ننھا بچہ‘ بڑا نوالہ

154

”اف ! کومل مجھے تو بھوک لگ رہی ہے ۔میں گھر جا رہی ہوں اور اب تک تو بھائی بھی جاگ گیا ہو گا۔ تم بھی میرے ساتھ چلو ناں۔ہم دونوں بھائی سے کھیلیں گی۔“ شیزاءکو اپنی سہیلی کے گھر آئے ابھی بمشکل 20منٹ ہی ہوئے تھے کہ اسے بھوک ستانے لگی۔ اس نے کومل کو بھی ساتھ چلنے کو کہا جسے فوراً مان لیا گیا۔
”مما ،میں آ گئی…کیا بھائی اب بھی سو رہا ہے ؟“اس نے آتے ہی پوچھا ۔
”جی ہاں !اور آپ بیٹھومیں آپ کو فرائزبنا کر دیتی ہوں۔“سعدیہ اسے بٹھا کر کچن کی طرف چلی گئیں۔
”ہیلو، میرے چھوٹے سے صائم ! ابھی فرائز آرہے ہیں۔ ہم سب مل کر کھائیں گے۔ آپ کو بھی تو بھوک لگی ہو گی ناں ؟“اس نے صائم سے باتیں کرتے ہوئے کہا۔
”السلام علیکم! کیسی ہے، میری چھوٹی گڑیا۔“ شیزاءکی دادی رضیہ بیگم نے سبزی کا تھیلا میز پر رکھتے ہوئے اسے پیار کیا ۔
”میں ٹھیک ہوں دادو۔ اور دیکھیں۔ بھائی سے باتیں کرنے آج کومل بھی میرے ساتھ آئی ہے۔“اس نے سہیلی کی طرف اشارہ کیا۔
”آپ لوگ یہ فرائز کھائیں ،میں دادی کو پانی دے کر آتی ہوں۔“سعدیہ نے باہر جاتے ہوئے کہا۔
”آج تو بازار میں بہت ہجوم تھا۔“انہوں نے پانی لیتے ہوئے سعدیہ سے کہا ۔ اتنے میں شیزاءدوڑتی ہوئی آئی :”مما!بھائی کو پتا نہیں کیا ہوا ہے…“اس نے جلدی سے کہا اور ماں کے ساتھ ہی اندر چلی گئی۔
”ارے میرے بیٹے کو کیا ہوا ۔بس بس بس!“سعدیہ نے اسے بہت بہلایا لیکن اس کے کھانسی ملے رونے میں کمی کی بجائے مزید شدت آنے لگی۔
”اماں، دیکھیں ناں! کیا ہوا ہے اسے …“اس نے صائم، ساس کو دیتے ہوئے کہا۔ شیزاءجو پریشان کھڑی تھی، فوراً بولی:
”میں نے تو کچھ بھی نہیںکیا مما۔ بس اسے کھلایا ہی ہے۔“اس نے ہلکی سی آواز میں بتایا جس پر سعدیہ کو غصہ آ گیا:
”شیزائ! یہ کیا کیا آپ نے۔ اتنے چھوٹے بچے کو فرائز کھلاتے ہیں بھلا؟“
”سعدیہ! تم جلدی سے اس کا دودھ بنا کر لے آﺅ۔“رضیہ بیگم نے صاف اور ملائم کپڑے سے بچے کا منہ صاف کرتے ہوئے کہا۔
”اماں، آلو کہیںاس کے گلے میں ہی نہ پھنس گئے ہوں۔ اسے ڈاکٹر کے پاس لے چلتے ہیں۔“سعدیہ نے پریشانی سے کہا۔ان کی ساس نے ایک ہاتھ پر صائم کو الٹا لٹایا اور دوسرے ہاتھ سے اس کی کمر کے اوپر والے حصے کو تھپتھپایا۔ اس سے آلو کا چھوٹا سا ٹکڑا باہر آ گیا ۔
”آلو نکل گیا ہے لہٰذا اب اس کی ضرورت نہیں۔“رضیہ بیگم نے سکون کا سکون لیتے ہوئے کہا ۔
”شیزائ! آپ نے فرائز کا کتنا بڑاٹکڑا اسے کھلایا تھا ؟“سعدیہ نے شیزاءسے پوچھا جو اب خاموش کھڑی تھی۔
”مما ،بس چھوٹا سا ٹکڑ ا ہی تھا ۔“اس نے منمناتے ہوئے کہا۔
”اس نے جو ٹکڑا اس کے منہ میں ڈالا تھا، وہ نکل گیا ہے۔ شکر ہے کہ کوئی نقصان نہیں ہوا۔“ انہوں نے صائم ، سعدیہ کو پکڑاتے ہوئے کہا جو دوبارہ سو چکا تھا۔ رضیہ بیگم کی نظر شیزاءپر پڑی جو ابھی تک خاموش کھڑی تھی۔ انہوں نے اسے اپنے پاس بلا لیا ۔
”آپ کیوں پریشان ہو شیزاء؟بھائی اب ٹھیک ہے۔ دیکھیں! وہ رو بھی نہیں رہا اور آرام سے سو گیا ہے ۔“انہوں نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا۔
”فرائز تو بہت مزے کے ہوتے ہیں۔کیا بھائی کو ڈاکٹر نے یہ کھانے سے منع کیا ہے؟“ اس نے معصومیت سے پوچھا۔
”وہ توآپ اور کومل کے لیے تھے۔ بھائی تو ابھی بہت چھوٹا ہے۔ وہ صرف دودھ پیتا ہے۔ اس کے تو ابھی تک دانت بھی نہیں آئے ۔اس لیے وہ فرائز کیسے چبائے گا ؟“انہوں نے اسے اپنے پاس بٹھاتے ہوئے کہا ۔
”لیکن دادو، میں نے تو اسے چھوٹا سا نوالہ دیا تھا۔“اس نے ہاتھ کی انگلی اور انگوٹھے سے اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
”بھائی اتنا چھوٹا نوالہ بھی نہیں کھا سکتا ناں۔ آپ آئندہ کھانے کی کوئی چیز اس کے منہ میںنہیں ڈالیں گی۔ اگر آپ نے ایسا کیا توبھائی بیمار ہو جائے گا اور پھر آپ سے باتیں بھی نہیں کرے گا۔ “انہوں نے اسے پیار سے سمجھایا۔
”میں آئندہ اس سے صرف باتیں کروں گی ۔صرف مما بھائی کو کھلائیں گی۔“اس نے وعدہ کیا ۔
”ہاں، اور میں بھی۔“دادو نے اسے بہلایا ۔
”تو میں کب کھلاﺅں گی اسے ؟“اس نے پوچھا ۔
”جب صائم بڑا ہو جائے گا تو آپ کے ساتھ فرائز کھائے گا۔ تب آپ اسے خوب کھلانا۔ ٹھیک ہے ناں۔“
”آج توصائم نے ڈرا ہی دیا تھا۔“سعدیہ نے ساس کے پاس بیٹھتے ہوئے کہا۔
”شیزاءابھی چھوٹی ہے، اس لیے صائم کو اس کے پاس اکیلا مت چھوڑا کرو ۔چھوٹے بچے بظاہر پیار کر رہے ہوتے ہیں لیکن چھوٹے بچے کے لئے وہ زحمت بن جاتا ہے۔“
”جی ہاں، آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں۔آج بھی وہ اسے جگانے کے لیے اپنے ہاتھ سے اس کی آنکھیں کھول رہی تھی۔ وہ تو شکر ہے کہ میںاس کے پاس ہی تھی۔“سعدیہ نے کہا۔
”مما ! میں اب بھائی کے ساتھ صرف باتیں کروں گی۔ دادو کہتی ہیں کہ مما اسے صرف دودھ پلائیں گی۔وہ ابھی بہت چھوٹا ہے ناں، اس لیے… ۔“اس نے دادی کے ساتھ ہونے والی بات اور وعدہ اپنی ماں کے ساتھ شیئرکیا۔
”جی ہاں! وہ بالکل ٹھیک کہتی ہیں۔“آپ آئندہ خیال رکھیے گا۔اور اب جلدی سے اٹھیں، میں آپ کے کپڑے تبدیل کر دوں۔کافی گندے کر لیے ہیں آپ نے۔“
سعدیہ نے اسے کہا اور اس کا ہاتھ پکڑ کر واش روم کی طرف بڑھی۔
سانس کی نالی میں لقمہ‘ہڈی ےا کوئی اور چیز پھنس جائے تومتاثرہ فرد کو نہ صرف سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے بلکہ بعض صورتوں میں اس کی موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔ اس لئے ہر فرد کو اس جان لےوا کےفےت سے چھٹکارے کا طریقہ کسی ماہر سے ضرور سےکھنا چاہئے ۔


بالغ ا فراد کےلئے طرےقہ کار

cpr_1FA6

بالغ افراد کیلئے درج ذیل ہداےات پر عمل کریں:
٭متاثرہ شخص سے پوچھیں کہ کیا ا س کے گلے میں کوئی چیز پھنس گئی ہے؟ اگر وہ کچھ نہ بول سکے تو آپ کچھ دےگر علامات سے اس کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ مثلاً متاثرہ شخص کو بولنے اور سانس لینے میں دشواری کا ہونا‘ چہرے اور ہونٹوں کی رنگت کا نیلا ےاکالا ہوجانااور اس کا اپنے گلے کو پکڑنا وغےرہ ۔
٭اگراس شخص کا کھانسنا‘سانس لینا اور بولنا جاری ہو تو اسے یہ سب کچھ کرنے دیںکیونکہ کھانسنے سے اکثرگلے میں پھنسی ہوئی چیز نکل جاتی ہے۔
٭اگر متاثرہ شخص کا کھانسنا اور سانس لینا بند ہو جائے تو اسے پیچھے کی جانب سے جا کر کمر سے پکڑ لیںاور اپنے دائیں ہاتھ کی مٹھی اس کی ناف سے اوپر اور پسلیوں سے نیچے رکھیں۔ اب بائیں ہاتھ سے مٹھی کو اوپر کی جانب جھٹکا دےں۔ اگر سانس کی نالی میں اٹکی ہوئی چیز باہر آجائے اور متاثرہ شخص بے ہوش ہو تواسے فوراً ڈاکٹر کے پا س لے جائیں۔
٭اگر کوشش کے باوجود سانس کی نلی میں پھنسی ہوئی چیز باہر نہ آئے اور مریض کا کھانسنا اور سانس لینا بھی بند ہوتو فوری طور پر ایمبولینس کے لئے فون کریں اور ابتدائی طبی امداد جاری رکھیں۔مرےض کو پیٹھ کے بل زمین پر لٹائیں اور اس کی ٹھوڑی اوپر اور سر نیچے کی جانب کردیں ۔ایسا کرنے سے متاثرہ شخص کو سانس لینے میں آسانی ہوگی۔اب اسے مصنوعی سانس دینے کی کوشش کریں ۔ اس دوران آپ کی نظریں اس کے سینے پر ہوں او ر کان سے اس کی سانسوں کی آواز سنیں۔ اگر سانس کی آوازنہ آئے اور سینے مےں حرکت بھی محسوس نہ تو اپنی ایک ہتھیلی اس کے سینے پر رکھیں اور دوسرا ہاتھ پہلے ہاتھ پر رکھ کر دباﺅ ڈالیں۔یہ عمل سانس کی بحالی تک جاری رکھیں اور یہ بھی دیکھتے رہیں کہ گلے میں اٹکی ہوئی چیز نظر آئی ہے یا نہیں۔ اگر وہ چیز باہر آجائے تو اسے اپنی دو انگلیوں سے باہر نکالنے کی کوشش کریں۔
ایک سال سے آٹھ سال کا بچہ

٭تصویر کے مطابق بچے کو اپنے گھٹنے پرلٹائیں اور اس کی پیٹھ پر دونوں کندھوں کے درمیا ن ہلکی ہلکی تھپکی دیں ۔پھنسی ہوئی چیز باہر نکل آئے گی۔
٭تصویرمیں دکھائی گئی حالت میں اپنے بچے کو تھامیں۔اب اپنی دو انگلیاں بچے کے سینے کی ہڈی پر رکھیں اور انہیں تھوڑا سا نیچے اورپھر اوپر یعنی بچے کی منہ کی جانب دھکیلیں۔ایسا کرنے سے گلے میں پھنسی ہوئی چیز باہر آجائے گی۔ اگر مسئلہ برقرار رہے تو فوری طور پر بچے کو ہسپتال لے جائیں۔
آٹھ سال سے بڑا بچہ
ان بچوں کےلئے درج ذیل ہدایات پر عمل کریں۔
٭بچے کو کھانسنے دیں اور اسے گھٹنوں کے بل جھکا دیں ۔ اس کے بعد اس کی پیٹھ پر زورزور سے تھپکی دیں۔ ایسا کرنے سے اس کے گلے میں پھنسی ہوئی چیز باہر نکل آئے گی۔ اس کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ آپ بچے کو اپنے گھٹنوں پر اس طرح لٹائیں کہ آپ کے دونوں گھٹنے اس کے پیٹ کے درمیان میں آئیں اور پھر اس کی پیٹھ پر زور سے تھپکی دیں۔
٭اگر بچے کے گلے میں پھنسی ہوئی چیز باہر نہ آئے اور وہ بے ہوش ہو جائے تو اسے مصنوعی سانس دیں اور اس کے سینے پر دباﺅ ڈال کر سانس بحال کرنے کی کوشش کریں۔یہ عمل بالکل اسی طرح کریں جیسے بڑی عمر کے افراد کو طبی امداد دیتے وقت کیا جاتا ہے۔

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x