شوگر اوررمضان

107

    روزہ نہ رکھیں
مندرجہ ذیل افراد کے لیے روزہ رکھنا خطرناک ہو سکتا ہے:
٭ جن لوگوں کے گردے خراب ہوں۔
٭شوگر کے وہ مرےض جو اعصاب کو متاثر کرنے والی ادوےات بھی استعمال کر رہے ہوں۔
٭جن کی شوگر کنٹرول میں نہ رہتی ہو۔

ممکنہ پیچیدگیاں
ذیابیطس کے مریضوں کو روزے کے دوران مندرجہ ذیل پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے:
٭خون میں شکر کی مقدار کاانتہائی کم یا بہت زیادہ ہو جانا۔
٭جسم میں پانی کی کمی۔
٭نامناسب کنٹرول کی وجہ سے خون میں تیزابےت کا بڑھ جانا۔

احتےاطی تدابیر
روزے میں لمبے دورانئے کےلئے کھانے پےنے سے پرہےز کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے خون میں شوگر کی سطح زےادہ گر سکتی ہے ۔اسی طرح افطاری کے وقت اچانک زےادہ مقدار میں کھاےا جاتا ہے۔ مزید براں افطاری میں زےادہ کاربوہائیڈریٹس والی غذاﺅں مثلاً چپاتی اورچاول کے ساتھ بہت سی میٹھی چیزیں اور مشروبات بھی شامل ہوتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں خون میں شوگرکی سطح بڑھ جاتی ہے۔ مندرجہ ذیل تجاویز پر عمل سے آپ کو شوگر کی سطح مناسب حد میں رکھنے میں مدد ملے گی:
٭اگر سحری کے چند گھنٹوں کے بعد ہی خون میں شوگر کی سطح70ملی گرام فی ڈیسی لٹر سے کم ہوجائے اورسحری میں انسولین یاگولیاں استعمال کی ہوں تو روزہ توڑ دینا چاہیے۔
٭ رمضان میں صبح کی ادویات کی مقدار عام طو رپر افطار کے وقت اور شام کی ادویات سحری کے وقت استعمال کی جاتی ہیں۔یہ تبدیلی صرف ذیابیطس کی دواﺅں کےلئے ہے جبکہ انسولین کی مقداراور اوقات کا تعین اپنے معالج کے مشورے کے بعد ہی کریں۔
٭آپ روزہ رکھنے سے پہلے ایسی غذا(مثلاً باسمتی چاول‘چپاتیاں اوردال وغےرہ ) زےادہ استعمال کریں جو ہضم ہونے میںزیادہ وقت لیں۔
٭جسم میں پانی کی کمی سے بچنے کے لئے شوگر سے پاک سکوائش‘ فروٹ‘ جوس‘ پانی یا دودھ استعمال کریں۔
٭روزہ کھولتے وقت چےنی اور تلی ہوئی اشےاءبہت کم مقدار میں لیں۔ کھانا پکانے میں بھی کم تیل استعمال کریں۔
٭جس قدر ممکن ہو‘ سحری دیر سے کریں ۔ بغیر سحری کھائے روزہ کبھی نہ رکھیں۔ افطار کے وقت بہت زیادہ میٹھے کھانے اور مشروبات استعمال نہ کریں۔
٭ انسولین لینے والے مریض اگر روزہ رکھنے کے خواہش مندہوں تو اپنے ڈاکٹرسے انسولین کی مقدار کے بارے میں ضرور مشورہ کریں۔