خون کی بیماری، سکل سیل انیمیا

4

خون کی بیماری، سکل سیل انیمیا

جسم میں خون کی کمی یعنی انیمیا کے مختلف اسباب ہیں جن میں سے ایک خون کے سر خ خلیوں کی اشکال اور ساخت میں تبدیلی بھی ہے۔ اسے ’’سکل سیل اینیمیا‘‘ کہا جاتا ہے۔ ایسا کیوں ہوتا ہے، جانئے شفا انٹرنیشنل ہسپتال‘ اسلام آباد کے ماہر امراض خون ڈاکٹر طارق محمود ستی سے ہونے والی گفتگو کی روشنی میں اقصیٰ نعیم کی اس معلوماتی تحریر میں

آپ نے اس طرح کے جملے اکثرسنے ہوں گے کہ لوگوں کا خون سفید ہو گیا ہے اور ان میں پیار محبت اور دوسروں کا خیال رکھنے کا جذبہ باقی نہیں رہا۔ محاورے کی حد تک تو خون سفید ہونے کی بات درست ہے لیکن حقیقت میں ایسا ہونا ممکن نہیں۔ خون ہمیشہ سرخ ہی ہوتاہے جس کا مشاہدہ ہم اپنی روزمرہ زندگی میں کسی نہ کسی شکل میں کرتے ہی رہتے ہیں۔

خون کی اس رنگت کا سبب اس کے سرخ رنگ کے خلئے ہیں جو آکسیجن کو جسم کے ہر حصے تک پہنچانے کا کام سرانجام دیتے ہیں۔ خون میں ان کے علاوہ سفید رنگ کے خلئے بھی ہوتے ہیں۔ یہ جراثیم سے بچائو اور ان سے لڑنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان خلیوں کی کوئی مخصوص شکل نہیں ہوتی جبکہ سرخ خلیے چھوٹے، گول اوراندر سے کھوکھلے ہوتے ہیں۔ لچکدار ہونے کے باعث تنگ اور چھوٹی نالیوں سے گزرتے وقت یہ گھنٹی نماشکل اختیار کر لیتے ہیں۔ان خلیوں کی اشکال یا ساخت میں تبدیلی سے کئی امراض جنم لیتے ہیں جن میں سے ایک مرض سکل سیل انیمیا بھی ہے ۔

مرض کی پہچان

خون کے اندر ہیموگلوبن ایس نامی پروٹین خون کے سرخ خلیوں کی شکل کو’’سِکل‘‘ یا درانتی کی شکل میں تبدیل کر دیتا ہے۔ اس طرح کے خلئے عام صحت مند خلیوں کے مقابلے میں زیادہ کمزور ہوتے ہیں اور جلد مر جاتے ہیں۔ ان کی زندگی کا دورانیہ 20 سے 30 دن ہوتا ہے جبکہ خون کے صحت مندخلیوں کی عمراوسطاً 120دن ہوتی ہے۔ اس موروثی مرض میں سخت اور لیس دار خلیے خون کی نالی میں اٹک کر آکسیجن کی فراہمی میں رکاوٹ پیدا کرتے ہیں۔ نتیجتاً جسم میں خون کی کمی پیدا ہو جاتی ہے۔ اس وجہ سے خون کی کمی کو سکل سیل انیمیا کہا جاتا ہے۔

مرض کی علامات

ا س بیماری کی علامات بچے کی پیدائش کے تقریباًچھ ماہ بعدہی ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔  یہ مختلف ہوتی ہیں اور وقت کے ساتھ تبدیل بھی ہو سکتی ہیں۔ عام طور پر پائی جانے والی علامات میں بازو، ٹانگ اور کمر درد شامل ہیں۔ بعض افراد کو سردرد، پیٹ درد ، خون کی کمی کے باعث تھکاوٹ،غنودگی، سانس نہ آنے اور چکر آنے کی شکایت بھی ہوتی ہے۔ اس کی دیگر علامات میں ہاتھ پائوں سوجنا، بصارت کے مسائل،سینے ‘ جوڑوں اور ہڈیوں میں درد اور انفیکشن وغیرہ شامل ہیں۔ خون کے سرخ خلیے جسم کی نشونما کے لئے آکسیجن اور ضروری اجزاء فراہم کرتے ہیں لہٰذا ان کی مقدار میں کمی نشوونما کو بھی متاثر کرتی ہے۔

مرض کی تشخیص

ہسپتالوں میں پیدا ہونے والے بچوں میں اس مرض کی تشخیص بالعموم پیدائش کے کچھ ہی عرصے بعد سکریننگ کے دوران ہو جاتی ہے۔ اگر کسی وجہ سے تشخیص نہ ہو پائے اورننھے بچے میں یہ علامات پائی جائیں تو فوری طورڈاکٹر سے رابطہ کریں

٭ پیٹ، سینے، ہڈیوں اور جوڑوں میں بغیر کسی وجہ کے شدید تکلیف ہونا۔
٭بے رنگ جلد، جلد یا آنکھوں کے سفید حصے کا زرد ہونا۔
٭ پیٹ ، ہاتھ اور پائوں پر سوجن ۔
٭سٹروک کی تمام علامات مثلاً جسم کے ایک طرف فالج،چہرے، بازو یا ٹانگوں میں کمزوری اور سر درد وغیرہ۔

وجوہات

بطور انسان ہمارے اندر جو خصوصیات ہیں‘ ان میں سے کچھ ہم ماحول سے سیکھتے ہیں جبکہ کچھ والدین سے بچوں میں خود بخود منتقل ہو جاتی ہیں۔ اس طرح منتقل ہونے والی خصوصیات میں قدکاٹھ، جلد اور آنکھوں کی رنگت وغیرہ شامل ہیں۔ یہ سب معلومات کروموسومز پر موجود جینز میں محفوظ ہوتی ہیں ۔ ان جینزمیں تغیرو تبدل اس مرض کی وجہ بنتا ہے۔

بچہ تب ہی اس مرض کا شکار ہوتا ہے جب ماں اور باپ‘دونوں اس مرض کے شکار ہوں اور ان سے یہ جینز موروثی طور پربچے میں منتقل ہوجائیں۔ اگر ماں یا باپ میں سے کوئی ایک اس مرض کا شکار اور دوسرا نارمل ہو تو بچے میں صحت مند اورغیر صحت منددونوں جینز موجود ہوں گے۔ اس صورت میں مرض کی علامات ظاہرنہ ہونے یا کم ہونے کا امکان ہوتاہے، تاہم ایسے افراد اسے آنے والی نسل میں منتقل کر سکتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر والدین میں سے کوئی ایک اس مرض میں مبتلا ہو اور دوسرے میں صحت منداورغیر صحت مند دونوں جینزموجود ہوں تو اس بات کا امکان ہے کہ بچہ بھی اس مرض کا شکار ہو۔

یہ مرض افریقہ ،مشرقِ وسطیٰ کے ممالک، ہندوستان اور پاکستان کے کچھ علاقوں میں زیادہ پایا جاتا ہے۔اس میں مبتلا افراد جن مسائل کا شکار ہوسکتے ہیں ‘ ان میں اسٹروک، سینے میں درد، بخار، سانس لینے میں دشواری، نمونیا،بینائی کی کمزوری اورٹانگوں پر زخم شامل ہیں۔ ان کے گردوں ، جگر اور تلی کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے جو مہلک ثابت ہوتا ہے۔

علاج یا احتیاط

جن طبقات ‘ فیملیوں یا علاقوں میں یہ زیادہ پایا جاتا ہے‘ ان کو چاہئے کہ شادی سے پہلے اس کا ٹیسٹ ضرور کرائیں اور سکل سیل انیمیاکی تاریخ رکھنے والے افراد آپس میں شادی سے گریز کریں۔ اس کے لئے عموماًدو طرح کے ٹیسٹ تجویز کیے جاتے ہیں جو سِکلنگ ٹیسٹ اور ہیموگلوبن ٹیسٹ ہیں ۔

سِکلنگ ٹیسٹ کا مقصد خون کے سرخ خلیوں کی اشکال میں تبدیلی کوجانچناہے جبکہ دوسرے ٹیسٹ میں خون کی کمی کے بارے میں معلومات حاصل کی جاتی ہیں۔ ان ٹیسٹوں کی قیمت بھی بالعموم بہت زیادہ نہیں ہوتی لہٰذا یہ کروا لینے چاہئیں ۔

جہاں تک علاج کا تعلق ہے تو اس کا انحصار مرض کی شدت پر ہوتا ہے۔ وہ افراد جن میں شدید علامات نہیں ہوتیں ‘ان میں کافی حدتک اس مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ اس کے برعکس شدید علامات کے حامل افرادمیں جزوی طور پرانتقال خون کیا جاتا ہے۔ اس عمل کو سرانجام دینے کے لئے دو پتلی نالیاں استعمال ہوتی ہیں جن کی مدد سے خون نکالا اورتبدیل کیا جاتاہے۔ جن افراد میں یہ مسئلہ مسلسل تین سال یا اس سے زائد عرصے سے موجود ہو‘ان کے لئے ہڈیوں کے گودے کی پیوندکاری ایک اچھا آپشن ہے۔ ایک طریقہ علاج جین تھیراپی بھی ہے ‘مگر وہ ابھی تحقیق اور تجربات کے مراحل میں ہے ۔

توجہ طلب بات یہ ہے کہ مرض کے بارے میں آگہی اورچند احتیاطی تدابیرکو اختیار کرنے سے ہم نہ صرف اپنے ہونے والے بچوں کو اس مرض سے بچا سکتے ہیں بلکہ اسے پھیلنے سے روک بھی سکتے ہیں۔

sickle cell anemia, bone marrow transplant, sickling test, genes 

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x