Vinkmag ad

سائنوسائٹس

ہمارے سر اور چہرے کی ہڈیوں کے درمیان کچھ خالی جگہیں (sinuses) ہوتی ہیں۔ یہ بنیادی طور پر سر کے سامنے، آنکھ کی سائیڈ، گال میں اور دماغ کے پیچھے والی ہڈی میں ہوتی ہیں۔ ان میں سوزش یا سوجن کو سائنوسائٹس (sinusitis) کہتے ہیں۔ یہ خلائیں چھوٹی چھوٹی نالیوں کے ذریعے ناک سے جڑی ہوتی ہیں۔ ان کا کام ناک کے اندر داخل ہونے والی ہوا کی صفائی، اسے نم کرنا اور سر کی ہڈی کو ہلکا رکھنا ہے۔

ان کی سطح پر ٹشو کی لائننگ بھی ہوتی ہے۔ اس سے ایک رطوبت بنتی ہے جو ناک سے خارج ہو کر اس کی صفائی کرتی ہے۔ عموماً یہ ہوا سے بھری ہوتی ہیں تاہم اگر ان میں کسی وجہ سے مائع بھر جائے تو یہ بند ہو جاتی ہیں۔ نتیجتاً جراثیم وہاں نشوونما پانے لگتے ہیں اور ٹشو میں سوزش یا سوجن ہوتی ہے۔ یوں فرد انفیکشن کا شکار ہو جاتا ہے جسے سائنوسائٹس کہا جاتا ہے۔

یہ انفیکشن کسی بھی فرد کو ہو سکتا ہے۔ تاہم ناک کی الرجی یا ناک کے غدود (نیزل پولپس) کی صورت میں  اس کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔

وجوہات کیا ہیں

یہ انفیکشن وائرس، پھپھوندی یا بیکٹیریا کی وجہ سے ہو سکتا ہے۔ نزلہ زکام، الرجی، ناک کے غدود، ناک کو دو حصوں میں تقسیم کرنے والی ہڈی کا سیدھا نہ ہونا اور مدافعتی نظام  کی کمزوری اس کی عام وجوہات ہیں۔ بعض لوگوں کے خیال میں نمی اس مسئلے کا باعث بنتی ہے حالانکہ یہ درست نہیں۔ اگر الرجی اس کا سبب ہو تو یہ مختلف طرح کی چیزوں مثلاً پولن یا گرد وغیرہ سے ہو سکتی ہے۔

نمی سے اس کا تعلق یہ بنتا ہے کہ نم ماحول میں پھپھوندی کی افزائش کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ جن افراد کو اس سے الرجی ہو ان میں نمی والے علاقوں میں جانے سے یہ مسئلہ ہو جاتا ہے۔

علامات کیا ہیں

٭ سر بھاری ہونا۔

٭ جس سائی نس میں مسئلہ ہو وہاں اور اس کے اردگرد موجود حصوں مثلاً دانتوں، کان یا سر میں درد ہونا۔

٭ ناک سے گاڑھی رطوبت خارج ہونا یا ناک بند ہو جانا۔

٭ آواز بھاری ہونا۔

٭ چہرے پر دباؤ محسوس ہونا۔

علاج کے طریقے

علاج کا انحصار مرض کی شدت اور اس کے سبب پر ہوتا ہے۔ انفیکشن کی صورت میں:

٭ بند سائی نس کو کھولنے والے سپرے تجویز کیے جاتے ہیں۔

٭ سیلائن واٹر (نمکین پانی) سے ناک کی صفائی کی جاتی ہے۔

٭ الرجی یا نزلہ زکام کی ادویات دی جاتی ہیں۔

ناک کی ہڈی ٹیڑھی ہو، غدود بنے ہوں یا پھپھوندی سے انفیکشن ہوا ہو تو ان کے لیے سرجری کا آپشن استعمال ہوتا ہے۔

ڈاکٹر سے کب رابطہ کریں

زیادہ تر صورتوں میں متاثرہ افراد 7 سے 10 دنوں میں ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ ایسا نہ ہو یا یہ علامات ظاہر ہوں تو ڈاکٹر سے رجوع کریں:

٭ سر درد اور چہرے پر دباؤ یا دیگر علامات کی شدت غیر معمولی ہو۔

٭ علامات ٹھیک ہونے کے بجائے مزید بگڑتی جائیں۔

٭ تین سے چار دن سے زیادہ بخار رہے۔

٭ بار بار انفیکشن ہو۔

کرنے کے کام

سائنوسائٹس سے بچنے یا علاج کو مؤثر بنانے کے لیے ان ہدایات پر عمل کریں:

٭ جس چیز سے الرجی ہو اس سے دور رہنے کی کوشش کریں۔

٭ کسی خاص موسم میں یہ مسئلہ ہوتا ہو تو اس سے قبل علاج کروائیں۔

٭ صاف پانی کو ابال کر اس میں مینتھول شامل کریں اور بھاپ لیں۔

٭ چہرے پر دباؤ کم کرنے کے لیے ناک اور سر پر گرم تولیہ رکھیں۔

بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ سائنوسائٹس کے علاج میں استعمال ہونے والی ادویات کے نقصان دہ اثرات بھی ہوتے ہیں۔ اس لیے انہیں استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ اکثر دواؤں کے کچھ نہ کچھ ضمنی اثرات ہوتے ہیں۔ دیکھنا یہ ہوتا ہے کہ اس کے فوائد زیادہ ہیں یا نقصانات۔ اس انفیکشن کی ادویات استعمال نہ کرنے کا نقصان زیادہ ہے۔ مزید برآں ناک کے ساتھ کان، گلا، دماغ اور آنکھیں بھی جڑی ہوتی ہیں۔ اگر انفیکشن پھیل جائے تو ان کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ایسے میں پیچیدگیوں سے بچنے کے لیے اس مسئلے سے آگہی کے ساتھ ساتھ بروقت تشخیص اور علاج بھی ضروری ہے۔

Vinkmag ad

Read Previous

عالمی شہرت یافتہ کوہ پیما ثمینہ بیگ کو ریسکیو کر لیا گیا

Read Next

 ایک ہفتے میں کتوں کے کاٹے کے 5000 سے زائد واقعات

Leave a Reply

Most Popular