• Home
  • اداریہ
  • چھوٹا قد: مائوں کے بے جا اور بجا خدشات

چھوٹا قد: مائوں کے بے جا اور بجا خدشات

58

محبت اس دنیا کا خوبصورت ترین رشتہ ہے جو اپنی خالص ترین شکل میں ماں اور بچے کے درمیان تعلق میں بخوبی دیکھا جا سکتا ہے ۔ہر بچہ اپنی ماں کا شہزادہ ہوتا ہے اور وہ ہر دم اس کی خوشیوں بھری کامیاب زندگی کے خواب دیکھتی ہے ۔ انہیں پنگھوڑے میں سکون سے لیٹے‘ بمشکل قدم اٹھاتے اور گلے میں بستہ ڈالے سکول جاتے بچوں میں مستقبل کے وجیہہ اورخوبصورت جوان جبکہ بچیوں میں حسین و جمیل لڑکیوں کا عکس نظر آتا ہے ۔دنیا بھرمیںخوبصورتی کے مختلف معیارات قائم ہیں جن میں جلد کی رنگت‘ چہرے کے نقوش اورسڈول جسم کے ساتھ لمباقد بھی شامل ہے ۔میڈیا میں ہیرو اور ہیروئین کے طور پرخوبصورت لڑکوں اور لڑکیوں کے انتخاب میں ان کی دیگر خوبیوں کے ساتھ ساتھ اس عامل کو بھی مدنظر رکھا جاتا ہے جو اس کے خوبصورتی کا جزو لاینفک ہونے پر مہر تصدیق ثبت کر دیتا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ ہر ماں اپنے بچے کو دراز قد دیکھنا چاہتی ہے اور اگر اسے لگے کہ وہ چھوٹا ہے تو وہ پریشان ہو جاتی ہے ۔

ماہرین امراض بچگان بتاتے ہیں کہ بہت سی مائیں اپنے بچوں کو چھوٹے قد کی شکایت کے ساتھ اُن کے پاس لاتی ہیں لیکن جب وہ ان کی عمراوروزن کی روشنی میں ان کے قدکاجائزہ لیتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ بالکل نارمل ہے اوراس ضمن میں ان کے خدشات بالکل بے بنیاد ہیں ۔ان کے مطابق مائوں کی اس بے سبب پریشانی کا بڑاسبب یہ ہے کہ وہ اپنے بچے کے قد کا موازنہ دیگر بچوں کے ساتھ کرتی ہیں جو ایک ناقص تصور ہے۔ اس کا دوسرا سبب یہ ہے کہ وہ بالعموم نہیں جانتیں کہ بچوں کا قداوسطاً کس شرح سے بڑھتا ہے۔

بچے جو چیزیں وراثت میں اپنے ماں باپ سے لیتے ہیں‘ ان میں جلد کی رنگت اور شکل و شباہت کے علاوہ قد بھی شامل ہے‘ یعنی اس کا قد والدین کے قد کے حساب سے لمبا یا چھوٹاہوتا ہے۔اگر اس کا سبب یہی عامل ہو تو اس کا کوئی علاج ممکن نہیں۔ تاہم اس کی کچھ وجوہات ایسی بھی ہیں جو ہمارے بس میں ہیں اور اگرانہیں دور کر لیا جائے تو قد اپنی نارمل شرح سے بڑھنے لگتا ہے۔ مثال کے طور پر کچھ بیماریاں بچوں کی نشوونما پر منفی اثر ڈالتی ہیں اور اگر ان کا علاج کر لیا جائے تو مسئلہ حل ہو جاتا ہے ۔ اسی طرح ایک خاص ہارمون بھی بچوں کی نشوونما میں اہم کردار ادا کرتا ہے جسے عام فہم زبان میں ’گروتھ ہارمون‘کا نام دیا جاتا ہے۔اگر قد کے پستہ رہ جانے کا سبب اس ہارمون کی کمی ہو تو ہارمون تھیراپی سے اس پر قابو پانا ممکن ہے ۔

بچوں کاقد نہ بڑھنے کی ایک بڑی وجہ غذائیت کی کمی بھی ہے جس کا سبب غربت کے علاوہ بچوں میںجنک فوڈ ز کے لئے حد سے زیادہ پسندیدگی ہے ۔ان چٹ پٹی چیزوں میں کیلوریز زیادہ اور غذائیت کم ہوتی ہے لہٰذا متوازن غذا نہ ملنے کی وجہ سے دیگر مسائل پیدا ہونے کے علاوہ ان کی نشوونما بھی متاثر ہوتی ہے۔لہٰذا بچوں کے لئے اچھی خوراک کا اہتمام ضرور ی ہے ‘ لیکن یہ بھی ذہن میں رکھا جائے کہ اس سے مراد لازمی طور پر مہنگے برانڈز کی غذائیں نہیں ہیں۔ اگر تھوڑی سی کوشش کی جائے تو ان کے کم قیمت متبادلات باآسانی مل جاتے ہیں۔

معاملے کا ایک پہلو مہنگے برانڈز کی اشیائے خورونوش اورکچھ دوائوں کے وہ اشتہارات ہیں جن میں دکھایا جاتا ہے کہ ان کے استعمال سے بچوں کے قدحیرت انگیز حد تک بڑھ جاتے ہیں ۔ان سے متاثر ہو کروالدین اپنی مالی مشکلات کے باوجود انہیں خریدنے پر مجبور ہو جاتے ہیں ۔ اس مقصد کے لئے کچھ ٹوٹکے بھی بہت مشہور ہیں لیکن جب قدنہ بڑھنے کی کوئی ایک نہیں‘ کئی وجوہات ہوں تو پھر کوئی ایک دوا یا ٹوٹکا تمام تر وجوہات کا حل کیسے ہو سکتا ہے ۔مزید برآں قد نہ بڑھنے کی وجوہات کے بارے میں بہت سے غلط تصورات بھی عام ہیں ۔والدین کو چاہئے کہ ان پر آنکھیں بند کر کے یقین کرنے اور خود علاجی پر وقت اور پیسہ ضائع کرنے کی بجائے کسی مستند معالج سے رجوع کریں‘ اس لئے کہ وہی درست تشخیص کر کے انہیں بہتر مشورہ دے سکتا ہے ۔
اگر بروقت تشخیص اور علاج کے باوجود کسی کا قد چھوٹا رہ گیا ہو تو والدین اور بچوں کو چاہئے کہ اسے حرزِ جاں نہ بنائیں ‘اس لئے کہ اس سے زندگی رک نہیں جاتی اور نہ ہی امکانات کا دروازہ بند ہوجاتا ہے۔یہ قانونِ قدرت ہے کہ اگر کسی فرد میں ایک صلاحیت کی کمی ہو تو اس میں کوئی دوسری صلاحیت زیادہ ہوتی ہے ۔ تاریخ جسمانی طور پر پستہ قد کے حامل لیکن سوچ‘ کردار اور شخصیت کے حوالے سے ایسے درازقد لوگوں سے بھری پڑی ہے جوہم سب کے لئے رول ماڈل کا درجہ رکھتے ہیں۔ اس لیے اگر کسی کا قد معاشرتی معیاروں سے چھوٹا ہو تو اسے چاہئے کہ دل چھوٹا نہ کرے بلکہ روشنی کے ان بلندقامت میناروں سے راہنمائی اور تقویت حاصل کرے۔

Leave a Reply

Leave a Reply

  Subscribe  
Notify of