تھیلیسیمیا

1

تھیلیسیمیا

تھیلیسیمیا خون کا ایک مرض ہے۔ خون کی سرخ رنگت کا سبب سرخ رنگ کا ایک مادہ ہے جسے ’’ہیموگلوبن‘‘ کہتے ہیں ۔ اس کا کام آکسیجن کو جسم کے تمام حصوں تک پہنچانا ہے۔ لفظ ’’ہیم ‘‘کا مطلب ’’آئرن‘‘ جبکہ ’’ گلوبن‘‘ سے مراد ’’ایک خاص پروٹین ‘‘ ہے جو تھیلیسیمیاکی بیماری میں ٹھیک طرح سے نہیں بنتی۔

خون کے سرخ خلیوں کی زندگی چارماہ ہوتی ہے لیکن پروٹین ٹھیک طرح سے نہ بننے کی وجہ سے ان کی زندگی جلد ختم ہو جاتی ہے۔ یوں اس مرض کے شکار بچوں میں ہیموگلوبن کی مقدار کم ہی رہتی ہے۔

تھیلیسیمیا کی علامات

اس بیماری میں مبتلا بچے کی نشوونما صحیح طور پر نہیں ہوتی. اس وجہ سے وہ تھکاوٹ کا شکار رہتا ہے,زیادہ سوتاہے،اس کے پیٹ پر سوجن نمودار ہوجاتی ہے ‘چہرے کی ہڈیوں میں ٹیڑھ پن آجاتا ہے اور وہ جلد کی پیلاہٹ کا شکار ہوجاتا ہے۔ پاکستان میں ہر سال تقریباً 5000 بچے اس مرض کے ساتھ پیدا ہو رہے ہیں۔

مرض سے بچاؤ

٭اس موروثی بیماری سے بچنے کا سب سے بہتر حل یہ ہے کہ خاندان میں شادیوں کے تسلسل سے گریزکیاجائے۔

٭ترقی یافتہ ممالک میں شادی کے بندھن میں بندھنے سے پہلے لڑکے اور لڑکی کے خون کا ٹیسٹ کروایا جاتا ہے ۔اگرچہ پاکستان میں بھی اس حوالے سے قانون سازی ہو چکی ہے لیکن ہمارے معاشرے میں اس بات کو معیوب سمجھا جاتا ہے ۔ حالانکہ اگلی نسل کو اس سے محفوظ کیا جا سکتاہے ۔

٭اگر کوئی خاتون اُمید سے ہو تو اب ابتدائی دوماہ کے اندر بچے میں تھیلسمیا میجرکا پتہ لگایا جا سکتا ہے۔ایسے میں حمل ضائع کرنا شرعی اور قانونی ‘ دونوں طور پر جائز ہے۔

٭خون کی کمی کے شکار افراد کے علاج سے پہلے ڈاکٹر کو چاہئے کہ مریض کا تھیلیسیمیا ٹیسٹ ضرورکروالے۔ اس لئے کہ تھلیسیمیاکے مریض کے لئے آئرن سخت نقصان دہ ہے ۔

Thalassemia, symptoms, diagnosis, prevention

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x