ٹھوس غذا: کیا کھلائیں‘کیسی کھلائیں

1

ٹھوس غذا: کیا کھلائیں‘کیسی کھلائیں

جب بچہ اس دنیا میں آتا ہے تواس کا معدہ کمزورہوتا ہے لہٰذا وہ صرف نرم ترین چیزوں کو ہی ہضم کر سکتا ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے ماں کے دودھ کا بندوبست کیا ہوتا ہے۔ جیسے جیسے وہ بڑا ہوتا جاتا ہے‘ ویسے ویسے اس کی جسمانی اورغذائی ضروریات بڑھتی جاتی ہیں۔ اب اسے ماں کے دودھ کی بجائے ٹھوس غذا کی ضرورت ہوتی ہے۔

ڈاکٹرزہسپتال اینڈ میڈیکل سنٹرلاہورسے منسلک ماہرامراضِ بچگان ڈاکٹر شاہد اسلم کے مطابق چارماہ کے بعد بچے کا نظام انہضام اس قابل ہونا شروع ہوجاتا ہے کہ ہلکی ٹھوس غذا کو ہضم کرسکے۔ اگربچہ صحت مند ہے اورکسی طبی مسئلے میں مبتلا نہیں توچارماہ بعد ہلکی پھلکی غذا شروع کرائی جاسکتی ہے۔ اس سےقبل ٹھوس غذا نہ دیں کیونکہ بچے کا معدہ اسے ہضم کرنے کی سکت نہیں رکھتا۔
یہ علامات ظاہر ہونے لگیں توٹھوس غذا دی جا سکتی ہے

٭بچہ گردن سنبھالنے لگے۔

٭سہارے سے بیٹھنے لگے۔

٭وزن پیدائش کے وقت سے دوگنا ہوجائے۔

٭وہ دانت نکال رہا ہو۔

٭بچہ چمچ منہ میں لینے اورخوراک نگلنے کے قابل ہوجائے۔

٭دن میں آٹھ سے دس بارماں کا دودھ پینے کےباوجود بھوک ختم نہ ہو۔

ابتدا میں کیا کھلائیں

بچے کی ٹھوس غذا کا آغاز کس چیزسے کیاجائے،اس کا کوئی فارمولا نہیں بنایا جاسکتا۔ تاہم مختلف قسم کے دلیے یا سیریلزابتدا میں بچوں کے لئے بہترین ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ آہستہ آہستہ ساگودانہ،سوجی کی کھیر‘ کھچڑی‘ پھل اورسبزیاں بھی کھلائی جاسکتی ہیں۔ آغازمیں بچے کو ایک وقت میں ایک ہی چیز دیں اورہلکی‘ تھوڑی (دو سے تین کھانے کے چمچ) اورنرم خوراک کھلائیں۔اسے دن میں تین بارٹھوس غذا دی جا سکتی ہے۔

سات ماہ کی عمرکے بعد بچے کی خوراک میں گوشت (مرغی،مچھلی اورچھوٹاگوشت وغیرہ)شامل کر دینا چاہیے۔ نو سے دس ماہ کے دوران اسے فیملی ڈائٹ (جو کچھ باقی فیملی کھاتی ہے ) دی جاسکتی ہے۔ یاد رہے بچے کو خوراک شروع کرانے کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ ماں کا دودھ چھڑا دیا جائے۔ دو سال کی عمرتک ماں کا دودھ بھی خوراک کے ساتھ ساتھ پلاتے رہیں۔

ہرچیزکاعادی بنائیں

بہت سی مائیں فکرمندنظرآتی ہیں کہ بچے کچھ کھاتے ہی نہیں۔ اس میں بچوں کا کوئی قصورنہیں‘ اس لئے کہ ابتدائی عمر میں ماؤں نے انہیں ہر چیزکھانے کاعادی نہیں بنایا ہوتا۔ ہمیں آغازسے ہی بچے کو ہرچیز کھلانی چاہئے اورمختلف ذائقوں سے متعارف کرانا چاہیے۔ یہ بات بھی ذہن نشین کرلیں کہ اچھی نشوو نما اورصحت کے لیے صرف دودھ کو ہی نہیں متوازن غذا بھی ضروری ہے۔

 ڈاکٹرسےکب رجوع کریں

بعض بچوں کو ٹھوس غذا سے کچھ مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔پیٹ میں درد، گیس، جسم پردھپڑ اورالٹی اس کی کچھ مثالیں ہیں ۔ایسی صورت میں فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ اگر بچے کو وقت پرٹھوس غذا نہ دی جائے تو اس کی نشوونما ٹھیک طریقے سے نہیں ہوتی اور وہ غذائی کمی کا شکارہوسکتا ہے۔ جن خاندانوں میں خوراک سے الرجی کا مسئلہ ہو‘ ان کے بچوں کو ٹھوس غذا تھوڑی دیر سے شروع کرنے کی تلقین کی جاتی ہے لیکن اس سلسلے میں ڈاکٹر سے مشورہ ضرورکریں۔

غذا اوراس کی غذائیت

آغا خان ہسپتال کی ماہرغذائیت موتی خان کہتی ہیں کہ خوراک میں موجود مختلف غذائی اجزاء بچے کی نشوونما میں مدد کرتے ہیں۔

٭پروٹین خلیات بنانے اوردماغی نشوونما میں اہم کردارادا کرتی ہے۔ یہ انڈے،چکن، گوشت،دالوں اورسلاد وغیرہ میں پائی جاتی ہے۔

٭کاربوہائیڈریٹس جسم کوتوانائی فراہم کرتے ہیں۔ دلیے اورکھچڑی میں یہ وافرمقدارمیں ہوتے ہیں۔

٭بڑھتی عمرکے بچوں کے لئے فیٹس(چکنائی) بھی اہم ہیں۔ان کی کمی دماغی خلیات کی نشوونماپراثر اندازہوتی ہے اوربچہ دیکھنے میں بھی صحت مند نہیں نظر آتا۔ یہ مکھن،ماجرین ،کھانے کے تیل اورخشک میوہ جات میں پائے جاتے ہیں۔ خشک میوہ جات کو گرائنڈ کر کے بچوں کودیاجاسکتا ہے۔

٭کیلا چھوٹے بچوں کے لئے ایک مکمل غذا ہے۔ اس میں بہت سے غذائی اجزاء موجود ہوتے ہیں۔ بچوں کو یخنی بھی دینی چاہیے‘ اس میں پروٹین ،سوڈیم اوردیگرغذائی اجزاء پائے جاتے ہیں۔

٭اگرکھچڑی میں پانی کی جگہ یخنی شامل کر لی جائے تواس کی غذائیت اورذائقہ مزید بڑھ جائے گا۔ ساگودانہ بھی بچوں کے لیے اچھی غذا ہے۔

٭وٹامن سی کی کمی سے مسوڑھوں سے خون رسنے لگتا ہے۔ وٹامن اے نظر کے لیے ضروری ہے۔ وٹامن ڈی کی کمی ہڈیوں،دماغ اوردل کو متاثرکرتی ہے۔ وٹامن ای جسم میں فیٹس کو شامل کرنے میں مدد دیتا ہے ۔ اسی طرح وٹامن کے خون جمنے میں اہم کردارادا کرتا ہے۔

ہرغذائی جزو ہمارے جسم کی اچھی نشوونما اورصحت کے لیے ضروری ہے ۔ متوازن غذا کے استعمال سے ہی غذائی اجزاء کی کمی سے بچا جاسکتا ہے۔

cereals, solid food for children, initial solid diet for children

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x