خود کردہ را ’علاج‘ نیست… اپنا علاج آپ؟

266

فرض کریں کہ ایک پرتکلف دعوت میں شرکت کے بعد گھر واپس لوٹتے ہی آپ کے پیٹ میں مروڑ اٹھنا شروع ہوجاتے ہیں۔ ایک اور صورت یہ ہے کہ صبح کے وقت بیدارہوتے ہی آپ کو اپنی آواز بیٹھی ہوئی اورگلا بھاری محسوس ہوتاہے۔یاکسی روز آپ کو اپنی آنکھیں دکھتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں اورآپ کو یوں لگتا ہے جیسے کسی نے ان میں ریت ڈال دی ہو۔ ایسے میں آپ کا ردعمل کیا ہوتا ہے؟ صحیح رویہ تو یہی ہے کہ ڈاکٹر سے رجوع کیا جائے اور اس کی ہدایات پر عمل کیا جائے، اس لئے کہ ’جس کا کام اسی کو ساجھے‘۔تاہم ایسے میں لوگوں کی بڑی تعداداپناعلاج خود کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ النور ہسپتال فیصل آباد کے میڈیکل سپیشلسٹ ڈاکٹر مقصود احمداس تاثر کی تصدیق کرتے ہیں:

”ہمارا تجربہ یہی ہے کہ اکثرصورتوں میں علاج کی پہلی کوشش بالعموم مریض خود کرتا ہے۔ طرفہ تماشا یہ ہے کہ وہ ڈاکٹر کے پاس آکر بتاتا ہے کہ اسے سر میںشدیددردتھا، اس نے فلاں فلاں دوا کھائی لیکن آرام نہیں آیا۔ اب اسے بتایا جائے کہ وہ کیا کرے۔“
اس معاملے کو خودعلاجی (self medication) کا نام دیا جاتا ہے۔ اس کی تعریف ایک ایسے انسانی رویے کے طور پر کی جاتی ہے جس میں ایک فرد اپنی جسمانی یا نفسیاتی بیماری کے علاج کے لئے کوئی بیرونی چیز اپنے اوپر استعمال کرے۔ شفا کالج آف میڈیسن اسلام آباد میں کمیونٹی میڈیسن کے شعبے کی سربراہ اور’ کمیونٹی اینڈفیملی میڈیسن ‘کی ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر صائمہ اقبال ملک آسان لفظوں میں اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہتی ہیں:

’ ’اگر کوئی شخص ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر میڈیکل سٹور سے خودہی دوا لے کر استعمال کرے تو اسے خودعلاجی کہا جائے گا۔ یہاں لوگ میڈیکل سٹور پر جاکرفارماسسٹ یا وہاں موجود سیلز مین کواپنی علامات بتاتے ہیں اور وہ دواﺅں پر لکھی معلومات اور اپنے تجربات کی روشنی میں انہیں دوائیں تجویز کرتاہے۔ یہ بھی خودعلاجی ہی کی ایک قسم اورخطرناک پریکٹس ہے۔“

ماہرین کے مطابق ترقی یافتہ ممالک سمیت دنیا بھرمیں آدھی سے زیادہ آبادی طبی مسائل میں ابتدائی طور پر خودعلاجی کو ترجیح دیتی ہے۔ ڈاکٹر مقصود احمدکے مطابق پاکستان میں بھی اس کی شرح کچھ کم نہیں :
”ہمارے ہاں اس کی شرح بہت زیادہ ہے جس کا سبب یہ ہے کہ یہاں یہ ڈاکٹری نسخے کے بغیر ہر میڈیکل سٹور پر باآسانی دستیاب ہیں۔ دنیا میں شاید ہی کسی اور ملک میں اس کا رواج اتنا زیادہ ہوگا جتناکہ ہمارے ہاں ہے۔“
شفانیوزنے مختلف شہروں کے افراد سے پوچھاکہ وہ اپنے طبی مسائل میں ڈاکٹرکے پاس جانے کی بجائے اپنا علاج خود کرنے کی کوشش کیوں کرتے ہیں؟ اس پردرج ذیل جوابات موصول ہوئے:

٭تجربے کے ساتھ پتہ چل جا تا ہے کہ ڈاکٹرکس بےماری کے لئے کےا نسخہ تجوےز کرے گا۔ جب ایک ہی بیماری ہو اور اس کی دوا بھی وہی ہو تو پھر ہربار ڈاکٹر کے پاس جا نے کی کیا ضرورت ہے؟
٭معمولی مسائل میں ڈاکٹروں کے پاس جانا چونچلے کے علاوہ کچھ نہیں۔ اس لئے خود ہی دوا لے لینی چاہئے یا کسی میڈیکل سٹور والے سے پوچھ لینا چاہئے۔
٭سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کا ہجوم ہوتا ہے جبکہ پرائیویٹ ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی فیسیں بہت زیادہ ہیں۔ اس لئے ہر دفعہ اپنا کام چھوڑ کر ڈاکٹروںکے پاس جانا فائدہ مند نہیں۔
٭ہر علامت پر ڈاکٹر سے رجوع کرنے کی بات کا مقصد ڈاکٹروں کو بزنس فراہم کرنے کے سوا کچھ نہیں۔اس لئے چھوٹے موٹے مسائل میں اپنا علاج خود ہی کر لینا چاہئے۔
اس ردعمل میں بظاہر سب سے اہم دلیل یہ دی گئی ہے کہ بیماریوں کی علامات مریض کو معلوم ہیں اور دوائیں بھی میڈیکل سٹور پر موجود ہیں۔ ایسے میں تیسرے فریق یعنی ڈاکٹر کی ضرورت بہت کم رہ جاتی ہے۔ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے شفا انٹرنیشنل ہسپتال اسلام آباد کے میڈیکل سپیشلسٹ ڈاکٹرامجد سہیل کہتے ہیں:
” بہت سی بےمارےوں کی علامات آپس میں ملتی جلتی ہوتی ہےں اور ےہ ڈاکٹر ہی بہترجانتا ہے کہ وہ علامات اصل میں کس مرض کی ہےں اور اس کےلئے کون سی دوا مناسب رہے گی۔ لوگ ملتی جلتی علامات میں فرق کو سمجھے بغےر خودہی اپنا علا ج شروع کردےتے ہےں۔ اےسے میں علامات(مثلاًکھانسی‘ زکام اور بخار وغےرہ) تو دب جاتی ہےں لےکن اصل مرض مزےدبگڑ جا تا ہے۔ محض علامات کو دبا دےنا مسئلے کا حل نہےں۔اصل حل بیماری کا علاج کرناہے۔“

جب ڈاکٹر مقصود احمد سے پوچھا گیاکہ جنرل پریکٹیشنرز بھی تو بالعموم’ علامتوں‘ کا ہی علاج کرتے ہیں۔ انہوں نے اس سے اتفاق نہیں کیا اور کہا وہ محض علامتوں کا نہیں بلکہ عام اور چھوٹی موٹی ’بیماریوں‘ کا علاج کرتے ہیں۔ اس سطح پر گہرائی میں جا کر تشخیص کی ضرورت کم ہی پڑتی ہے اور اگر ایسا ہو تو وہ مریض کو کنسلٹنٹ کی طرف ریفر کر دیتے ہیں۔
ڈاکٹر صائمہ اقبال ملک کا کہنا ہے کہ ڈاکٹراپنے علم اور تجربے کی وجہ سے صرف علامات ختم کرنے تک محدود نہیں رہتابلکہ اس کی جڑیعنی اصل مرض کو ڈھونڈنے اور اسے ختم کرنے کی کوشش کرتاہے۔ وہ مریض کی میڈیکل ہسٹری دیکھتاہے اور یہ بھی معلوم کرتا ہے کہ مریض کو دیگر امراض کیا ہیںاور وہ کون سی دوائیں لے رہاہے۔ بعض امراض میں بعض دوائیں کسی صورت نہیں دی جا سکتیںاوراگر اس کا خیال نہ رکھا جائے تو دوائیں آپس میں ’ری ایکشن‘ بھی کرسکتی ہیں۔

راولپنڈی سے تعلق رکھنے والی 54سالہ ثمینہ شاہد کو بھی ایسی ہی صورت حال سے گزرنا پڑا۔ دسمبر2015ءمیں شادی کی ایک تقریب میں شرکت کے بعد وہ واپس امریکہ جا رہی تھیں۔ بے نظیر بھٹو ائیرپورٹ پراپنی ایک کزن کے ساتھ فلائٹ کے انتظارمیں بیٹھی تھیں کہ انہیں سر میں شدیددرد ہوا۔ ان کی کزن ہر وقت کئی طرح کی دوائیں اپنے پاس رکھتیں تاکہ بوقت ضرورت نہ صرف خودانہیں استعمال کر سکیں بلکہ کسی اور کے بھی ’کام‘ آ سکیں۔ انہوں نے ثمینہ سے کہا ’ میرے پاس سردرد کی ایک دوا ہے ۔ اگر تم وہ لے لو تو فوراً ٹھیک ہو جاﺅگی۔ ‘وہ اس پر تیار نہ تھیں لیکن اس نے جیسے تیسے‘ اصرار کر کے بلکہ تقریباً زبردستی انہیں دو گولیاں کھلا دیں۔

تھوڑی دیر کے بعد وہ جہاز میں سوار ہوگئیں۔ ابھی وہ سیٹ پر بیٹھی ہی تھیں کہ ان پر غنودگی اورپھر بے ہوشی سی طاری ہونے لگی۔ ان کی بیٹی نے جب اپنی ماں کی آنکھیں بند ہوتی دیکھیں تو انہیں جھنجھوڑا۔ اس نے ائیرہوسٹس کو آواز دی جس پر کئی لوگ اس کی طرف لپکے جن میں ایک یا دو ڈاکٹر بھی تھے ۔تھوڑی سی کوشش کے بعد انہیں ہوش آگیا۔ انہیں اس حال میں سفر کی اجازت نہ دی گئی لہٰذا انہیں جہاز سے اترنا پڑا۔بعد میں معلوم ہوا کہ انہیں اس دوا سے ری ایکشن ہوا تھا۔
اوروں کی علامات کے معاملے کو اگرالگ رکھا جائے تو خودعلاجی کے حق میں دوسری دلیل یہ دی جاتی ہے کہ اپنے ہی ‘پہلے سے تشخیص شدہ مرض کے سلسلے میں باربار ڈاکٹر کے پاس جانے کا کوئی جواز نہیں ۔اس پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈاکٹرمقصود احمد کہتے ہیں:

”ا گرچہ ان کامرض اوراس کی علامات وہی ہیں جن کا وہ پہلے بھی شکار ہو چکے ہیں لیکن اس کے باوجود معاملہ اتنا سادہ نہیں کہ وہ خود ہی دوا لے کر کھالیں ۔عین ممکن ہے کہ اس عرصے میں بیماری بگڑ گئی ہو یا وہ کوئی اور رخ اختیار کر گئی ہو۔ ایسے میں دوا بدلنا پڑ سکتی ہے اور دواﺅں کا ’کمبی نیشن‘ تبدیل کرنے یا اسی دواکی مقدار (ڈوز ) میں کمی بیشی کی ضرورت ہو سکتی ہے ۔اس لئے خود ہی دو الے لینامناسب نہیں ۔“
معالج سے مشورہ کئے بغیراپنے قیاس سے دوا کی مقدار بڑھانے کا خمیازہ راولپنڈی کی 24سالہ عفاف بھی بھگت چکی ہیں۔ 2013ءمیں انہیں شادی کی ایک تقریب میں جانا تھالیکن اچانک شدیدبخار ان کے اور تقریب کے درمیان حائل ہوگیا ۔انہوں نے ایک کی بجائے اکٹھی دوگولیاں کھائیں، چند گھنٹوں کے بعد پھر دو گولیاں نگل لیں اور تقریباً چار گھنٹوں کے بعد مزید دو گولیاں لے لیں۔ یوں ایک ہی دن میں تین کی بجائے انہوں نے چھ گولیاں کھالیں۔ اس کے بعد انہیںچکر آئے اورشدید پسینے کے بعد ان کی حالت ایسی ہوگئی جیسے جسم سے جان نکل رہی ہو، اورپھر وہ بے ہوش ہوگئیں۔ انہیں ہسپتال لے جایا گیاجہاں ڈاکٹروں نے بتایا کہ دوا کی زیادہ ڈوز کی وجہ سے ایسا ہوا ہے۔ان کے بقول اگرعفاف کو جلد ہوش نہ آتا تو وہ کوما میں بھی جا سکتی تھیں ۔
ہمارے ہاں جن ادویات کی مدد سے خود علاجی کی جاتی ہے‘ ان میں اےنٹی بائےوٹکس نمایاں ہیں۔اگر ان کا غیر ضروری اور زیادہ استعمال کیا جائے تو وہ بتدریج غیر موثرہوتی چلی جاتی ہیں۔مختلف امراض کی ملتی جلتی علامات اور ادویات کی ڈوز کے علاوہ خود علاجی کے خلاف تیسری بڑی دلیل یہی ہے۔ اس کی وضاحت کرتے ہوئے ڈاکٹر صائمہ اقبال ملک کہتی ہیں:
”اگر انہیںغےرضروری طور پر استعمال کیا جائے ےا ان کا کورس پورا نہ کیا جائے تو جراثیم میں ان کے خلاف قوت ِ مزاحمت پےدا ہو جاتی ہے ۔ اےسے میں اگلی دفعہ جب مرےض کو اس کی ضرورت پڑے گی توپہلے سے زےادہ طاقتور دوا کا سہارا لےنا پڑے گااورپھر ایک وقت آئے گا کہ اس پر کوئی دوا اثر ہی نہیں کرے گی۔انہیں غیر ضروری طور پر تجویز کرنے کے ذمہ دار ڈاکٹر بھی ہیں لیکن مریضوں کو بھی اس سے بری الذمہ قرار نہیں دیا جا سکتا جو خود ہی میڈیکل سٹور پر جا کر ’اچھی سی ‘ اینٹی بائیوٹک طلب کرتے ہیں۔“
میڈیسن کی دنیا میں اینٹی بائیوٹکس کے خلاف جراثیم میں مزاحمت پیدا ہوجانے اور نتیجتاً ان دواﺅں کے غیر موثرہوجانے کے مسئلے کو انتہائی سنگین تصور کیا جا رہا ہے۔ بعض حلقوں میں تو یہ تک کہا جا رہا ہے کہ اگر اس کا تدارک نہ کیا گیا تو تمام تر اینٹی بائیوٹکس غیر موثر ہو جائیں گی جس کا مطلب میڈیسن میں ایلوپیتھی کے دور کا اختتام ہوگا۔
گفتگو کو سمیٹتے ہوئے درج ذیل امور قابل غور ہیں:

٭عام لوگ بےمارےوں کی زیادہ سوجھ بوجھ نہیں رکھتے لہٰذاوہ علامات مثلاً سردرد، پیٹ میں درد اور بخار وغیرہ کو ہی اہم سمجھتے ہیں اور انہی سے چھٹکارے کی کوششوں میں لگے رہتے ہیں۔
٭انسان دنیا کی سب سے پیچیدہ مشین ہے ۔ اگر اس کے ساتھ کوئی مسئلہ ہوتو اس پر خود ہی تجربات کرنے کی بجائے اس کے ماہر یعنی ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہئے ۔اگر اس کے برعکس کیا جائے تو فوری طور پر تو مسئلہ حل ہو جاتا ہے لیکن اپنے پیچھے اس سے زیادہ بڑے مسائل پیدا کر جاتا ہے ۔
٭دوائیں، کھانے پینے کی عام اشیاءنہیں جنہیں پرچون کی دکان سے خرید کر کھا لیا جائے ۔ یہ خاص تناسب سے شامل کردہ مخصوص کیمیکلز پر مشتمل ہوتی ہیں جو مخصوص اثر پیدا کرتے ہیں۔اس لئے انہیں احتیاط سے استعمال کرنا چاہئے ۔
٭ اےنٹی بائےوٹکس کے غیر موثر ہونے کا معاملہ بہت سنجیدہ ہے۔ اس سے نپٹنے کے لئے خودعلاجی کوہی نہیں‘ ڈاکٹروں کی غیر ذمہ دارانہ پریکٹس کو بھی کنٹرول کرنا ہوگا۔
٭پاکستان میں ایسی ادویات کی فہرست بننی چاہئے جنہیں ڈاکٹری نسخے کے بغیر بھی میڈیکل سٹورز سے خریدا جا سکتاہے اورپھر ایسا انتظام بھی کیاجاناچاہئے کہ ان کے بغیر کسی دواکی خرید و فروخت نہ ہو سکے۔
٭خودعلاجی کا بڑا سبب علاج کا مہنگااور لوگوں کی قوت خرید کا کم ہونا ہے۔ریاست کو اس حوالے سے اپناکردار ادا کرنا چاہئے ۔

———————————————————————————————————————

اندھیر نگری‘ چوپٹ راج
النور ہسپتال فیصل آباد کے میڈیکل سپیشلسٹ ڈاکٹر مقصود احمد کہتے ہیں کہ ”سیلف کیئر“ ایک وسیع موضوع ہے جس کاپہلا مرحلہ ادویات کے بغیر اپنا خیال رکھنا ہے۔اس میں حفظان ِ صحت و صفائی(ہائی جین) کے اصولوں پر عمل‘ اپنی غذا پر توجہ دینااور صحت مندانہ تصورات‘عادات اور کلچر اپناناشامل ہیں۔اس کا مقصد بیمار ہونے سے پہلے اپنا علاج کرنا ہے جس کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ دوسرا مرحلہ دواﺅں سے خود اپنا علاج کرناہے۔اگریہ ذمہ دارانہ ہوتودنیا بھر کے ماہرین طب ایک حد تک اس کی اجازت دیتے ہیں۔ مختلف ممالک کی وزارت صحت ادویات کی ایک فہرست تیار کرتی ہے جنہیں ڈاکٹری نسخے کے بغیر میڈیکل سٹورز سے خریدا جا سکتا ہے ۔ انہیں او ٹی سی (over the counter)ادویات کہا جاتا ہے۔اس کے علاوہ باقی ادویات کنٹرولڈ ڈرگز (controlled drugs)کہلاتی ہیں یعنی انہیں ڈاکٹری نسخے کے بغیر خریدنے اور بیچنے کی ممانعت ہوتی ہے ۔ان کے بقول:
”اگر مختصر دورانئے کی علامات مثلاًسرمیں درد، عضلات میں کھچاﺅ، جوڑوں کا درداورمعدے یا سینے میں جلن یا نزلہ زکام ہو توآپ محدود مدت کے لئے ان کی دوا خودلے سکتے ہیں لیکن اگرچند دن تک علامات بہتر نہ ہوں تو پھر ڈاکٹر سے رجوع لازمی ہے ۔میری رائے میں پیناڈول، پیراسٹامول، ڈسپرین‘ اینٹ ایسڈز (antacid) اور زن ٹیک (zinetac) کم مقدار میںلی جا سکتی ہےں۔ترقی یافتہ ممالک میں جنرل پریکٹیشنرز کو بھی ایک خاص فہرست سے باہر دوائیں تجویز کرنے کی اجازت نہیں ہوتی اور یہ طے ہوتا ہے کہ اس سے آگے کی دواکنسلٹنٹ ہی لکھے گا ۔ہمارے ہاں کنسلٹنٹ والی دوائیں بھی بغیر ڈاکٹری نسخے کے فارمیسیوں پرعام دستیاب ہیں۔“
”پاکستان میں ’اوٹی سی ‘ کے حوالے سے کوئی پالیسی نہیں اور فارمیسیاں کسی کے کنٹرول میں نہیں۔اس لئے یہاں ہر طرح کی دوائیں ’اوٹی سی ‘ پر دستیاب ہیں۔ریگو لیٹری اتھارٹی طے کرے کہ کون سی دوائیں ’اوٹی سی ‘کی فہرست میں شامل ہونی چاہئےں اورپھر ایسا انتظام بنایا جائے کہ ان کے علاوہ کوئی دوا ڈاکٹری نسخے کے بغیرفروخت نہ ہو سکے ۔ نسخے پر ڈاکٹر کارجسٹریشن نمبر واضح لکھا ہونا چاہئے تاکہ اس کی فوراً آن لائن تصدیق ہوسکے۔“
شفا کالج آف میڈیسن اسلام آباد میں کمیونٹی میڈیسن کے شعبے کی سربراہ ڈاکٹر صائمہ اقبال کا کہنا ہے کہ” او ٹی سی“ کی فہرست ہر ملک میں مختلف ہوتی ہے ۔ترقی یافتہ ممالک میں سردرد، فلواور فیملی پلاننگ وغیرہ کی دوائیں اس فہرست میں آتی ہیں ۔ پاکستان میں بھی ہمیںاسی حدتک محدود رہنا چاہئے اوراگرعلامات ٹھیک نہ ہو رہی توان کا استعمال چھوڑ کر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہئے۔بلڈپریشر اور ذیابیطس کی دوائیں امریکہ میں بغیر نسخے کے نہیں لی جا سکتیں جبکہ پاکستان میں مرگی کی دوائیں اور نیند کی گولیاں بھی باآسانی خریدی جا سکتی ہیں ۔ وزارت صحت کواس پر فیصلہ کن اقدام اٹھاناچاہئے ۔

……………………………………………………………………………………………………………………………………………………………………………………..

ٹوٹکے بھی کسی ماہرسے پوچھ کر
گوجرخان سے تعلق رکھنے والی حبیبہ راولپنڈی کی ایک یونیورسٹی کی طالبہ ہیں۔حبیبہ کوماڈل بننے کا بہت شوق تھا ۔ انہیں کسی نے مشورہ دیا کہ وزن کم کرنے کے لئے چینی کے بغیر بلیک کافی پیا کرےں۔ انہوںنے کھانا چھوڑ کر صبح‘ دوپہر‘ شام اسے ہی پینا شروع کیا۔ اس کی وجہ سے ان کی بھوک ختم ہو گئی ۔جب پیٹ میں مروڑ پڑنا شروع ہوئے تو انہوںنے ڈاکٹر سے رجوع کیا۔ الٹراساﺅنڈ کے بعد ڈاکٹر نے بتایا کہ ان کی آنتیں سکڑ گئی ہیں۔صورت حال کی درستگی کے لئے انہیں آپریشن کرواناپڑا تاکہ وہ دوبارہ کھاناپینا شروع کر سکےں ۔
بعض ٹوٹکے یا گھریلو استعمال کی چیزیں بظاہر بے ضرر معلوم ہوتی ہیں تاہم ان کی مقدار‘ استعمال کرنے کا طریقہ یا اس سے متعلق دیگر احتیاطوں کو نظرانداز کرنا بھی خطرے سے خالی نہیں ہوتا۔ اس لئے انہیں استعمال کرنے سے قبل کسی معالج سے مشورہ ضرور کر لینا چاہئے ۔ ہومیوپیتھی اوریونانی طب میں استعمال ہونے والی ادویات کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ وہ ضمنی اثرات سے پاک ہوتی ہیں۔ یہ دعویٰ 100فی صد درست نہیں لہٰذا ان کی ادویات کو بھی ان شعبہ جات کے ماہر معالجین کے مشورے کے بغیر استعمال نہیں کرنا چاہئے۔

……………………………………………………………………………………………………………………………………………………………………………………..

پاکستان میں خود علاجی کے رجحانات
پاکستان میں یونیورسٹیوں کے طلبہ وطالبات میں خودعلاجی کی شرح اوررجحانات (patterns) جاننے کے لئے کچھ تحقیقات کی گئیں۔اگرچہ ان کے نتائج کو مختلف خصوصیات کی حامل تمام آبادی پر لاگو نہیں کیا جا سکتا لیکن پھر بھی ان سے معاملے کا کچھ اندازہ ضرور ہوتا ہے ۔ مثال کے طور پرجون سے اگست 2014ءکے دوران رحمٰن میڈیکل کالج پشاوراور یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی پشاورکے طلبہ اور طالبات پر ایک سٹڈی سے معلوم ہوا کہ ان میں سے 93فی صد افراد خود علاجی کو ترجیح دیتے ہیں ۔جن مسائل کی وجہ سے خودعلاجی کی جاتی ہے ‘ ان میں سے کھانسی اور گلا خراب 61.1فی صد‘ نزلہ زکام 56.8 فی صد اور بخار 56.29 فی صدہیں۔جو دوائیں خود ہی لے لی جاتی ہیں‘ ان میں پین کلرز(71.4فی صد)، اینٹی بائیوٹکس (62.2فی صد) اور اینٹی الرجک (48.1فی صد) نمایاں ہیں۔
اسی طرح جنوری -فروری 2007ءمیں خود علاجی پر کراچی کی دو میڈیکل اور دو دیگر یونیورسٹیوں کے طلبہ و طالبات کے رجحانات جاننے کے لئے ایک سروے کیا گیاجس میں شرکاءکی تعداد 572تھی ۔اس کے مطابق ان میں سے 76فی صد افرادخودعلاجی کرتے تھے۔ ان میں سے 50.1
فی صدنے اس کا سبب سابقہ تجربات، 48.3فی صد نے متفرق مگر معمولی ‘30.8فی صدنے ہنگامی صورت حال ، 23.9فی صدنے دوست کا مشورہ، 15.6فی صد نے سہولت، 12.2فی صدنے وقت کی کمی ،چھ فی صد نے ڈاکٹر کی فیس اور2.5فی صد نے ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی کو قرار دیا۔
وہ جن مسائل سے نجات کے لئے خودعلاجی کرتے تھے ‘ ان میں (بالترتیب)سردرد‘ کھانسی، نزلہ زکام‘ بخار‘جسم میں درد ‘ ڈائےریا‘ الرجی اوربے خوابی نمایاں ہیں۔ خود ہی لے لی جانے والی دواﺅں میں (بالترتیب)پین کلرز‘بخار کی ادویات‘اینٹی الرجی‘ وٹامنز‘ اینٹی بائیوٹکس‘ بدہضمی کی گولیاں‘ نیند آور گولیاں‘ ہربل/ ہومیوپیتھک ادویات‘طاقت بخش دوائیں‘سٹریٹ ڈرگزاوربرتھ کنٹرول کی دوائیں شامل ہیں۔

مزید پڑھیں/ Read More

متعلقہ اشاعت/ Related Posts