بے جا خوف کا عارضہ

1

بے جا خوف کا عارضہ

اس نفسیاتی کیفیت میں فرد مخصوص جگہوں، چیزوں یا حالتوں میں شدید خوف محسوس کرتا ہے حالانکہ یہی عوامل دیگر لوگوں کے لیے  خوف کا باعث نہیں بنتے۔ ایسی صورت میں فرد کے جسمانی افعال میں تیزی آجاتی ہے۔ دل کا تیزدھڑکنا، پسینہ آنا اورہاتھوں یا ٹانگوں کا کانپنا وغیرہ اس کی کچھ مثالیں ہیں۔ ایسے افراد کی شدید کوشش ہوتی ہے کہ وہاں سے بھاگ جائیں۔ بعض دفعہ وہ بے ہوش بھی ہوجاتے ہیں۔ بچے اس خوف کا اظہاررو، چلا یا والدین کے ساتھ لپٹ کرکرتے ہیں۔

اپنی مدد آپ کا طریقہ

اگر کسی فرد کا فوبیا شدید قسم کا نہیں یا صرف کسی ایک شے سے ہی متعلق ہے تواپنی مدد آپ کے تحت اس پرقابو پاسکتے ہیں۔ اس کے بہت سے طریقے ہیں جن میں سے ایک یہ ہے۔

 بے جا خوف کو سمجھیں

سب سے پہلے اپنے بے جا خوف کو سمجھیں۔ اس کے بارے میں معلومات حاصل کریں۔ مثلاً یہ کیسے پیدا ہوتا ہے‘ اس میں کون سی جسمانی علامات پیدا ہوتی ہیں اوریہ کس قسم کی بیماری میں ہوتا ہے۔ یہ بھی معلوم کریں کہ آپ کسی ایک چیز سے خوف کھاتے ہیں یا ایک سے زیادہ چیزیں/عوامل آپ کو خوفزدہ کرتے ہیں۔ مزیدبرآں کیا آپ مزاجاً زیادہ پریشان ہوجانے والے ہیں؟ کیونکہ بعض لوگ اسے جسمانی بیماری سمجھ کرجسمانی علاج پر توجہ دیتے رہتے ہیں۔

بے جا خوف کے سائیکل کوسمجھیں

بے جا خوف کا سائیکل کچھ اس طرح سے چلنا شروع ہوتا ہے

٭فرد کا اس چیز ،جگہ یاحالت سے سامنا ہوتا ہے یا وہ اس بارے میں سوچتا ہے جس سے اسے ڈرلگتا ہے۔

٭اس خوف سے متعلق اس کے دماغ میں غیرحقیقی یا غلط خیالات آنا شروع ہوجاتے ہیں۔

٭ان خیالات کے نتیجے میں جسمانی تبدیلیاں آنے لگتی ہیں جن میں دل کا دھڑکنا، پسینہ آنا، چکرآنا یا بیہوشی طاری ہونا شامل ہیں۔

٭وہ اس ناخوشگوارجگہ‘ شے‘ فرد یا خیال سے بچنے کی کوشش کرتا ہے یا غلط طریقوں سے خود کوان سے بچاتا ہے۔

٭باربارخود کو اس کیفیت سے بچاتے رہنے سے خوف کا احساس گہرا ہوتا رہتا ہے۔ یوں اس کا باعث بننے والے عوامل کا سامنے ہوتے ہی ذہن میں غیرحقیقی خیالات آنے لگتے ہیں۔اس طرح سائیکل دوبارہ شروع ہو جاتا ہے ۔

phobias, self help in case of phobias, become aware of your phobias

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x