نیند کی سائنس

2

نیند کی سائنس

نیند ہمارے معمول کا ایک اہم حصہ ہے ۔ ایک اندازے کے مطابق ہم اپنی زندگی کا ایک تہائی حصہ سوتے ہوئے یا اس کی کوشش میں گزارتے ہیں۔ یہ وقت کا ضیاع نہیں بلکہ جسم کی بنیادی ضرورت ہے اورجینے کے لئے یہ خوراک اورپانی کی طرح ہی اہم ہے۔

کیا آپ نے کبھی غورکیا کہ بیداری سے نیند کی طرف جانے کے مرحلے میں کیا کچھ ہوتا ہے یا اس کے پس پردہ سائنس کیا ہے؟ آئیے اسے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

دماغ کے کچھ حصوں کا اس عمل کے ساتھ خاص تعلق ہے۔ مثلاً ہائپوتھیلمس کے مرکزی حصے میں ہزاروں کی تعداد میں عصبی خلیے ہوتے ہیں۔ جونہی ہم آنکھیں بند کرتے ہیں یا ماحول میں روشنی کم ہوتی ہے تویہ خلیے دماغ کی گہرائی میں موجود ایک غدے کو پیغام دیتے ہیں کہ وہ میلاٹونن نامی ہارمون خارج کرے۔ اس سے نیند کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔ فرد پہلے کچی نیند میں جاتا ہے۔ پھرجوں جوں اس ہارمون کی مقداربڑھتی ہے، وہ نیند کے دیگرمراحل عبورکرتا جاتا ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ ہائپوتھیلمس اوربرین سٹیم میں موجود خلئے ایک کیمیائی مادہ بھی بنانے لگتے ہیں۔ یہ مادہ دماغ کے ان حصوں کی سرگرمی کوکم کرتا ہے جو فرد کو جگا ئے رکھتے ہیں۔ اس سے ہم سونے کی طرف مزید مائل ہوتے ہیں۔

درجہ حرارت پرقابو

جسم میں قدرتی طورپراپنے درجہ حرارت کوقابو کرنے کا نظام موجود ہے۔ تاہم جب ہم اوپر ذکرکردہ ہارمون اورکیمیائی مادے کی سرگرمی کے باعث نیند کے لئے تیارہوجاتے ہیں توبرین سٹیم پٹھوں کو ڈھیلا ہونے کا پیغام دیتا ہے۔ ان کا حرکت نہ کرنا جسم کوپرسکون حالت میں لے آتا ہے۔ نتیجتاً ہماری آنکھیں حرکت کرنا بند کردیتی ہیں، جسم کا درجہ حرارت کم ہوجاتا ہے اوردل کی دھڑکن اورسانسیں بھی سست ہوجاتی ہیں۔ آپ نے سنا ہو گا کہ نیند سے متعلق ماہرین سونے کے اوقات کے قریب ورزش وغیرہ سے اجتناب کرنے کو کہتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس سے جسم کا درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے جونیند نہ آنے کا باعث بن سکتا ہے۔

دماغی سرگرمیاں تیز

نیند کا ایک مرحلہ ایسا بھی ہے جس میں دماغی سرگرمیاں تیزہوجاتی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس دوران دماغ سیکھنے، نئی یادیں بنانے، توجہ مرکوزکرنے اورردعمل ظاہرکرنے کی صلاحیتوں کوبہتربنانے پرکام کررہا ہوتا ہے۔ اس عمل کے لئے اے سی ایچ نامی کیمیائی مادہ خارج ہوتا ہے۔ اس کے باعث ہماری آنکھیں بند پپوٹوں کے پیچھے مسلسل دائیں بائیں حرکت کرنے لگتی ہیں،سانسیں بے قاعدہ اورتیز ہوجاتی ہیں، دل کی دھڑکن اوربلڈ پریشربڑھنے لگتا ہے۔ اس کو آرای ایم  کہتے ہیں اورزیادہ ترخواب اسی مرحلے میں آتے ہیں۔

روشنی اورسخت جسمانی سرگرمیوں کے علاوہ نیند کو متاثرکرنے والے عوامل میں ذہنی تناؤ، ماحول تبدیل ہونا اورکیفین یا مخصوص ادویات کا استعمال وغیرہ بھی قابل ذکرہیں۔ نیند کے تمام مراحل سے گزرنے کے بعد ہی جسم کی ضروری مرمت ہوتی ہے اورفرد جاگنے پرتروتازہ محسوس کرتا ہے۔ اس لئے ہرشخص کو چاہئے کہ اپنی ضرورت کے مطابق نیند پوری کرے۔

Science of sleep, sleep wake cycle, sleep hormones, rapid eye movement sleep

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x