دئیے ہوئے لفظ پرشاعری

34

بچپن
ممکن ہے ہمیں گاؤں بھی پہچان نہ پائے
بچپن میں ہی ہم گھر سے کمانے نکل آئے
شاعر:منور رانا، انتخاب:تنویراختر‘ پشاور
وہ گلیاں جن سے وابستہ ہیں یادیں میرے بچپن کی
میرے بھوکے قدم اب ان کے ذروں کو ترستے ہیں
شاعر:دیوندر سیتارتھی، انتخاب: سعید احمد، راولپنڈی

بچپن میں کسی بات پر ہم روٹھ گئے تھے
اس دن سے اسی شہر میں ہیں گھر نہیں جاتے
شاعر:منور رانا، انتخاب:سمیرا آفتاب‘ ٹوبہ ٹیک سنگھ
مجھ کو یقیں ہے سچ کہتی تھیں جو بھی امی کہتی تھیں
جب میرے بچپن کے دن تھے چاند میں پریاں رہتی تھیں
شاعر:جاوید اختر، انتخاب:فہیم اقبال‘ کراچی
میرے بچھڑوں کو مجھ سے ملا دے کوئی
میرا بچپن کسی مول لا دے کوئی
شاعر: سندرشن فاخر، انتخاب:سلیم محمود‘ اسلام آباد

عدیم اب تک وہی بچپن، وہی تخریب کاری ہے
قفس کو توڑتا ہوں پرندے چھوڑ دیتا ہوں
شاعر: عدیم ہاشمی، انتخاب:طاہر منیر‘بولہ شریف
وہ ماتھے کا مطلع ہو کہ ہونٹوں کے دو مصرعے
بچپن کی غزل ہی میری محبوب رہی ہے
شاعر:بشیر بدر، انتخاب:طاہرہ جبین‘ فیصل آباد

کھیلنے کی عمر تھی مزدوریاں کرتا رہا
ہائے وہ بچپن کہ جس میں بچپنہ کوئی نہ تھا
شاعر:حسیب جمال، انتخاب:میاں کاشف جمال‘ اٹک
مگر مجھ کو لوٹادو بچپن کا ساون
وہ کاغذ کی کشتی وہ بارش کا پانی
شاعر:سندرشن فاخر، انتخاب:طاہر اقبال‘تلہ گنگ
بچپن کی وہ امیری جانے کہاں کھو گئی
جب پانی میں ہمارے جہاز چلا کرتے تھے
شاعر: نامعلوم، انتخاب:نسیم خان‘ کوئٹہ
عمررواں پھر نہیں مسکرائی بچپن کی طرح
میں نے گڑیا بھی خریدی،کھلونے بھی لے کر دیکھے
شاعر: نامعلوم، انتخاب:شائستہ ارشد، سیالکوٹ
جتنی بری کہی جاتی ہے اتنی بری نہیں ہے دنیا
بچوں کے اسکول میں شاید تم سے ملی نہیں ہے دنیا
شاعر:ندا فاضلی ، انتخاب:سندس اسلم‘ مظفرآباد
میرا بچپن تھا مرا گھر تھا کھلونے تھے میرے
سر پہ ماں باپ کا سایہ بھی غزل جیسا تھا
شاعر: نامعلوم ، انتخاب:ظفراقبال‘ ڈیرہ غازی خان
گھر کا بوجھ اٹھانے والے بچے کی تقدیر نہ پوچھ
بچپن گھر سے باہر نکلا اور کھلونا ٹوٹ گیا
شاعر:منور رانا، انتخاب:شہلا خان، پشاور

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x