اور علاج کے بارے میں جاننا ضروری ہے ۔
گلا ہماری گردن کا وہ حصہ ہے جس میں خوراک اور سانس‘ دونوں کی نالیاں موجود ہوتی ہیں ۔یہی وہ حصہ ہے جہاں سے آواز بھی پیدا ہوتی ہے۔یوں گلے کے تین اہم کام خوراک کو نگلنا‘ آواز پیدا کرنا اور سانس لینے میں مدد دینا ہے تاہم زیرنظر تحریر میں گلے کے پہلے دو کرداروں اور ان کے مسائل پر روشنی ڈالی جائے گی۔

گلے کی خرابی‘ علامات
نشتر میڈیکل یونیورسٹی ملتان میں ”شعبہ ناک،کان اور گلا“ کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹرحسن اقبال کے مطابق گلے کی خرابی کی علامات بچوں اور بڑوں میں مختلف دیکھنے میں آتی ہیں :
”بچوں میں عموماًگلے میں درد اور بخارکی علامات زیادہ دیکھنے میں آتی ہیں۔ بعض اوقات انہیںسانس لینے میں دقت ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ ان کی ناک بہتی ہے اور کھانسی بھی ہوتی ہے۔اس کے برعکس بڑوں اور بزرگوں کے گلے میں خرابی کے بڑے اسباب ماحولیاتی آلودگی اور الرجیز ہیں‘ تاہم کچھ لوگوں کو انفیکشن بھی ہوجاتا ہے ۔ ایسے میں انہیںکھانسی اور گلے میں خراش ہوتی ہے۔ “

گلے کی خطرناک بیماریاں
ڈاکٹرحسن اقبال کے بقول گلے کی کچھ بیماریاں یا کیفیات ایسی ہیں جو جان لیوا بھی ثابت ہو سکتی ہیں۔ ان کے مطابق خناق (Diphtheria)بھی ایسی ہی ایک خطرناک بیماری ہے جو ترقی یافتہ ممالک میں تقریباً ختم ہو گئی ہے لیکن پاکستان میں یہ ابھی تک موجود ہے:
”گزشتہ برس نشترہسپتال میں ایک ماہ کے دوران 12سے 25مریض اس مرض کے ساتھ آ رہے تھے۔ان میں سے زیادہ تر کا تعلق قبائلی علاقوں سے تھا‘ اس لئے کہ وہا ں اس کی ویکسی نیشن کی شرح بہت کم ہے۔اس بیماری کاعلاج ممکن ہے اور اگر اس سے پہلو تہی کی جائے تو مریض فوت بھی ہوسکتا ہے ۔“
ان کے بقول یہ مرض زیادہ ترتین سے چھ سال کی عمر میں ہوتا ہے لیکن 12سال کی عمر تک بھی لاحق ہو سکتا ہے ۔اس کی علامات یہ ہیں کہ بچہ جسمانی طور پر کمزور دکھائی دیتا ہے اور کھانے پینے میں کم دلچسپی لیتا ہے۔ بخار، نگلنے میں دشواری اور منہ سے پانی بہنے کے علاوہ اس کی پسلی چلنا شروع ہو جاتی اور سانس لینے میں دقت ہوتی ہے۔اگر موت واقع ہو تو اس کا سبب سانس گھٹنا ہوتاہے۔
ایپی گلاٹس کی سوزش (Epiglottitis)بھی ایک جان لیوا بیماری ہے ۔ڈاکٹر حسن اقبال کے مطابق اگراس کی بروقت تشخیص ہو جائے تو یہ100 فی صد قابل علاج مرض ہے اور اگر ایسا نہ کیا جائے تو اس مرض کی وجہ سے شرح اموات بہت زیادہ ہے ۔ایک اورکیفیت نرخرے کی شدیدسوزش یعنی اے ایل ٹی بی

(Acute Laryngotracheobronchitis)

بھی ہے جووبائی نزلے یا انفلوئنزا میں ہو جاتی ہے اور خطرہ جان ثابت ہوتی ہے۔
نگلنے میں دشواری
شفاانٹرنیشنل ہسپتال اسلام آباد کی سپیچ تھیراپسٹ فائزہ بدر کا کہناہے کہ اگر کینسر کی وجہ سے گلے کے پٹھے متاثر ہو جائیں تو خوراک نگلنے میں دقت ہوتی ہے ۔ آپریشن یا کیموتھےراپی کی وجہ سے بھی ان پٹھوں پر منفی اثر پڑتا ہے جس سے فرد کے بولنے اور نگلنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ ان کے بقول اس کے علاج کا انحصار مختلف چیزوں پر ہے:
”ًاگرمریض کو سخت غذا لینے میں دقت ہو تو اسے نرم غذا تجویز کی جاتی ہے ۔زبان کا ایک کام خوراک کو حلق کی طرف دھکیلنا بھی ہوتاہے ۔ اگر وہ کٹ جائے یا فالج کی وجہ سے اپنا کام نہ کر رہی ہو تو مریض کو بتایا جاتا ہے کہ وہ گردن کو کس پوزیشن میں رکھے اور کس قسم کا چمچ اور کھانا استعمال کرے ۔کھانے کے بعد گلے کے متاثرہ حصے میں کچھ خوراک جمع ہوجاتی ہے لہٰذا ہم مریض کو بتاتے ہیں کہ کھانے کے بعدوہ کچھ دیر تک اسی پوزیشن میں بیٹھا رہے تاکہ جمع شدہ خوراک اچھی طرح سے معدے میں پہنچ جائے ۔“
بعض بچے نرم غذا سے ٹھوس غذا کی طرف آنے میں خاصا لمبا وقت لے لیتے ہیں۔اگر اس میں طبی معاونت کی ضرورت ہو تو وہ سپیپچ تھیراپسٹ فراہم کرتا ہے ۔ فائزہ بدر کے بقول اس صورت میں سب سے پہلے یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ بچے کے دانت ٹھیک طرح سے نکلے ہیں یا نہیں۔اگر وہ اپنے وقت پر اور ٹھیک طرح سے نکلے ہوں اور اپنی جگہ پر موجود ہوں تو پھر اس مسئلے کی بڑی وجہ انہیں ٹھوس غذاءکھلانے میں ماﺅں کی سستی اور غفلت ہے :
”ٹھوس غذا کھانے میںبچے کو دقت ہوتی ہے اور وہ اس میں زیادہ وقت لیتاہے۔اس لئے ماﺅں کو یہ کام آسان لگتا ہے کہ بچوں کو ٹی وی کے سامنے بٹھا کرنرم غذا ان کے منہ میں ڈالتی رہیں۔اس طرح بچہ اس کا عادی ہو جاتا ہے اور پھر ٹھوس غذا کی طرف آتا ہی نہیں۔ان بچوں کو ٹھوس غذا کی طرف لانے کے لئے خاص پروگرام پر عمل کیا جاتاہے جس میں جبڑوں کی ورزشیں وغیرہ بھی شامل ہیں۔“

ٹھنڈی کھٹی چیزوں سے گلا خراب؟
ڈاکٹرحسن اقبال کا کہنا ہے کہ اگر مریض عام طور پر ٹھیک ہے اور اس کے گلے میں محض خراش یا اس میں ریشہ گرنے کی شکایت ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے کوئی ٹھنڈی یاکھٹی چیز کھا لی ہے یا یہ موسمی سوزش کے سبب ہے ۔ ایسے میں ہلکے پھلکے ٹوٹکے کام کر جاتے ہیں۔اگر نمک ملے پانی یا صرف سادہ پانی سے بھی غرارے کر لئے جائیں تو بہتری پید اہوجاتی ہے ۔اور اگر اس سے مسئلہ حل نہ ہو رہا ہو تو پھر ڈاکٹر کو لازماًدکھانا چاہئے جو معائنے کے بعد دوا دے گا۔اگر کسی شخص کو اس کے ساتھ سانس میں رکاوٹ ہورہی ہے یا غذا گلے میں پھنس رہی ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ معاملہ اتنا سادہ نہیں ۔ ایسے میں اس بات کی کوئی گنجائش نہیں کہ وہ ٹوٹکوں میں وقت ضائع کرے۔
ڈاکٹر حضرات کہتے ہیں کہ ٹھنڈی یا کھٹی چیزوں کا گلے کی خرابی سے تعلق محض ایک مفروضہ ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ڈاکٹرحسن اقبال کے بقول اس کا بالواسطہ تعلق ضرور موجود ہے۔اس کی وضاحت کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں:
” گلے کے اندر ایک جھلی ہے جس کا نارمل حالت میں ہونا ضروری ہے ۔ ٹھنڈی اورکھٹی چیزیں اسے نقصان پہنچاتی ہیں جس سے اس میں زخم ہوجاتاہے۔اس سے جراثیم کو وہاںانفیکشن پھیلانے کا موقع مل جاتا ہے اور نتیجتاً گلا خراب ہو جاتا ہے ۔“
فائزہ بد رکا کہنا ہے کہ ٹھنڈی اور کھٹی چیز کھانے کے بعد ہمیں اپنے گلے کو کھنگار کر صاف کرنا پڑتا ہے ۔گلا ان چیزوں سے نہیں بلکہ کھنگارنے سے خراب ہوتا ہے ۔ اس کی وضاحت کرتے ہوئے وہ کہتی ہیں:
” کھنگارتے ہوئے گلے سے خاص طرح کی آواز نکلتی ہے جو اس وقت تک پیدا نہیں ہو سکتی جب تک بولنے میں استعمال ہونے والے پٹھے(vocal cords) آپس میںرگڑنہ کھائیں ۔ اس لئے کھنگارنا گلے کوصاف کرنے کا غلط طریقہ ہے ۔ اسے صاف کرنے کا بہترین طریقہ نمک ملے یا بغیرنمک کے پانی سے غرارے کرنا ہے۔ “
ان کا کہنا ہے کہ اگر بولنے کے پٹھوں میں سوزش یا سوجن ہو گئی ہو تو ہم ”آواز کو آرام دینا “ تجویز کرتے ہیں‘یعنی مریض سے کہا جاتا ہے کہ وہ بولنے سے حتی الامکان گریزکرے ۔ اسے ”ووکل ہائی جین “کا خیال رکھنے کے علاوہ دیگر احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ہوتی ہیں۔ مزیدبرآں گلے کی خرابی کے دوران ٹھنڈی،تلی ہوئی اورچکنائی والی تمام چےزوں سے پرہےز کرنا چائےے۔

گلے کو صحت مند کیسے رکھیں
ڈاکٹر حسن اقبال کا کہنا ہے کہ ”پرہیز علاج سے بہتر“ ایسی کہاوت ہے جو ہزاروں سال سے درست ثابت ہوتی چلی آ رہی ہے ۔گلے کو صحت مند رکھنے کے لئے ہمیں چاہئے کہ ایسی چیزیں نہ کھائیں جن سے گلا خراب ہو سکتا ہے۔اگر گلا خراب ہو تو ان سے خاص طور پر بچیں اور اگر انفیکشن کا شک ہوتو فوری علاج کرائیں۔ فائزہ بدر کا کہنا ہے کہ گلے کو صحت مند رکھنے کا پہلا اصول یہ ہے کہ اس کاضرورت سے زیادہ شدت سے استعمال نہ کیا جائے:
”اگر آپ کسی بڑے مجمع سے مخاطب ہونا‘ نعرے لگانا‘ اذان دینا یا گانا چاہتے ہیں تو چیخ چیخ کر بولنے اور پٹھوں پر بوجھ ڈالنے کی بجائے مائیک استعمال کریں۔اگر مائیک دستیاب نہ ہو تو مجمع کے قریب ہوجائیں۔ اگر آپ باآواز بلند تلاوت یا تقریر کرتے اور نعت پڑھتے ہیں‘ آپ ہاکر یاایسے دکاندار ہیں جسے لوگوں کو بلا کراپنی جانب متوجہ کرنا ہوتا ہے تو اس عمل کے دوران پانی کے گھونٹ پیتے رہیں۔
گفتگو کو سمیٹتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ گلا‘ آپ کو گِلے کا موقع نہ دے تو اس کا خاص خیال رکھیں۔ رات کو سونے سے پہلے غرارے کرنا بہت اچھی عادت ہے ۔اس کے علاوہ گردوغبار کے ماحول میں ماسک پہنےں‘ مضرصحت چیزیں کھانے سے پرہیزکریں اور اگر کوئی انفیکشن ہوجائے تو اس کا علاج کرائیں۔
________________________________________________________________________________________________

گلا خراب ‘ گھریلو علاج
(ڈاکٹر طبیبہ تسنیم قریشی، فیکلٹی آف ایسٹرن میڈیسن، ہمدرد یونیورسٹی کراچی)
٭کھانے کے دو چمچ لیموں کا جوس ایک چمچ شہد میں ملائیں اور اس میں چٹکی بھر کالی مرچ ڈال دیں۔ دن میں ایک یا دو دفعہ اس کے استعمال سے افاقہ ہوتا ہے۔
٭ایک کپ شہد میں رات بھر کے لئے پانچ یا چھ لونگ ڈبو کر رکھ دیں۔ صبح کے وقت اس میں سے لونگ نکال دیں اورایک چائے کا چمچ شہد لے لیں۔گلے کی سوزش اور اس میں درد کی صورت میں یہ اکسیر ہے۔
٭منقیٰ کے پانچ سے چھ دانوں اور کھانے کے ایک چمچ لیموں کے جوس کو آپس میں ملا کر کچل لیں ۔ اسے دن میں ایک بار لے لینامفید ہے ۔
٭ چائے کے آدھے چمچ برابرپسی ہوئی ادرک کو اتنے پانی میں ملائیں جس سے ایک کپ چائے بن جائے ۔ یہ چائے پئیں‘ افاقہ ہوگا۔
٭چٹکی بھر لونگ اور دارچینی کے سفوف کو باہم ملائیں اور اس آمیزے کو پانی میں ڈال کر چائے بنائیں۔ دن میں دو بار یہ چائے پینے سے گلا ٹھیک ہو جاتا ہے۔
٭ بابوبہ (Chamomile) ایک جڑی ب±وٹی ہے جس کے استعمال سے گلے کی سوزش ‘ کھانسی ‘بلغم اور ناک کی سوزش میں آرام آ جاتا ہے ۔
٭پودنیہ، دافع بلغم ہے اور سانس کے نظام سے متعلق اعضاء(نالیوں اور پھیپھڑوں) کو سکون دیتا ہے۔ اس کی چائے بنائیں اور اس میں شہد ڈال کر پئیں۔
٭سرخ توتک(Rosehip) وٹامن سی سے بھرپور ہے جسے عہد قدیم سے گلے کو سکون دینے کے لئے استعمال کیا جارہا ہے۔
٭زوفا( Hyssop)پودینے کی نسل کا ایک پودا ہے۔ اس کا عرق دن میں تین دفعہ پینا گلے کی خرابی اور شدید کھانسی میں فوری آرام دیتا ہے۔
________________________________________________________________________________________________

بچپن میں گلے کے مسائل
چھوٹے بچوں میںزیادہ تر بیماریاں انفیکشن کی وجہ سے ہوتی ہیں ۔ ان میں جو انفیکشن زیادہ دیکھنے میں آتے ہیں‘ ان میں ٹانسلز کا ورم (Tonsillitis) ‘ورم حلق (Pharyngitis) ‘ گلٹی کی سوزش (Adenoiditis) اورنتھنوں کی سوزش) (Sinusitisنمایاں ہیں ۔ بچپن میں انفیکشن زیادہ ہونے کا ایک سبب یہ ہے کہ ان میں بیماریوں کے خلاف مدافعت کانظام تشکیل اور نشوونما کے مراحل سے گزر رہا ہوتا ہے۔ان میں قوت مدافعت پیدا کرنے والا ٹشو (lymphoid tissue)چونکہ ابھی پختہ نہیں ہوا ہوتا لہٰذا خود بھی انفیکشن کا شکار ہوجاتا ہے ۔
اس کا دوسرا بڑا سبب سکول جانے کی عمرمیں بچوں کا آپس میں زیادہ ملنا جلناہے۔ ایک ہی فیملی میں افراد کی تعداد چونکہ محدود ہوتی ہے‘ اس لئے گھرمیںجراثیم بھی محدوداورایک جیسے ہوتے ہیں۔ایک بچہ جب کلاس میں جاتا ہے تو وہاں مزید50بچے ہوتے ہیں جو ایک دوسرے کے قریب قریب بیٹھے ہوتے ہیں اور اپنے ساتھ نت نئے جراثیم لاتے ہیں۔ اس وجہ سے بچے کو ’کراس انفیکشن‘ہوجا تاہے۔اس کا تیسرا سبب یہ ہے کہ بچے گرمی ‘ سردی کی پرواہ نہیں کرتے ۔ وہ نہ تو موسم کے مطابق کپڑے پہنتے ہیں اور نہ کھانے پینے میں احتیاط کرتے ہیں۔اس کی چوتھی وجہ یہ ہے کہ جب انفیکشن ہوجائے تو بہت سے بچے دوا نہیں لیتے۔کبھی والدین لاپروائی کر جاتے ہیں اور انہیں ڈاکٹر کے پاس نہیں لے کر جاتے اور کبھی دوا گھرمیں آ تو جاتی ہے لیکن بچے اسے لیتے ہی نہیں۔(پروفیسرحسن اقبال ‘چیئرمین ’شعبہ ناک،کان اور گلا‘ نشتر میڈیکل یونیورسٹی ملتان)

مزید پڑھیں/ Read More

متعلقہ اشاعت/ Related Posts

”آپ کیا کہتے ہیں؟ “ کے عنوان سے کالم آپ کا ہے اور آپ کےل