پودے اورالرجی

 پودے اورالرجی

کچھ پودے خوبصورتی میں اضافے کے لئے گھروں کے باغیچوں میں بہت شوق سے لگائے جاتے ہیں لیکن وہ الرجی کا باعث بنتے ہیں۔ اسی طرح کچھ پودے الرجی کا باعث نہیں بنتے لیکن انہیں غلط طورپراس کا ذمہ دارسمجھا جاتا ہے۔ ان پودوں کی تفصیل درج ذیل ہے

پھولدار پودے

بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ پھولدارپودے الرجی کا سبب بنتے ہیں‘ حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے پولن وزن میں بھاری ہوتے ہیں اورآسانی سے فضاء میں بکھر کرمعلق نہیں رہ سکتے۔ ان کے پولن کو دوسرے پودوں تک پھیلانے میں شہد کی مکھیاں اور دیگرحشرات الارض اہم کردارادا کرتے ہیں‘ اس لئے ان کی وجہ سے الرجی کم ہوتی ہے۔ البتہ ان پودوں کے پھولوں کو ناک کے قریب لے جا کر سونگھا جائے تو وہ الرجی کا سبب بن سکتے ہیں۔ اس لئے جن لوگوں کو پولن الرجی ہو‘ وہ ان سے ذرا سے دوررہیں اوراگرانہیں سونگھنا ہوتو کم ازکم 10سنٹی میٹر کا فاصلہ ضروررکھیں۔

جنگلی جھاڑیاں

گلاب، گیندا، گل داؤدی اورگل نرگس کا شمارگھروں میں لگائی جانے والی جنگلی جھاڑیوں میں کیا جاتا ہے۔ یہ باغیچوں کو خوبصورتی بخشنے کے ساتھ ساتھ گھروں کو خوشبودار بنانے میں بھی اہم کردارادا کرتے ہیں‘ تاہم سانس کی بیماریوں میں مبتلا افراد کو چاہئے کہ انہیں گھرمیں لگانے سے اجتناب کریں۔

پھلداردرخت

پھلداردرختوں کے پولن بھی وزنی ہوتے ہیں اورانہیں بھی شہد کی مکھیاں اورکیڑے ہی پھیلاتے ہیں۔ ان کے پولن کی پیداواربھی کم ہوتی ہے لہٰذا ان سےالرجی ہونے کا امکان کم ہوتا ہے۔

سبزیاں

بیل دار سبزیوں کے گروپ کو کیوکربِٹس کہا جاتا ہے۔ اگران کی تعداد زیادہ ہو گی توان پرپھول بھی زیادہ لگیں گے اورنتیجتاً پولن بھی زیادہ ہوں گے۔ اس حصے میں کام کرنے والوں کو الرجی کی شکایت ہوسکتی ہے لہٰذا اس دوران ماسک وغیرہ ضروراستعمال کریں۔

جنگلی گھاس

یہ گھروں میں عام لگائی جانے والی گھاس ہے جس پرپھول لگتے ہیں۔ ان پھولوں میں سے پولن کے ساتھ باریک ٹشوزبھی نمودارہوتے ہیں جو الرجی کا باعث بنتے ہیں۔ اس کا علاج یہی ہے کہ برسات آنے سے پہلے اس گھاس کی کٹائی کر دیں تاکہ ان پرپھول نہ اگ سکیں۔ ایسے میں ان سے الرجی نہیں ہوگی۔

plants and allergy, flowering plant, fruit bearing plants

LEAVE YOUR COMMENTS