قربانی کا گوشت….کم کھائیں‘صحت پائیں

1.232K

عید الاضحیٰ وہ تہوار ہے جس پر ہر خاص و عام کو کھانے کے لئے اچھا خاصا گوشت میسرہوتا ہے۔اس موقع پرکسی کو گوشت کھانے سے منع کرنا رنگ میں بھنگ ڈالنے کے مترادف ہے ۔بنیادی بات یہ ہے کہ کچھ مخصوص بیماریوںکے شکار افراد کے علاوہ کسی کو اس موقع پر گوشت کھانے سے منع نہیں کیا جاتا ، تاہم یہ مشورہ ضرور دیا جاتا ہے کہ ایسا کرتے وقت اعتدال کا دامن مت چھوڑیں۔گوشت کی اہمیت و افادیت، اسے کھانے کے سلسلے میں احتیاطوں اور محفوظ کرنے کے طریقوں سے مزین ایک مفید اور معلوماتی تحریر صباحت نسیم کے قلم سے

عیدالاضحی اور وافرمقدار میں گوشت ‘دو ایسے نام ہیں جو ہمیشہ ایک ساتھ ہمارے ذہنوں میں ابھرتے ہیں۔عید کے موقع پر لوگ جہاں قربانی کا فریضہ ادا کر کے سنتِ ابراہیمیؑ ادا کرتے ہیں‘ وہیں گوشت کے نت نئے پکوان بھی تیار کرتے ہیں۔عید قرباں پر چونکہ گوشت کا استعمال بڑھ جاتا ہے اس لئے ضروری ہے کہ اس کے مختلف پہلوﺅں پر ذرا تفصیل سے بات کی جائے ۔

گوشت کے غذائی اجزائ
گوشت کے غذائی اجزاءکے بارے میں جب شفا انٹرنیشنل ہسپتال کی ماہر غذائیات زینب بی بی سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ سرخ گوشت کا اہم جزوپروٹین ہے جو انسانی جسم کی اہم ضرورت ہے:
” اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جسم میں موجود ہر خلیے اور ٹشو میں پروٹین موجود ہوتی ہے۔لہٰذا اس کے حصول کے لئے گوشت کھانا چاہئے تاہم اس کے لئے صرف گوشت پر انحصار ضروری نہیں‘ اس لئے کہ پروٹین دیگر ذرائع مثلاً دالوں ¾ سبزیوں اور پھلوں میں بھی موجود ہوتی ہے۔“
ان کا مزید کہنا تھا کہ گوشت میں ضروری معدنی اجزاءبھی مناسب مقدار میں پائے جاتے ہےں جو صحت کے لئے بہت مفید ہیں۔ مثلاًاس میں موجود میگنیشیم ہڈیوں کو مضبوط کرتا اور انہیں بھربھرے پن (اوسٹیو پروسس )سے بچاتا ہے۔اس میں موجود زنک قوتِ مدافعت میں اضافہ کرتا اور پٹھوں کی تعمیرا ور بڑھوتری میں مدد دیتا ہے۔

محفوظ کرنے کے طریقے
آج کھانے پینے کی اشیاءکو خراب ہونے سے بچانے کے لئے فریج اورفریزرز کا استعمال عام ہے تاہم گوشت اور کھانے کی دیگر چیزوں کو قدیم زمانوں سے محفوظ کیا جارہا ہے۔ آج بھی بہت سے علاقوں اور گھروں میں فریج کی سہولت دستیاب نہیں۔آخر یہ لوگ گوشت کو کیسے محفوظ کرتے ہیں؟جب یہ سوال راجن پور(پنجاب) کی عالیہ اشفاق سے دریافت کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ زیریںپنجاب کے بہت سے علاقے بجلی کی سہولت سے محروم ہیں۔ایسے میں ان کے ہاں گوشت کوپورے سال تک محفوظ رکھنے کے لئے دو طریقے استعمال کئے جاتے ہیں:
”پہلا طریقہ یہ کہ گوشت کو کاٹ کر چربی اور نمک کے ساتھ ابال لیا جائے۔ اس کے بعد ہم لوگ اسے رسی میں پرو کر جالی کے کپڑے میں لپیٹ دیتے ہیں ۔جب یہ مکمل طور پر خشک ہو جائے تو اسے کھلے منہ والے پتیلے میں رکھ دیا جاتاہے اور ضرورت کے مطابق استعمال کیا جاتا ہے۔دوسرے طریقے میں صرف گوشت کو دیسی گھی یا چربی میں تل لیا جاتا ہے اور اس کے بعد اسے اوپر بتائے گئے طریقے سے خشک اور پھر استعمال کیا جاتا ہے۔ “
یہ سوال بھی دلچسپی کا حامل ہے کہ ٹھنڈے علاقوں میں لوگ گوشت کو محفوظ کرنے کے لئے کیا کرتے ہیں ۔ اس کی وضاحت کرتے ہوئے سکردو کے رہائشی احسان دانش کہتے ہیں :
”شمالی علاقہ جات میں خزاں کے آخر میںاور سردیوں کے آغاز پر ’لوسر‘ کے نام سے ایک تہوار منایا جاتا ہے۔اس میں لوگ شدیدسردیوں میں استعمال کے لئے اپنے جانور ذبح کرتے ہیں۔ ٹھنڈک کی وجہ سے گوشت جلد خراب نہیں ہوتالیکن اسے زیادہ عرصے کے لئے محفوظ کرنا ہو تو اس کے لئے برف میں چھوٹے چھوٹے خانے بنالئے جاتے ہیں جنہیں دوسرے لفظوں میں قدرتی فریزر کہا جاسکتا ہے۔ ان ڈبوں میں گوشت کو محفوظ کر لیا جاتا ہے۔“
احسان دانش کا کہنا ہے کہ اگر عیدالاضحی گرمیوں کے آغاز میں آئے تو قربانی کے گوشت کو نمک اور سرکہ لگا کر دھوپ میں خشک کر لیا جاتا ہے ۔اس کے بعد اسے حسب ضرورت پکوانوں میں استعمال کیا جاتا ہے یا پھرخشک کھایا جاتا ہے۔“
مختلف ٹی وی چینلز کے ساتھ وابستہ شیف زبیدہ طارق المعروف زبیدہ آپاسے جب پوچھا گیا کہ قربانی کے گوشت کو صاف ستھرا اور جراثیم سے محفوظ کیسے رکھا جائے تو ان کا کہنا تھا :
”جس طرح قربانی ہمارا دینی فریضہ ہے‘ اسی طرح اس موقع پر صفائی کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔ ہمیں چاہئے کہ قربانی سے دو دن پہلے نیم کے پتے ابال کر اس پانی سے قربانی والی جگہ کو اچھی طرح سے دھولیںتاکہ قربانی کا گوشت مکھیوں اورمچھروںسے محفوظ رہے۔ اسی طرح اگر گھر کے مرکزی دروازے کے قریب ایک پیالے میں پانی،سفید سرکہ، لیموں کا رس اور گلاب کی پتیاںڈال کر رکھ دیں توگھر گوشت کی بو سے محفوظ رہے گا۔ گوشت کو دیر تک تازہ رکھنے کے لئے اس پر آٹے کی بھوسی کا لیپ کرکے فریزکر لیں اور جب استعمال کرنا ہو تو اسے دھو لیں۔ ایسا کرنے سے آپ کو گوشت ایسا لگے گاجیسے ابھی تازہ منگوایا گیا ہو۔“
ان کے مطابق قربانی کا گوشت رکھنے سے پہلے فریج یا فریزر کو لازماً صاف کرنا چاہئے۔ اس کے لئے ایک پیالے میں پانی ڈال کر اس میںمیٹھا سوڈا اور واشنگ پاو¿ڈر شامل کریں اور اس سے فریج یا فریزر کواچھی طرح دھو لیں۔ اس کے بعد اسے ململ کے صاف کپڑے سے اچھی طرح خشک کر لیں اور ایک پیالے میں میٹھا سوڈا ڈال کر فریج میں رکھ دیں۔اس طرح گوشت جراثیم سے اور فریج فریزر گوشت کی بو سے محفوظ رہیں گے ۔
زبیدہ آپا نے بتایا کہ گوشت کو تین گھنٹے کے اندر اندر بانٹ دےنا چاہئے اورجسے محفوظ کرنا ہو اسے ایک پاو یا زیادہ سے زیادہ آدھا کلوگرام کے پیکٹوں میں محفوظ کر نا چاہئے۔ انہوں نے ایک اور پہلو کی طرف بھی اشارہ کیا:
”بعض خواتےن اخباری کاغذ میں گوشت لپیٹ دیتی ہیں جس سے اخبار کی سیاہی گوشت پر آجاتی ہے لہٰذاایسا کرنے سے پرہیز کرنا چاہئے۔ اس کے علاوہ جن پکوانوں کے لئے پیکٹ بنائے گئے ہوں‘ ان پر ان کے نام بھی درج کردیے جائیں تو استعمال کے وقت آسانی رہتی ہے۔“
ان کا کہنا ہے کہ گوشت محفوظ کرنے کے لئے سفید یا بے رنگ شاپنگ بیگ استعمال کریں‘ اس لئے کہ کالے بیگ صحت کے لئے نقصان دہ ہیں۔ چونکہ لوڈشیڈنگ اور بار بار فریزر کھولنے سے گوشت کا معیار برقرار نہیں رہتا‘ اس لئے اسے تین ماہ کے اندر اندر استعمال کر لینا چاہئے اور اگر محسوس ہو کہ گوشت بدبودار ہوچکا ہے تواسے فوراً ضائع کر دینا چاہئے۔ فریزر میں گوشت ہمیشہ نچلے خانے میں رکھیں تاکہ کھانے کی باقی اشیاءاس کی بو اور پانی سے متاثر نہ ہوں۔“

مریض اور گوشت
شفا انٹر نیشنل فیصل آباد کے ماہر امراض قلب ڈاکٹر نعیم اصغر کا کہنا ہے کہ عید کے دن ہر شخص کا دل چاہتاہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ گوشت کھائے لیکن عام لوگوں کو بالعموم اوردل اور بلڈپریشر کے مریضوں کو بالخصوص اپنی اس خواہش پر تھوڑا سا قابو پانا چاہئے:
”ان مریضوں کے لئے دن میں دو بوٹیوں سے زیادہ گوشت کھانا نقصان دہ ہے۔اس کے علاوہ انہیں یہ کوشش بھی کرنی چاہئے کہ کم آئل اور کم مصالحہ جات میں پکا ہوا گوشت کھائیں ورنہ وہ شریانوں کی تنگی اور غیر مفیدکولیسٹرول میں اضافے کا باعث بن کر ان کی اور ان کے اہل خانہ کی عید کا مزہ کر کراکر سکتا ہے۔“
ماہر غذائیات زینب بی بی کا کہنا ہے کہ تھلیسیمیا کے مریضوں کو سرخ گوشت بالکل نہیں کھاناچاہئے‘ اس لئے کہ اس میں آئرن کی مقدار زیادہ ہوتی ہے جو ان کے لئے سخت نقصان دہ ہے۔ اگر ان کا دل بہت زیادہ چاہ رہا ہو تو انہیں گوشت کے ساتھ چائے یا کافی ضرور پینی چاہئے‘ اس لئے کہ اس میں موجود کیفین آئرن کو جسم میں جذب ہونے سے روکتی ہے۔مزید برآں گردوںکے مریض بھی سرخ گوشت کھانے سے اجتناب کریں۔
یاد رکھنے کی باتیں

لیموں کا استعمال
قدیم زمانوں سے لیموں کا رس نہاری‘پائے اورحلیم وغیرہ کے ساتھ استعمال کیا جارہا ہے۔گوشت اور سالن پر لیموںنچوڑ کرکھائیے‘ اس لئے کہ ےہ ہاضمے کو درست رکھنے میںمعاون ثابت ہوتا ہے۔ مزےد برآں اس کا رس جسم میں چکنائی کو جمنے سے بھی روکتا ہے۔ جب بریانی ےاپلاﺅ پکائیں تو دم دےتے وقت ایک ےا دو لیموںچھلکوں سمیت کاٹےں اوراس کے گول یا چوکور قتلے چاولوں کے اوپر ڈال دیں۔ اس سے چاولوں کاذائقہ بہت اچھا ہوگا۔

صفائی کاخیال
قربانی کےلئے قصاب کے اوزار‘ گھروں میں گوشت کاٹنے کی چھرےاں اور گوشت رکھنے کے برتن صاف ستھرے ہونے چاہئےں۔ اسی طرح قربانی کے گوشت کو مکھیوں،مچھروں اور گرد سے بچانے کے لئے ہمیشہ ڈھانپ کر رکھیں۔ہمارے ہاں بعض لوگوں میں ایک خیال یہ بھی پایا جاتا ہے کہ قربانی کے گوشت کو دھونا نہیں چاہئے۔ یہ ایک بالکل غلط اور بے بنیاد تصور ہے۔ گوشت ہمیشہ دھو کر ہی استعمال کرنا چاہئے۔

کھانے میں احتیاط
٭بعض گھرانوں میں قربانی کے فوراً بعد کلیجی کو پکا لیا جاتا ہے جسے بچے بڑے شوق سے کھاتے ہیں۔ پکانے سے پہلے اس کی باریک سفید جھلی اتارکر دےکھئے کہ اس (کلیجی) پر کوئی داغ ےاسوراخ تو نہیں۔ اگر ایسا ہو تو اسے استعمال مت کیجئے۔
٭ زیادہ دیر تک گوشت کو فریز کرنا یا فریز شدہ گوشت کو ایک دفعہ استعمال کرنے کے بعدبار بار فریز کرنا درست نہیں۔
٭ گوشت کو ہمیشہ ڈھانپ کر اورہلکی آنچ پر پکائیں تاکہ اس کے غذائی اجزاءضائع نہ ہوں۔اچھی طرح سے نہ پکا ہوا گو شت بیماری کا باعث بنتا ہے۔
٭ خستہ ران بنانے کا آسان طریقہ بتاتے ہوئے زبیدہ آپا نے کہا کہ ران کے گوشت کو مصالحہ لگانے سے پہلے کانٹے سے اچھی طرح کچوکے دیں تاکہ مصالحہ اندر تک دھنس سکے۔ اس کے بعد اس پر مصالحہ لگا کرچھ سے سات گھنٹوں کے لئے رکھ دیں۔ اس پرسرکہ ضرور لگائیں‘ اس لئے کہ اس سے ران خستہ اورمزیدارہوجائے گی۔
بڑی عید کے دن سلادکا اہتمام ضرورکیجئے۔اس کے لئے مولی‘پیاز‘ہری مرچ‘ سلاد کے پتے‘پودینہ ‘ گاجراوربندگوبھی کاٹ کر ڈش میں سجائےے اور اس پر ہلکا سانمک چھڑک کر کھانے کی میز پر چن دیجئے۔سلاد نہ صرف غذا کو متوازن بنائے گا بلکہ اس سے گوشت بھی ذرا کم کھایا جائے گا۔کھانے کے ساتھ دہی ضرور رکھیے۔ خواتین اپنی سہولت کے لئے بقرعید پر تین چاردن کامینیو پہلے سے بنا کر رکھ سکتی ہیں۔ اس طرح وہ پورے گھرانے کو لذیذ اور متوازن کھانوں سے لطف اندوز ہونے کا موقع فراہم کرسکیں گی ۔
زیادہ گوشت‘ زیادہ بیماریاں
(زینب بی بی‘ ماہرغذائیات‘ شفا انٹرنیشنل اسلام آباد)
زیادہ گوشت کھانے سے مندرجہ ذیل پیچیدگیاں پیدا ہوسکتی ہیں:
٭ جوڑوں کا درد لاحق ہو سکتا ہے اور جو افراد پہلے سے جوڑوں کی تکلیف میں مبتلا ہوں‘ان کے مرض میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
٭ موٹے ریشے کا گوشت دانتوں اور مسوڑھوں کی سوجن کا باعث بنتا ہے۔
٭ گوشت کے بکثرت استعمال سے جگر کے امراض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
٭ وہ افراد جو گوشت کا استعمال زیادہ کرتے ہیں‘ ان کے ہائی بلڈ پریشر میں مبتلا ہو نے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔
٭ گائے کے گوشت کازیادہ استعمال امراض قلب کا سبب بن سکتا ہے ۔
٭ جسم میں غیر مفید کولیسٹرول کی مقدار میں اضافہ ہوتاہے جو کئی بیماریوں کی جڑ ہے۔
٭ موٹاپے کا باعث بنتا ہے۔
٭ گوشت میں موجود پروٹین کی زیادتی جگر اور گردوں کے افعال کو متاثر کرتی ہے ۔

مزید پڑھیں/ Read More

متعلقہ اشاعت/ Related Posts

دودھ میں ملاوٹ آج کل ہرجگہ موضوع بحث ہے اور یہ معاملہ عو

لاہور‘ فیصل آباد اور اسلام آباد میں بڑے بڑے ہوٹلوں اور

Mexican Burritos تیاری کا وقت:20منٹ پکانے کا وقت:25منٹ کیلوریز:289