نیند کی روٹھی دیوی

504

    اگر لوگوں سے پوچھا جائے کہ زندگی کی بقاءکے لئے کون کون سی چیزیں ضروری ہیں تو ان کی غالب اکثریت ہوا‘ پانی اور غذا کا ہی تذکرہ کرے گی لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس ضمن میں ایک اور چیز”نیند“ بھی بہت اہم ہے۔ انسان اور جانورفاقوں کے باوجود لمبے عرصے تک زندہ رہ سکتے ہےں لیکن نیند کے بغیرایسا کرناممکن نہیں‘ اس لئے کہ نیند ہمارے جسم کو تازہ دم کرتی ہے۔ اس لئےہر صحت مند انسان کو روزانہ چھ سے آٹھ گھنٹے ضرور سونا چاہئے۔ ا گر کوئی شخص مسلسل بے خوابی (انسومنیا ) کا شکار رہے تو وہ سردرد اور جسمانی تھکاوٹ کے علاوہ امراض معدہ میں بھی مبتلا ہو سکتا ہے۔ مزیدبرآں اس کی کارکردگی پر بھی منفی اثر پڑتا ہے۔

بے خوابی کی وجوہات
بے خوابی کا سب سے بڑاسبب دماغ میں دوران خون کی کمی ہے تاہم چائے یا قہوے کا زیادہ استعمال اور پریشانی میں مبتلا رہنا بھی اسی کی وجوہات میں شامل ہےں۔ نظامِ انہضام کی خرابی کے علاوہ جوڑوں یا کمر کے درد، ذیابیطس، سانس کی تکلیف، بخار اوردمے کی وجہ سے بھی نیند متاثر ہوسکتی ہے۔ ڈپریشن، ذہنی تناو، بے چینی اورنشے کی عادت بھی اس کی اہم وجوہات ہیں۔ یہ بیماری خواتین اور بزرگ افراد میں زیادہ پائی جاتی ہے۔ اگربے خوابی کابروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ دائمی صورت بھی اختیارکرسکتی ہے۔

مرض کی علامات
رات کو نیند نہ آنا، ایک دفعہ غنودگی چھا جانے کے بعد نیندکا اچانک غائب ہوجانا، پیاس زیادہ لگنا، دل کی دھڑکن کا بڑھ جانا، طبیعت بے چین اور پریشان رہنا، صبح وقت سے پہلے جاگ جانا، دن کے وقت نیند یا غنودگی کے باعث کام کا متاثر ہونا وغیرہ اس کی بنیادی علامات ہیں۔

بے خوابی کی اقسام
بے خوابی کی مندرجہ ذیل تین اقسام ہیں:
٭ اگر بستر پر سونے کے لئے لیٹنے کے بعد 30 منٹ تک نیند نہ آئے تو اسے طب کی زبان میں نیند کانہ آناکہا جاتا ہے۔
٭ اگر بستر پرلیٹتے ہی آپ کونیند تو آجائے لیکن رات کو بار بار آنکھ کھلتی رہے، آنکھ کھلنے کے بعد آپ کافی دیر تک جاگتے رہیں اور جب صبح کے وقت ان تمام وقفوںکو جمع کیا جائے تو آدھا گھنٹہ یا اس سے زیادہ کا وقت بنے تو اس کیفیت کو نیند میں تسلسل نہ ہونے سے تعبیر کیا جائے گا۔
٭ اگر صبح اٹھنے کے مقررہ وقت سے آدھا گھنٹہ پہلے آنکھ کھل جائے تو اسے وقت سے پہلے جاگنا کہا جاتا ہے۔
قابو کیسے پائیں
بیماری کی تشخیص کے بعد معالج مریض کو سونے کے مندرجہ ذیل اصولوں پر عمل کرنے کی ہدایت کرتا ہے:
٭ باقاعدہ ورزش کریں۔
٭ رات کے وقت چائے، کافی یا کسی بھی نشہ آور چیز کے استعمال سے پرہیز کریں۔
٭ بستر کومطالعے‘ موبائل فون پرگیمز کھیلنے وغیرہ کی بجائے صرف سونے کے لئے استعمال کریں۔
٭ صبح اٹھنے کا وقت مقرر کرلیں۔ رات کو جتنا بھی جلدی یا دیر سے سوئیں‘ صبح اٹھنے میں اس وقت کی پابندی کریں جو آپ نے مقرر کیا ہے۔
٭ اگر آپ سونے کے لئے لیٹے ہیں اور 20 سے30 منٹ تک نیند نہیں آئی تو بستر سے اٹھ کر دوسرے کمرے میں چلے جائیں اورمطالعے یا کسی ایسے کام میں مصروف ہوجائیں جو آپ کو اچھا لگتا ہے۔
٭ سونے سے پہلے ڈائری لکھنے کی عادت ڈالیں جس میں پورے دن کے کاموں کی تفصیل ،نیند نہ آنے کی ممکنہ وجوہات اور آرام کرنے کا دورانیہ تفصیل سے قلمبند کریں۔ ایسا کرنے سے مریض نہ صرف بے خوابی کے اسباب سے آگاہ رہے گا بلکہ ڈاکٹرکو بھی مرض کی وجہ جاننے میں آسانی ہوگی۔
٭کچھ لوگ پرسکون نیند کے لئے خواب آور ادویات بھی استعمال کرتے ہیں۔ انہیں ڈاکٹر کے مشورے کے بغیرہرگزاستعمال نہ کیا جائے۔

نیند کے لئے لیبارٹری
شفاانٹر نیشنل ہسپتال میں نیند سے متعلق مسائل کی تشخیص اور علاج کے لئے ایک لیبارٹری قائم کر رکھی ہے جسے ”سلیپ لیب“ کہاجاتا ہے۔یہ ایک خوبصورت خواب گاہ ہے جہاں مریض کی ضروریات کے مطابق اسے تمام سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں جس کا بنیادی مقصد مریض کو گھر جیسا ماحول فراہم کر کے نیند سے متعلق مختلف بیماریوں کی احسن طریقے سے تشخیص کرنا ہے۔
جب مریض لیب میں آتا ہے تو اس کے بستر پر لیٹنے کے بعد اس کے دماغ کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لئے ایک تار لگائی جاتی ہے ۔ اس کے علاوہ اس کے ناک پر ایک سنسر (sensor) چسپاں کر دیا جا تا ہے تاکہ نیند کے دوران سانس کے تسلسل پر نظر رکھی جاسکے ۔خراٹوں کی رفتار اور شدت کی جانچ کے لئے منہ کے قریب مائیک رکھ دیا جاتا ہے ۔سینے اور پیٹ پر بیلٹ لگا کر مریض کے سانس کی رفتار اور تسلسل کا اندازہ لگایا جاتا ہے ۔دل کی دھڑکن کے معائنے کے لئے ”ای سی جی لیڈ“ لگائی جاتی ہے ۔نیند کے دوران ٹانگوں کو لگنے والے جھٹکوں کو ماپنے کے لئے ٹانگوں سے مخصوص تاریں منسلک کی جاتی ہیں ۔ ساری رات مختلف کیمرے مریض کی نیند کے دوران ہونے والی تبدیلیوں کا جائزہ لیتے رہتے ہیں۔ اس طرح ایک مفصل رپورٹ تیار کی جاتی ہے جو اصل مسئلے کی تشخیص میں مدد دیتی ہے :

 نیند کے دوران سانس رکنا
نیند کے دوران کچھ مریضوں کاسانس تھوڑی دیر کے لئے رک جاتا ہے جسے سلیپ اپنیا(sleep apnea)کہا جاتا ہے۔سانس میں رکاوٹ کا دورانیہ چندسیکنڈز سے ایک منٹ تک ہوسکتا ہے ۔ ایسا عموماً ایک گھنٹے میں 30بار ہوتا ہے جس کے باعث وہ اپنی نیند میں تسلسل برقرا ر نہیں رکھ پاتے۔ بیدار ہونے پروہ تھکاوٹ کا شکارہوجاتے ہیں جو دن بھر برقرار رہتی ہے ۔کام میں ان کا جی نہیں لگتا ۔ وہ بیٹھے بیٹھے سوجاتے ہیں لیکن پھر بھی نیند پوری نہیں کرپاتے۔ لیب میں اس مرض کی تشخیص ہوجاتی ہے ۔

 موٹاپا‘ نیند میں خلل
موٹاپا کے باعث ٹھیک طرح سے سانس نہ لے پانا (obesity hypoventilation syndrome) بھی نیند میں خلل کا ایک سبب ہے۔ایسے لوگوں کی مشکل آسان کرنے کے لئے انہیں سی پیپ (continous positive airway pressure) نامی مشین لگائی جاتی ہے جو ان کے منہ میں زور سے ہوا پھونکتی ہے۔ اس طرح مریض کا سانس بحال رہنے کی وجہ سے مریض میٹھی نیند کے مزے لیتا رہتا ہے۔

 ٹانگوں میں جھٹکے:
اس مرض (periodic lymph movement disorder) میں مبتلا مریضوں کو نیند کے دوران ٹانگوں میں جھٹکے لگتے ہیں جن کے باعث ان کی نیند متاثر ہوتی ہے ۔ ایسے مریضوں کے مرض کی تشخیص بھی اس لیب میں کامیابی سے کی جاسکتی ہے ۔