• Home
  • کورسٹوری
  • خواتین 20 منٹ اپنے لیے ضرور نکالیں ورزش ہانڈی روٹی سے کم اہم نہیں

خواتین 20 منٹ اپنے لیے ضرور نکالیں ورزش ہانڈی روٹی سے کم اہم نہیں

321

اہرین صحت کا خیال ہے کہ ہمارے ہاں بیماریوں کے بڑھتے ہوئے حجم کے دو بڑے اسباب ہیں۔ ان میں سے ایک غذائی بد احتیاطی اوردوسری سہولت پسند طرز زندگی ہے جس میں جسمانی سرگرمیاں نمایاں طور پر کم ہےں ۔ایسے میں وہ ورزش کو پختہ معمول بنانے کا مشورہ دیتے ہیں۔جب ورزش کی بات ہوتی ہے تو دھیان بالعموم مردوں کی طرف جاتا ہے حالانکہ جسمانی سرگرمیوں کی کمی کی وجہ سے ہونے والی بیماریاں خواتین میں بھی تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔انہیں اپنی صحت کا خیال رکھنے کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے اس لئے کہ انہیں پورے گھر کا بھی خیال رکھنا ہوتا ہے ۔ ثنا ظفر کی ایک معلوماتی تحریر


انسانی جسم کی مثال مشین کی سی ہے ۔ اگراسے بہتر انداز میں استعمال نہ کیا جائے تو وہ جلد ہی خراب ہو جاتی ہے ۔اسی طرح اگر انسانی جسم کا بھی مناسب انداز میں خیال نہ رکھا جائے تو اس کے اعضا کی صلاحیت اور کارکردگی میں فرق آنے لگتا ہے اور ہمیں بہت سی بیماریاں بھی لگ جاتی ہیں ۔ماہرین صحت کا خیال ہے کہ ہمارے ہاں بیماریوں کے بڑھتے ہوئے حجم کے دو بڑے اسباب ہیں۔ ان میں سے ایک غذائی بد احتیاطی اور دوسری سہولت پسند طرز زندگی ہے جس میں جسمانی سرگرمیاں نمایاں طور پر کم ہیں ۔

گزشتہ صدی کے دوران سائنس کے میدان میں حیران کن ترقی نے انسانی زندگی کو آسان بنا دیا ہے ۔ ایک وقت تھا جب خواتین کو پینے کا پانی دور دراز سے لانا پڑتا تھا لیکن آج محض ایک بٹن دبانے سے پانی ہمارے گھر کی ٹینکیوں میں آ جاتاہے ۔ لوگوں کو اپنی ضروریات کے لئے میلوں پیدل چلنا پڑتا تھا ۔ آج گاڑیوں میں بیٹھ کر یہ سفر بہت آسانی سے کیا جاتا ہے۔ اب مارکیٹ تک جانا ہو تو موٹر سائیکل کے بغیر یہ کام مشکل لگتا ہے ۔ یوں ہم تن آسانی کی عادت میں مبتلا ہوتے چلے گئے ہیں۔ دوسری طرف مرغن غذائیں ہمارے معمول میں غیرمعمولی حد تک داخل ہیں۔ اس صورت حال کا نتیجہ بیماریوں کی بہتات کی صورت میں نکلا ہے ۔ ایسے میں ڈاکٹر حضرات ورزش کو پختہ معمول بنانے کا مشورہ دیتے ہیں۔

جب ورزش کی بات ہوتی ہے تو دھیان بالعموم مردوں کی طرف جاتا ہے حالانکہ جسمانی سرگرمیوں کی کمی کی وجہ سے ہونے والی بیماریاں خواتین میں بھی تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ خصوصاً دیہی ‘ ادھیڑ عمر کی اور شادی شدہ خواتین میں اس کا تناسب زیادہ ہے ۔خواتین کواپنی صحت کا خیال رکھنے کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے اس لئے کہ انہیں پورے گھر کا بھی خیال رکھنا ہوتا ہے ۔اگر وہ ملازمت پیشہ ہوں تو اس کی اہمیت کئی گنابڑھ جاتی ہے‘ اس لئے کہ انہیں گھر کے ساتھ اپنی ملازمت کو بھی دیکھنا ہوتا ہے۔

 

گھریلو کام کاج ورزش کا متبادل؟
خواتین میں ایک غلط خیال یہ پایا جاتا ہے کہ دن بھر گھریلو کام کے دوران جسم کی حرکات ورزش ہی ہیں لہٰذا اس کے لیے الگ سے وقت نکالنا ضروری نہیں ہے۔ آزاد کشمیر کی رہائشی رقیہ کہتی ہیں :
”مجھے گھر کے کام کاج سے ہی فرصت نہیں ملتی ۔ایسے میں ورزش کے لیے الگ سے وقت نکالنا مشکل ہوتاہے ۔ویسے بھی کام کے دوران جسم اتنا متحرک رہتا ہے کہ ورزش کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔“
آغاخان یونیورسٹی کراچی کی سنئیر فیزیو تھیراپسٹناہیدکپاڈیا سے جب اس پرپیشہ ورانہ رائے مانگی گئی تو ان کا کہنا تھا :
”جب ہم جسم کوایک خاص انداز میں مسلسل(کم از کم 20 منٹ) حرکت دیں اور یہ عمل مخصوص وقت کے لیے باقاعدگی سے کیا جائے تو اسے ورزش کا نام دیا جا تا ہے ۔گھریلو کام بھی فائدہ مند ہیں لیکن اگر یہ کہا جائے کہ اس کے بعد ورزش کی ضرورت نہیں رہتی تو یہ غلط ہے ۔“
اس کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سارے دن میں ہم جو خوراک کھاتے ہیں‘ وہ ہمارے جسم میں کیلوریز(توانائی) کی صورت میں جمع ہوتی رہتی ہے ۔کام کرنے اور متحرک رہنے سے وہ کیلوریز استعمال ہوجاتی ہےں لیکن اس سے پٹھوں کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ان کے نزدیک گھریلو کاموں کو بھی خاص انداز سے کرنے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ بصورت دیگر وہ کام جسمانی سرگرمی ہوتے ہوئے بھی نہ صرف یہ کہ فائدہ مند نہیں ہوتے بلکہ بعض اوقات نقصان کا باعث بھی بنتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر وہ کپڑے دھو رہی ہیں تو لگاتار چار یا پانچ گھنٹے تک وہ یہ کام کرتی رہیں گی جو بہت غلط ہے ۔ایک ہی پوزیشن میں زیادہ دیر رہنے سے کمر میں درد ہونے لگتا ہے ‘ تھکاوٹ ہوتی ہے اور طبیعت میں چڑ چڑا پن بھی آ جاتا ہے ۔جس کے باعث ان کا ورزش کرنے کو دل نہیں چاہتا۔

 

مخصوص صورت حال میں ورزش
معاملے کا ایک پہلو یہ ہے کہ خواتین کی عمریں اور ان کا طرز زندگی مختلف ہے ۔ اس لئے سب کو ایک جیسی ورزش یا جسمانی سرگرمی تجویز نہیں کی جا سکتی ۔ اس لئے خواتین کو ان کی عمر،وزن اور موٹاپے کی سطح کے مطابق مختلف ورزشیں تجویز کی جاتی ہیں۔ ناہید کپاڈیا کے مطابق خواتین کے لیے ورزش کی اہمیت بہت زیادہ ہے لیکن جب وہ اپنی جسمانی ہیئت کو جانے بغیر اپنی مرضی سے ورزش کرتی ہیں تو اس کا فائدہ نہیں ہوتابلکہ بعض صورتوں میں نقصان بھی ہوجاتا ہے:
” مثال کے طور پر اگر آپ پیٹ یا کولہوں کی فالتو چربی کم کرنا چاہتی ہیں تو اس کے لیے مخصوص ورزشیں کرنا ضروری ہوتا ہے۔پوری توجہ کے ساتھ اس پر عمل کرنااہم ہے ۔اگر آپ معمول کے مطابق جھاڑو پوچا وغیرہ کرلیں تواس سے مطلوبہ مقصد حاصل نہیں ہوگا۔“
ان کاکہنا ہے کہ مردوں کی نسبت خواتین کا جسم مختلف جسمانی تبدیلیوں سے گزرتا ہے ۔ بلوغت کی عمر میں لڑکیوں میں بہت سی ہارمونیائی تبدیلیاں شروع ہوجاتی ہیں ۔اگر ہارمونز غیر متوازن ہوں تومخصوص ایام میں بے ضابطگی کی وجہ سے لڑکیاں ڈپریشن کا شکار ہو جاتی ہیں ۔ اگر وہ ورزش کو معمول بنائیں تو ان کے بہت سے معاملات درست ہوسکتے ہیں۔

 

خالی پیٹ یاکھانے کے بعد
اکثرخوا تین کا سوال ہوتا ہے کہ ورزش خالی پیٹ کرنی چاہئے یا کھانا کھاکرایسا کرنا چاہئے۔ ناہید کپاڈیا کہتی ہیں :
”جسم کو متناسب رکھنے کے لیے جو ورزشیں بتائی جاتی ہیں انہیں کرنے سے پہلے آپ کھانا کھائیں اور تقریباً 30 منٹ تک یعنی اس کے آدھا ہضم ہونے تک کا انتظار کریںاور پھر اپنی ورزش شروع کریں ۔ایسا اس لیے کیا جاتا ہے کہ ورزش کے دوران پٹھوں کو انرجی کی ضرورت ہوتی ہے ۔“
اس بات کا خیال رکھیں کہ ورزش مناسب وقفوں کے ساتھ کی جائے ۔مثال کے طور پرایک پوز کو دودفعہ کرنا ہو تو ایک دفعہ کرنے کے بعد 10سیکنڈز کاوقفہ دیں اور پھر دوسری دفعہ کریں۔آہستہ آہستہ اس کا دورانیہ بڑھاتے جائیں۔ یعنی پہلے ہفتے میں دن میں دو دفعہ اور پھر پانچ دفعہ کریں۔اس کے بعد دوسرے ہفتے میں 10مرتبہ اور تیسرے میں 15مرتبہ کریں ۔ جوڑوں کے درد کی شکار خواتین کے لیے ورزش کرنا مشکل ہو تو وہ چہل قدمی ضرور کریں ۔

 

ملازمت پیشہ خواتین
جو خواتین ملازمت پیشہ ہیں ان کا ذہن گھریلو خواتین کی نسبت زیادہ مضبوط اور چست ہوتا ہے ۔انہیں نئے چیلنجز کو قبول کرنے میں مشکل نہیں ہوتی ۔گھروں میں عموماً کام کاج کے لیے ماسیاں ہوتی ہیں اور اگر نہ ہوں تب بھی ان کے لئے بالعموم زیادہ تر کام ایسا ہوتا ہے جس میں جسمانی مشقت نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔انہیں مشورہ دیتے ہوئے ناہید کپاڈیا کہتی ہیں :
فیزیو تھیراپسٹ کے مشورے سے آپ دفتر میں اپنی کرسی پر بیٹھے بیٹھے بھی ورزش کر سکتی ہیں۔انہیں چاہئے کہ جِم جوائن کرنے سے پہلے اپنی تھیراپسٹ سے بات ضرور کریں اور اس کی بتائی ہوئی ہدایات پر عمل کریں ۔اس کے علاوہ جم میں بھی ایسے لوگ موجود ہوتے ہیں جو آپ کو اس بارے میں راہنمائی دے سکتے ہیں ۔
خواتین خاندان کا ستون ہیں اور گھربھر کی صحت کا زیادہ تر دارومدار عورت کی جسمانی اور ذہنی صحت پر ہے۔اگر وہ صحت مند ہو گی تو گھر کا نظام بہتر طور پر منظم ہو گا اور بچے بھی صحت مند اور با اعتماد انداز میں پروان چڑھیں گے ۔کہا جاتا ہے کہ ایک پڑھی لکھی ماں نسلیں سنوار دیتی ہے ۔اسی طرح ایک صحت مند عورت ایک صحت مند خاندان تشکیل دے گی ۔لہٰذا خواتین کو خاص طور پر اپنی صحت کا خیال رکھنا چاہئے ۔ اس کے لئے ورزش کو لازماً اپنا معمول بنانا چاہئے ۔اگر باہر جانا ممکن ہو تو پارک یا جم وغیرہ جانا چاہے ۔ بصورت دیگر اپنے گھر میں بھی اس کا اہتمام کیا جا سکتا ہے ۔ اصل بات یہ ہے کہ آپ اسے کتنا اہم سمجھتی ہیں اور اس کے لئے کیسے وقت نکالتی ہیں ۔


 

زچگی کے بعد جسم کی ہیئت
ناہید کپاڈیاکہتی ہیں کہ بچے کی پیدائش کے بعد خواتین کو علم ہی نہیں ہوتا کہ جسم کوکیسے پہلے والی حالت میں واپس لانا ہے ۔زچگی کے بعد ان کے پیٹ کی دیوار (Abdominal Wall)کمزور ہو جاتی ہے۔ڈیلوری کے بعد چھے ہفتے کا دورانیہ بہت اہم ہوتا ہے کیونکہ اس میں وال اورپٹھے اپنی جگہ پر آ رہے ہوتے ہیں ۔ہرکام کے لیے مخصوص ورزش ہوتی ہے اور اگر اسے اس لحاظ سے اسے نہ کیا جائے تو فائدہ نہیں ہوتا ۔اس لئے پیٹ کم کرنے کی غرض سے ورزشیں فزیوتھیراپسٹ کے مشورے سے ہی کریں۔اسی طرح خواتین میں موٹاپے ،پی سی او ایس (polycystic ovary syndrome)اور ہارمونز کے مسائل پر قابو پانے کے لیے ورزش بہت ضروری ہے ۔تھیراپسٹ آپ کو اس سلسلے میں ورزش کے مفید طریقے بتائے گا۔ اس تناظر میںورزش کے لئے چند باتوں پر عمل کرنااشد ضروری ہے ۔
٭اپنی جسمانی ضروریات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ورزش کا انتخاب٭اپنی خوراک اور نیند کا خیال رکھیں ۔
٭اس کے لیے صبح اور شام کا وقت مخصوص کریں اور پوری توجہ ورزش پر دیں ۔٭ورزش مکمل مراحمل میں ختم کریں ۔

مزید پڑھیں/ Read More

متعلقہ اشاعت/ Related Posts

حمل کے دوران اور بعد میں کی جانے والی ورزشوں سے مندرجہ ذ

    کائنات کو اگر ایک تصویر خیال کیا جائے تو اس میں رنگ

Leave a Reply

Leave a Reply

  Subscribe  
Notify of