سردیوں میں جلد کے مسائل

سردیوں میں ہوا میں نمی کا تناسب کم ہوجاتا ہے جس کا منفی اثر ہماری جلد پر پڑتا ہے اور وہ خشک اور بے رونق ہو جاتی ہے۔ بُلے وارڈ ہسپتال کراچی کے ماہر امراض جلد ڈاکٹر ندیم صدیقیِ ٹھنڈے موسم کے عام مسائل اور ان سے محفوظ رہنے کے طریقوں پر روشنی ڈال رہے ہیں 

سردیوں میں جلد کی کون سی بیماریاں زیادہ عام ہیں؟

سردیوں میں جلد کے جن مسائل کا زیادہ سامنا رہتا ہے‘ ان میں چہرے اور ہاتھوں کی جلد کا خشک ہونا نمایاں ہے۔ اگر یہ بہت زیادہ خشک رہے تو جلد کی سوزش ہو جاتی ہے جسے چنبل یا ایگزیما کہتے ہیں۔ بچوں کی جلد زیادہ نرم ہوتی ہے لہٰذا ان کے گال سرخ ہو کر پھٹنے لگتے ہیں۔ بڑوں کے پاﺅں کی ایڑیوں اور ہتھیلی کی جلدبھی پھٹنے لگتی ہے۔ اس موسم میں صرف جلد ہی نہیں بال بھی متاثر ہوتے ہیں اورخشک ہو کر ٹوٹنا شروع ہو جاتے ہیں۔

جلد خشک کیوں ہوتی ہے اور اس مسئلے سے کیسے محفوظ رہ سکتے ہیں؟

گرمیوں میں پسینے اور چکنائی کی وجہ سے جلد خشک نہیں ہوتی۔ پھر ہوا میں بھی کافی حد تک نمی موجود ہوتی ہے جبکہ سردیوں میں اس کا تناسب کم ہو جاتا ہے۔ یوں ہوا انسانی جسم سے نمی کھینچ لیتی ہے اور لوگوں میں جلد کے خشک ہونے اور اس کے پھٹنے کی شکایات بڑھ جاتی ہیں۔ اکثر لوگ اس موسم میں زیادہ گرم پانی سے نہاتے ہیں جس کی وجہ سے جلد سے ضروری چکنائی بھی ختم ہوجاتی ہے۔ بعد میں تولئے کی مدد سے جلد کو صاف کرنے اور رگڑنے سے وہ مزید خشک ہو جاتی ہے۔ بعض صابن بھی اسے خشک کرتے ہیں۔

اس سے بچنے کے لیے ضروری ہے صابن کا استعمال کم کیا جائے۔ بازار میں کچھ ایسے صابن بھی ملتے ہیں جن میں گلیسرین اور موئسچرائزرز شامل ہوتے ہیں۔ ان سے ہاتھ دھونے پر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہلکی سی چکنائی ہاتھوں پر رہ گئی ہو ۔ ان کا استعمال بھی جلد کے لیے مفید ہے۔ نہاتے وقت پانی نیم گرم ہونا چاہیے جس سے ٹھنڈ بھی محسوس نہ ہو اور وہ جلد کے لیے بھی مفید ہو۔ نہانے کے بعد تولیے کی مدد سے پانی ہلکا سا خشک کر لیں اور کوشش کریں کہ گیلے جسم پر موئسچرائزر استعمال کریں۔ خشک کی نسبت گیلے جسم پر لگایا گیا موئسچرائزر زیادہ بہتر انداز میں جلد میں جذب ہو جاتا ہے۔

موئسچرائزر کسے کہتے ہیں؟ یہ خشکی سے محفوظ رکھنے میں کتنا اہم ہے؟

موئسچرائزر ایسی چیز کو کہتے ہیں جو جلد میں پانی کی مقدار کو قائم رکھے۔ پہلے زمانے میں لوگ اس ضرورت کو پورا کرنے کے لئے آئل استعمال کیا کرتے تھے۔ آج کل اس مقصد کے لئے مختلف موئسچرائزرز دستیاب ہیں۔ آپ اپنی پسند کا لوشن یا کولڈ کریم لگائیں مگر اسے خریدتے وقت اس بات کا دھیان رکھیں کہ اس میں مصنوعی خوشبو یارنگ کم ہو۔ پٹرولیم جیلی بھی جلد کو نم رکھتی ہے۔

مارکیٹ میں کچھ ایسے لوشن اور کریمیں بھی ہیں جو جلد کی نوعیت کے مطابق مختلف فارمولوں پر بنائی گئی ہوتی ہیں۔ ان پر لکھا ہوتا ہے کہ یہ کس قسم کی جلد (مثلاًچکنی ،خشک یا حساس)کے لیے ہیں۔ نارمل جلد کے لیے کوئی بھی کولڈ کریم فائدہ مند ہوتی ہے۔

کیا گیس ہیٹر جلد کے لیے نقصان دہ ہے؟

بعض علاقوں میں سخت سردی کی وجہ سے گیس ہیٹر کا استعمال زیادہ کیا جاتا ہے۔ عام مشاہدہ ہے کہ گیس ہیٹر کے سامنے اگر کھانے کی کوئی چیز رکھیں تو وہ خشک ہو جاتی ہے۔ اسی طرح زیادہ دیر تک ہیٹر کے سامنے رہنے سے جلد خشک اور روکھی ہو جاتی ہے۔ اس لیے اس کا استعمال کم کریں یا اس کے اوپر یا سامنے ایک برتن میں پانی رکھ دیں تاکہ کمرے میں نمی کی مقدار برقرار رہے۔

گیس ہیٹر-شفانیوز

بزرگوں کے لیے یہ موسم ذرا زیادہ مشکل ہوتا ہے۔ انہیں کیا کرنا چاہئے؟

کسی چیز کی کمی یا بیشی سبھی کو متاثر کرتی ہے لیکن بزرگ اس سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ ان کے جسم میں اس تبدیلی کو سہنے کی استعداد کم ہوتی ہے۔ سردی سے محفوظ رہنے کے لئے بزرگ حضرات خود کو اچھی طرح سے ڈھانپ کر رکھیں، گرم مشروبات مثلاً یخنی اور پھلوں کے رس کا استعمال زیادہ کریں۔ چائے‘ کافی وغیرہ سے پرہیز کریں کیونکہ یہ پیشاب آور ہوتی ہیں اور انہیں پینے کی صورت میں پیشاب زیادہ آنے کی وجہ سے بزرگوں کو مشکل کا سامنا رہتا ہے۔ اس کے علاوہ جلد کو خشک ہونے سے بچائیں۔

کیا گرم کپڑوں کا استعمال الرجی یا خارش کا باعث بن سکتا ہے؟

بعض لوگوں کی جلد حساس ہوتی ہے یا انہیں اون (wool)سے الرجی ہوتی ہے۔ لہٰذا وہ اس کے بنے ہوئے کپڑے نہیں پہن سکتے۔ جو لوگ چنبل کی ایک قسم اٹوپک ڈرماٹائٹس (Atopic dermatitis) سے متاثر ہوں، انہیں اس موسم میں جلد کے زیادہ خشک ہونے کی وجہ سے شدید ایگزیما بھی ہو سکتا ہے۔ انہیں چاہیے کہ اون کے کپڑوں کے نیچے کاٹن کی کوئی چیز پہنیں تاکہ اس سے محفوظ رہا جا سکے۔

سردیوں میں ہونٹوں کی حفاظت کیسے کی جائے؟

دیکھا گیا ہے کہ سردی کے موسم میں جب ہونٹ خشک ہوتے ہیں تو انہیں نم رکھنے کے لیے لوگ ان پر زبان پھیرتے ہیں۔جیسے زبان کی فراہم کردہ نمی ختم ہوتی ہے، ہونٹ پہلے سے بھی زیادہ خشک ہو جاتے ہیں۔ جب ہونٹوں پر پپڑیاںبنتی ہیں تو لوگ انہیں دانتوں یا ہاتھوں کے ذریعے نوچتے رہتے ہیں جس سے زخم بن جاتے ہیں ۔ان مسائل سے نجات کا آسان طریقہ چیپ سٹک (chapstick) یابام وغیرہ کا استعمال ہے جس سے ہونٹ نرم رہیں گے۔

سرد موسم میں جلد کا رنگ گہرا کیوں ہوتا ہے؟

سردیوں میں اس کا رنگ گہرا ہونے کی دو اہم وجوہات ہیں۔ پہلی یہ کہ گرمیوں میں گرمی کی وجہ سے لوگ دھوپ میں نکلنے سے گریز کرتے ہیں۔ اس کے برعکس سردیوں میں وہ نہ صرف دھوپ میں بیٹھتے ہیں بلکہ ان کا چہرہ بھی عموماً سورج کی طرف ہوتا ہے۔ اس سے اس کی رنگت خراب ہو جاتی ہے۔ لوگوں میں ایک غلط خیال یہ بھی پایا جاتا ہے کہ اس موسم کی دھوپ جلد کو نقصان نہیں پہنچاتی حالانکہ ایسا نہیں ہے۔

سردیوں کی دھوپ بھی گرم موسم جتنی ہی سخت ہوتی ہے اور اتنا ہی نقصان پہنچاتی ہے۔ اس موسم میں بھی ماہرین سن بلاک استعمال کرنے کا مشورہ دیتے ہیں تاکہ سورج کی مضرصحت شعاعوں سے بچا جا سکے۔ اگر دھوپ میں بیٹھنے کو دل چاہ رہاہو تو سورج کی طرف منہ نہیں بلکہ کمر کر کے اور سن بلاک لگا کر بیٹھیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ لوگ اس موسم میں پانی کم پیتے ہیں جس سے جسم میں پانی کی کمی ہوجاتی ہے اور جلد کو پانی نہ ملنے کی وجہ سے وہ خشک اور گہری ہونے لگتی ہے۔

سردیاں-شفانیوز

کیا سردیوں میں بھی گرمیوں جتنا ہی پانی پینا چاہئے؟

سرد موسم کی وجہ سے لوگوں کو پیاس کم محسوس ہوتی ہے لہٰذا وہ پانی کم پیتے ہیں۔ انہیں چاہیے کہ سات سے آٹھ گلاس پانی لازماً پیئیں تاکہ جسم میں پانی کی کمی نہ ہونے پائے۔ اس سے ان کے گردوں پر بھی اچھا اثر پڑے گا اور جلدبھی تر و تازہ رہے گی۔

سردیوں میں بالوں کی حفاظت کیسے کریں؟

سردیوں میں جسم کے دیگر حصوں کی جلد کی طرح سر کی جلد بھی خشک ہو جاتی ہے۔ اس لیے ہفتے میں ایک دفعہ سر میں آئل ضرور لگائیں یا ایسا شیمپو استعمال کریں جو اینٹی ڈینڈرف ہو۔ شیمپو کا زیادہ استعمال بھی بالوں کے لیے نقصان دہ ہے۔ اس لیے اس کی کچھ مقدار پانی میں مکس کرکے بالوں میں لگائیں۔ کنڈیشنر کے استعمال سے بال خشک نہیں ہوں گے۔ بالوں کو بھی موئسچرائزڈ رکھناجلد جتناہی ضروری ہے۔

حجاب کرنے والی خواتین کے سر میں خشکی اور بال گرنے کا مسئلہ زیادہ ہوتا ہے۔ انہیں کیا کرنا چاہئے؟

حجاب خواتین کے لئے بہتر ہے کیونکہ اس کی وجہ سے بال فضا میں موجود آلودگی سے براہ راست رابطے میں نہیں آتے۔ ایسی خواتین کو چاہئے کہ شیمپو سے پہلے بالوں پر تیل لگائیں اور انہیں زیادہ گرم پانی سے دھونے سے گریز کریں۔ حجاب اتارنے کے بعد بالوں میں موجود پسینے کو خشک کریں کیونکہ یہی پسینہ بعد میں خشکی کی تہہ بننے کا سبب بنتا ہے۔  جب بال کمزور ہوتے ہیں تو ان کے ٹوٹنے کی شکایت بھی بڑھ جاتی ہے۔

سردیوں میں مہاسوں سے جلد کو کیسے بچائیں؟

خشک موسم میں بعض لوگوں کو مہاسوں کی شکایت ہوجاتی ہے۔ ایسے میں ماہر امراض جلد سے معائنہ کروائیں اور اپنی جلد کے موافق موئسچرائزر استعمال کریں۔ بعض موئسچرائزرز میں آئل کی مقدار زیادہ ہوتی ہے لہٰذا یہ جلد کے مساموں کو بند کر کے مہاسوں کا سبب بنتا ہے۔ لہٰذا کوئی بھی لوشن خریدتے وقت خیال رکھیں کہ و ہ جلد کے مساموں کو زیاہ بند نہ کرے اور جلد کی نمی کو بھی برقرار رکھے۔ اس کے ساتھ ساتھ پانی بھی مناسب مقدار میں استعمال کریں۔

کیل مہاسے-شفانیوز

بچوں کی جلد کو ٹھنڈ کے برے اثرات سے کیسے بچایا جا سکتا ہے؟

بچوں کی جلد نرم اور زیادہ حساس ہوتی ہے اور ان پر سردی کا اثر بھی زیادہ ہوتا ہے۔ اس لیے انہیں ڈھانپ کر رکھنا زیادہ ضروری ہے لیکن انہیں بہت زیادہ ڈھانپنا بھی ٹھیک نہیں۔ بڑوں کی نسبت انہیں موئسچرائزر کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے اور اگر اس کا استعمال نہ کیا جائے تو ان کے گال سرخ ہو کر پھٹنا شروع ہو جاتے ہیں۔ اس سے بچنے کے لیے لوشن ،کولڈ کریم اور گلیسرین ضرور لگائیں۔ اس سے عام طور پر یہ مسئلہ حل ہو جاتا ہے اور اگر ایسا نہ ہو تو پھر ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

سیکنڈ ہینڈ گرم کپڑوں کو استعمال کرتے وقت کن باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے؟

ایسے کپڑوں میں جراثیم ہوتے ہیں لہٰذا ضروری ہے کہ انہیں ڈرائی کلین کروا لیا جائے۔ انہیں گرم پانی سے دھو کر تیز دھوپ میں سکھایا جائے تو ان میں موجود جراثیم ختم ہو جاتے ہیں۔ جب بھی نئے موسم کے کپڑے اور بستر نکالیں تو انہیں دھوپ ضرور لگوائیں۔

خشک میوہ جات جلد کے لیے کتنے مفید ہیں؟

سرد موسم میں لوگ مچھلی اور مختلف میوہ جات کا استعمال بڑھا دیتے ہیں۔ یہ تمام چیزیں صحت کے لیے اچھی ہیں لیکن اگر کسی کو ڈرائی فروٹس کھانے سے مہاسے بڑھتے ہوں تو ان کا استعمال کم کر دیں۔ وٹامن سی سے بھرپور غذائیں جلد کے لیے مفید ہیں۔ گاجر اور مالٹا اس موسم کی خاص سوغات ہے۔ مالٹا سردیوں میں جلد پر پڑنے والے مضرصحت اثرات سے بچاتا ہے۔ اس کا جوس جلد کے لیے بہت فائدہ مند ہے۔

برتن اور کپڑے دھونے کے بعد ہاتھوں کو موئسچرائز کرنا کتنا ضروری ہے؟

خواتین جب برتن یا کپڑے دھوئیں تو اس کے فوراً بعد ہلکے گیلے ہاتھوں سے پیٹرولیم جیلی یا کولڈ کریم ضرور لگائیں۔ ان میں ایسے کیمیکلز پائے جاتے ہیں جو ہاتھوں کی جلد کو روکھا اور خشک کرتے ہیں۔ پہلے پہل خواتین گھر میں ہی گلیسرین، عرق گلاب اور لیموں کا رس ملا کر ایک مکسچر بنا کر استعمال کر لیتی تھیں۔ جلد کے لیے یہ اب بھی کارآمد ہے اور جن لوگوں کو خشک جلد کا مسئلہ ہو‘ ان کے لیے باقاعدگی سے اس کا استعمال مفید ہے۔ اگر خشک جلد کو کنٹرول نہ کیا جائے تو وہ بڑھ کر ایگزیما کی شکل اختیار کر لے گی۔

کیا تمام طرح کے لوشن جلد کے لیے مفید ہیں؟

لوشن اور موئسچرائزر میں اہم چیز گلیسرین ہی ہوتی ہے جو جلد کو خشکی سے بچاتی ہے۔ اس لیے اپنی پسند کا لوشن استعمال کرسکتی ہیں۔ چہرے کے لیے استعمال کی جانے والی بعض کریموں میں سٹیرائیڈز ہوتے ہیں،اس لیے ان کے استعمال میں احتیاط کریں۔ ایسی کریمیں جو رنگ گورا کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں، ان میں مرکری(Mercury) کا تناسب زیادہ ہوتا ہے ۔ایسی کریمیں گردوں پر منفی اثر ڈالنے کے علاوہ چہرے کی جلد کے لیے بھی نقصان دہ ہیں۔ اس لیے ان کے استعمال سے گریز کریں۔

اچھی اور صحت مند جلد کے لئے ضروری ہے کہ اچھی اور متوازن غذا ءاستعمال کریں۔ روزانہ چھ یا آٹھ گھنٹے کی نیند ضرور لیں، تازہ پھلوں کا جوس پیئیں، پانی اور سبزیوں کا استعمال زیادہ کریں۔ اس کے علاوہ ورزش کو اپنا معمول بنائیں۔ اس سے عمومی صحت بہتر ہونے کے ساتھ ساتھ آپ کی جلد پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

skin issues in winters, sardiyon mai jild k masail, dry skin in winters,  wool allergy, interview, health, shifa news

Vinkmag ad

Read Previous

پریشانی سے بچنے کے لئے آپ کیا کرتے ہیں ؟

Read Next

ایسی ہار‘ ایسی جیت

Most Popular