سگریٹ نوشی کیسے چھوڑیں

140

چھٹی کی گھنٹی بجتے ہی گیٹ پر طالب علموں کا ہجوم بڑھنے لگا۔ لڑکوں کا ایک ٹولہ ہنستے ہوئے گیٹ کے ایک جانب کھڑا ہو گیا۔ان میں سے ایک خوبصورت نوجوان نے اپنے سکول بیگ میںسے سگریٹ نکال کر اسے لائٹرکی مدد سے سلگایا اور ایک لمبا کش لیتے ہوئے دھواں ہوا میں اڑادیا۔اس کی دیکھا دیکھی دو اور دوستوںنے بھی اس کی پیروی کی۔ یوں یہ لڑکے خوش گپیوں میں مشغول اپنی سکول وین کی طرف بڑھ گئے ۔ اس طرح کے مناظر اکثر سکولوں اور کالجوں کے باہر نظر آتے ہیں۔
جن گھروں میں سگریٹ نوشی کی جاتی ہے ‘ وہاں بالعموم بچے بڑوں کی دیکھا دیکھی میںسگریٹ پیناشروع کرتے ہیں۔ کچھ بچے اپنے آپ کو بڑا ظاہر کرنے کے لئے بھی سگریٹ پیتے ہیں۔زیادہ تر لوگوں اور خصوصاً نوجوانوںکو اس کی لَت دوستوں کی وجہ سے پڑتی ہے۔

تمباکونوشی کے نقصانات
نوجوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے قوم کے یہ معمار نہیں جانتے کہ ان کے لئے بظاہر معصوم سی حرکت مستقبل میں ان کی صحت کے لئے کس قدرنقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے ۔ اس کا شمار ان اشیاء میں ہوتا ہے جنہیں انسان ابتداء میں شوق کے طور پر اپناتا ہے اور پھر رفتہ رفتہ نشے (addiction) کی صورت میں اس کی زندگی کا حصہ بنتی چلی جاتی ہیں ۔

ہمارے دماغ میں ایک خاص مرکزہوتا ہے جس کے متحرک ہونے سے ہمیں خوشی اور اطمینان کااحساس ہوتا ہے ۔سگریٹ میں موجود کچھ کیمیائی اجزاء اس مرکز کو متحرک کرنے کا باعث بنتے ہیں۔ لوگ خوشی حاصل کرنے کے لئے اسے پیتے ہیں اور پھر بتدریج اس کے عادی ہوتے چلے جاتے ہیں ۔جب وہ سگریٹ چھوڑتے ہیں تو جو خوشی انہیں مل رہی ہوتی ہے‘ وہ ختم ہو جاتی ہے۔اس لئے لوگوں کے لئے اسے چھوڑنا مشکل ہوتا ہے۔

تمباکو میں موجود نکوٹین(نشے کی عادت ڈالنے اور جسم پر کئی طرح کے مضراثرات مرتب کرنے والا جزو)صحت کے لیے بہت نقصان دہ ہے۔یہ خون میں شامل ہوکردل کی تکلیف کا باعث بنتا ہے اور بلڈ پریشر کو بھی بڑھاتا ہے۔اس کے مسلسل استعمال سے دانتوں اور مسوڑھوں کی بیماریاں جنم لیتی ہیں۔تمباکو نوشی منہ اورپھیپھڑوں کے سرطان کا بھی باعث بنتی ہے ۔

بہت سے لوگو ں کا خیال ہے کہ ایک یا دو سگریٹ پینے سے کچھ نہیں ہوتا۔ماہرین کے مطابق یہ بات ثابت شدہ ہے کہ اگر آپ ایک بھی سگریٹ پیتے ہیں تو وہ آپ کی زندگی اوسطاً10منٹ کم کر دیتا ہے ۔یہ ایک خاموش قاتل ہے جس کے اثرا ت فوری طور پر ظاہر نہیں ہوتے ۔

شیشہ سموکنگ
شیشہ سگریٹ نوشی کی ایک جدید قسم ہے جس میں سگریٹ کی مخصوص بو کو ختم کرنے کے لیے پھلوں کے فلیورز شامل کیے جاتے ہیں۔ ہمارے ملک میں اس کا رجحان نوجوان لڑکوں میں ہی نہیں بلکہ لڑکیوں میں بھی تیزی سے پھیل رہا ہے۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ وہ اس عادت کو فیشن کا نام دیتے ہیں۔گھروں‘ہوٹلوں،شیشہ گھروں، سڑکوں کے کناروںاور تفریحی مقامات پر اس کا استعمال کھلے عام کیا جاتا ہے۔بعض لوگوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ شیشہ‘ سگریٹ کے مقابلے میں کم نقصان دہ ہے حالانکہ یہ بالکل غلط تصور ہے۔ماہرین کے مطابق اگر ایک گھنٹہ شیشہ پیا جائے تووہ100سے 200سگریٹ پینے کے مترادف ہے۔شیشہ پینے والے افراد میں پھیپھڑوں کے سرطان کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

سگریٹ نوشی کو کیسے چھوڑا جائے
بہت سے لوگ جانتے ہیں کہ سگریٹ نوشی صحت کے لیے مضر ہے لیکن وہ اس سے پیچھا نہیں چھڑا پاتے۔ اس بری عادت سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے چند ہدایات درج ذیل ہیں:
٭کسی بھی بری عادت سے نجات کے لیے انسان کی بہترین دوست اس کی قوت ارادی ہوتی ہے۔تمباکونوشی سے نجات کے لئے اسے مضبوط کریں۔
٭اپنی پسند کی کوئی سرگرمی مثال کے طور پر گیم ،گھر کے کام کاج‘ کمپیوٹر پر کوئی دلچسپ چیز دیکھنا‘ کسی کو ای میل یا کال کرنا وغیرہ اختیار کریں۔ایسا کرنے سے آپ کا دھیان بٹا رہے گا اور سگریٹ کی خواہش نہیں ہوگی ۔
٭سگریٹ پینے والے دوستوں کی محفل سے دور رہیں۔ اپنی گاڑی‘ دفتر اوربیڈ روم وغیرہ سے وہ تمام چیزیں ہٹا دیں جو آپ کی توجہ سگریٹ کی طرف مبذول کرا سکیں۔ اگر ایش ٹرے یا لائیٹر وغیرہ وہاں موجود ہوں گے تو پھر آپ کا دل سگریٹ پینے کو چاہنے لگے گا۔
٭صبح سویرے اٹھنے کی عادت اپنائیں‘تازہ فضا میں لمبے لمبے سانس لیں اورہلکی پھلکی ورزش کی عادت اپنائیں۔اس طرح آپ کو سگریٹ کی طلب کم ہوگی۔
٭سگریٹ نوشی کی عادت ختم کرنے کے لیے ادویات سے بھی مدد لی جاتی ہے جونکوٹین کی بہترین متبادل ہیں۔ایسا کرنے سے اس عادت کو جلدی چھوڑا جاسکتا ہے۔
٭اس سلسلے میںماہر نفسیات سے بھی مدد لی جاسکتی ہے جو ادویات کے بغیرآپ کا اپنی نگرانی میں علاج کرے گا۔
٭اپنے دوستوںاور گھروالوںکو بھی بتا دیں کہ آپ سگریٹ چھوڑ چکے ہیں تاکہ وہ اس سلسلے میں آپ کا ساتھ دیں۔
سگریٹ نوشی کی ایک شکل یہ بھی ہے کہ سگریٹ تو کوئی اور پیتا ہے لیکن اس کا دھواں آپ کو بھی متاثر کرتا ہے۔ تمباکو نوشی کی اس قسم کو سیکنڈہینڈ سموکنگ کا نام دیا جاتا ہے ۔ایسی خواتین جن کے شوہرزیادہ سگریٹ پیتے ہیں ان میں پھیپھڑوں کے کینسر کا امکان بڑھ جاتا ہے۔
زندگی بہت خوبصورت نعمت ہے‘ اسے دھوئیں کی نظر مت کریں۔اپنے معمولات زندگی میں ایسی مثبت اور صحت مندانہ تبدیلیاں لائیں جو آپ کی توجہ سگریٹ نوشی سے ہٹا سکیں ۔کھیل کود اور اس طرح کی دیگر سرگرمیاں اس حوالے سے معاون ثابت ہوسکتی ہیں۔واک زیادہ کریں‘ اس لئے کہ جب آپ واک کرتے ہیں توآکسیجن پھیپھڑوں کی آخری نالی تک پہنچتی ہے جس سے وہ صحت مند رہتے ہیں۔اس کے علاوہ سرکاری سطح پر بھی سگریٹ نوشی کے خلاف اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ لوگوں کو اس کے برے اثرات سے بچایا جا سکے ۔

مزید پڑھیں/ Read More

متعلقہ اشاعت/ Related Posts

سگریٹ نوش کو بالعموم معلوم ہوتاہے کہ سگریٹ کے دھوئیں کے

Leave a Reply

Leave a Reply

  Subscribe  
Notify of